جاگیردارانہ نظام کیا ہے؟

استبدادی نظام حکومت، آمریت یا جاگیردارانہ نظام حکومت سے مراد معاشرے کے چند ایسے لوگوں کا طاقت پر قبضہ کر لینا ہے جس سے وہ اپنی پسند یا نا پسند کے مطابق حکومتی اداروں یا حکومتی نظام کو براہ راست خود چلاتے رہیں یا حکومتی اداروں کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کریں۔ اس نظام پر سب سے بڑی ضرب فرانسیسی مفکر روسو نے لگائی۔ روسو نے اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ میں اس نظام پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح بڑے بڑے جاگیرداروں، سیکیورٹی فورسز کے افسروں، سیاست دانوں اور مذہبی راہنماؤں کا آپس میں سوشل کنٹریکٹ ہوتا ہے کہ عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے کیسے اپنے مخصوص مفادات کی نگہداشت کرنی ہے اور کیسے ریاستی طاقت کو اپنی مٹھی میں رکھنا ہے۔
ایلیٹ کلاس کے اس سوشل کنٹریکٹ کے تحت یہ لوگ حزب اقتدار میں بھی ہوتے ہیں اور حزب مخالف میں بھی، اس لیے کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے حوالے سے کبھی ایک دوسرے پر پکا ہاتھ نہیں ڈالتے۔ ان بڑے لوگوں کے مابین ہونے والی آپسی لڑائیاں محض نورا کشتی ہوتی ہیں اور عوام کو آپس کی لڑائی کا صرف تاثر دیا جاتا ہے۔ یہ عناصر لڑاؤ اور حکومت کرو کے اصول پر قائم رہتے ہیں، عوام ان کی ترجیح نہیں بلکہ ذاتی اور طبقاتی مفادات ان کی ترجیح ہوتے ہے۔
برصغیر میں ان عناصر کو جب معلوم ہو گیا کہ اب پاکستان بن کے رہے گا تو جاگیر داروں کی پارٹی یونینسٹ کو چھوڑ کر کھنچ کھنچ کر مسلم لیگ میں آنے لگے اور پارٹی پر کچھ ایسا قبضہ کیا کہ قیام پاکستان کے صرف دس سال بعد مسلم لیگ اپنے منشور اور ایجنڈے سے ہٹ گئی اور اس کا شیرازہ بکھر گیا اور پاکستان میں کوئی قومی لیول کی جماعت نہ رہی جو پاکستانی معاشرے میں توازن برقرار رکھ سکے۔ ان لوگوں نے پاکستانی معاشرے میں ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ سارا سیاسی اور معاشرتی نظام ان کے تابع مہمل ہو کے رہ گیا۔
سیاست، بیوروکریسی، دیگر طاقتور حلقے اور اب میڈیا جاگیردارانہ نظام کا پرتو لیے ہوئے ہیں۔ اس نظام کے پروردہ لوگوں کو بجا طور پر طفیلیے کہا جا سکتا ہے، یعنی وہ کرتے کچھ نہیں ہیں لیکن مراعات سب سے زیادہ لیتے ہیں۔ اور تو اور عوام بھی جاگیردارانہ نظام کا حصہ بن چکے ہیں، یعنی ہماری اکثریت محنت کی بجائے شارٹ کٹ طریقے سے ترقی کی منازل طے کرنا چاہتی ہے۔ اگر کوئی جسمانی طور پر سمارٹ ہے یا اگر کسی کے پاس دوسرے سے بہتر مادی وسائل جیسے گاڑیاں، فارم ہاؤسز اور دولت ہے تو وہ خود کو دوسروں سے افضل تصور کرتا ہے خواہ ذہنی طور پر وہ کتنا ہی پست کیوں نہ ہوں۔
یقین نہ آئے تو سرکاری نوکریوں کے خواہش مندوں سے کچھ گفتگو کر کے دیکھیں، اکثریت کا ذہن پڑھنے پر آپ کو یہی معلوم ہو گا کہ وہ کام نہ کرنے اور بڑھاپے تک باقاعدگی سے ملنے والے ماہانہ وظیفے کے طلبگار ہیں اور معاشرتی خدمت دور دور تک ان کی ترجیح نہیں ہو گی۔ ہماری سوچ، اپروچ اور خواہشات جاگیردارانہ مزاج کا پرتو لیے ہوئے ہیں۔ توہم پرستی، لالچ، شارٹ کٹ سے ترقی حاصل کرنا، محنت اور جدوجہد سے دور رہنا، مخالفین کی پگڑیاں اچھالنا، محنت کرنے والوں کو کمی کمین سمجھنا، ایماندار کو بے وقوف سمجھنا، گھٹیا خواہشات کی گھٹیا طریقے سے پیروی کرنا، دوسروں کی خوشیوں کا قتل کر کے خوشی حاصل کرنا، قانون کو پاؤں تلے روندنا، دوسروں کے مال پر نظر رکھنا، فرقہ پرستی اور نسل پرستی کو فروغ دینا، ذات پات اور طبقاتی بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم اور تعظیم، اجتماعی کی بجائے انفرادی سوچ کو فروغ دینا، طاقت اور اختیارات کا غلط اور مفاداتی استعمال کرنا، مذہب کی ظاہری عبادات جیسے نماز، حج، روزہ وغیرہ پر ریاکارانہ عمل کرنا جبکہ اصل تعلیمات جو احترام آدمیت، حقوق العباد سے متعلق ہوں کی نفی کرنا اور منافقانہ طرز عمل یہ سب جاگیردارانہ رویے ہیں۔
جبکہ اسلام نے ان فاسدانہ خیالات کو رد کر دیا تھا۔ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا کا ڈر رکھتا ہے، جو حق اور باطل میں امتیاز کرتا ہو۔ خدا کا ڈر رکھنے والا اور حق و باطل میں امتیاز رکھنے والا وہ ہے جو نیکی اور بدی، سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکتا ہو، جو نیکی اور سچ کا ساتھ دیتا ہو۔ جبکہ ہم اس قرآنی حکم کے برعکس صاحب عزت اس شخص کو سمجھتے ہیں جو صاحب دولت و اختیار ہو خواہ دولت و اختیار جائز ذرائع سے ہوں یا ناجائز ذرائع سے۔
میں ایک سیلف میڈ بیرون ملک مقیم پاکستانی بزنس مین ہوں لیکن میرا اور میرے تمام بھائیوں کا دل آج بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے۔ اپنے بڑے بھائی چودھری نعیم نذر کی راہنمائی اور قیادت میں نذر اینڈ نذر فاؤنڈیشن کے نام سے ہمارا ادارہ فلاحی، سماجی اور سیاسی شعور کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کی سرگرمیوں کا آغاز ہم نے اپنے آبائی علاقے پاکپتن سے کیا ہے اور الحمد للہ پچھلے دو سال میں اب تک مختلف پراجیکٹس بشمول تین سو جوڑوں کی اجتماعی شادیاں، دس ایمبولینس، ہسپتال کا قیام، راشن کی تقسیم، تعلیمی وظائف، آئی ٹی، سو گھروں کی تعمیر، غریب و نادار لوگوں کے علاج معالجے، سینکڑوں غریب افراد کو حج و عمرہ کی ادائیگی سمیت دیگر مختلف فلاحی کاموں کے لئے تیس کروڑ روپیہ لوگوں کی بہبود پر خرچ کر چکے ہیں۔
ہم یہ سب اللہ کی رضا اور مٹی کا قرض اتارنے کے لئے کر رہے ہیں۔ نہ ہمیں کوئی کامیابی کا دعویٰ ہے نہ ہم یہ سب کسی اور مقصد کے لئے کر رہے ہیں۔ ہم تو بس کھڑے پانی کے جوہڑ میں اپنے حصے کے کنکر پھینک رہے ہیں اور اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی نیک کام کو جدوجہد اور نیک نیتی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے نہ کہ کہ مادی کامیابی کی بنیاد پہ پرکھنا چاہیے۔ سقراط نے اپنے نظریے کی سچائی پر قائم رہنے کے لئے زہر پی کر اپنی جان دی۔
آج تاریخ سقراط کو اس کی جدوجہد کے حوالے سے جانتی ہے جبکہ اس کے طاقتور مخالفین کا نام تک کسی کو یاد نہیں۔ ہمارا بھی یہی نظریہ ہے کہ دنیا میں آئے ہیں تو اگر خدا نے کچھ توفیق دی ہے تو کچھ کر کے اور ایک اچھی روایت اور وراثت چھوڑ کے جائیں اور میرے خیال میں ہر بندے کو اپنے اپنے حصے کی اچھائیاں بقدر توفیق معاشرے میں پھیلانی چاہئیں۔ ہم نبی آخری الزمان کی امت ہیں اور ان کی مخالفت سب سے زیادہ مکہ کے و ڈیروں اور اجارہ داروں نے کی کیونکہ آپ سرکار کی تعلیمات سے ان کی سیاسی اجارہ داری کو خطرہ تھا۔
ہم حضور کے امتی ہیں اور اگر عشق رسول کا ہمیں دعویٰ ہے تو پھر نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں باطل کے بتوں کو پاش پاش کر نے میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا کنٹری بیوشن لوگوں میں شعور بیدار کر کے علاقے کے وڈیروں، اجارہ داروں اور جاگیرداروں کا خوف لوگوں کے اندر ختم کرنا ہے۔ ہم لوگوں کو سماجی اور معاشی سطح پر جوڑنے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ جاگیر دارانہ نظام معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرتا ہے۔
ہمارا معاشرہ اسی نظام کے زیر اثر ہے۔ کیا ہمارا نظام تعلیم جو مدرسوں، سرکاری سکولوں، متوسط طبقے کے سکولوں اور اشرافیہ کے سکولوں پر مبنی ہے اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نصاب ہے معاشرے کو جوڑنے کا سبب بنے گا یا معاشرے کی توڑ پھوڑ کا؟ اسی طرح غریبوں کی کچی آبادیاں، متوسط طبقے کی علیحدہ آبادیاں اور اشرافیہ کے لئے الگ آبادیاں معاشرے کو جوڑنے کا سبب بنیں گی یا دوریاں پیدا کرنے کا سبب بنیں گی؟ یہی تقسیم ہمیں اپنے معاشرے کے ہر شعبہ میں ملے گی، یہی وجہ ہے کہ ہم دن بدن پستی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ سب جاگیردارانہ نظام کی نحوستیں ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں اور سوچ کو بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ محنت، میرٹ اور قابلیت کو اپنے نظام میں جگہ دینا ہو گی۔ ہمیں ”میں“ سے نکل کر ”ہم“ کے دائرے میں آنا ہو گا۔ ہمیں پری ماڈرنزم نہیں بلکہ موجودہ پوسٹ ماڈرنزم کے زمانے کے طور طریقوں کو سیکھنا ہو گا۔ جدید دور میں پری ماڈرنزم اور قرون وسطٰی کے جاگیردارانہ نظام کے زیر اثر ترقی اور بہتری کے خواب دیکھنا۔ ایں محال است و، محال است و جنوں۔
