یونیورسٹی کے دن
انسان اس دنیا میں بے شمار خواہشات کے ساتھ آتا ہے وہ خواہشات وقت کے ساتھ بدلتی بھی ہیں اور بڑھتی بھی۔ اور یہ خواہشات شاید انسانی جبلت کا حصہ ہیں۔ والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ہر خواہش کو پورا کرے اور اس کے لیے وہ اپنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک طالب علم بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر خواہشات کا انبار یکجا کرتا ہے۔
ان خواہشات میں ایک اچھے گھر سے لے کر اعلٰی تعلیم تک کے خوبصورت خواب شامل ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی لائف تک پہنچنا ہر نوجوان لڑکا لڑکی کی
خواہش ہوتی ہے۔ یہ ایک سحر کی طرح ہوتی ہے جو ہم پر طاری ہو کر ہمیں حقیقت سے بے خبر کر دیتی ہے۔
کلاس کوریڈورز میں فرش پر چوکڑی مار کر بے تکلفی سے بیٹھ جانا، کنٹین پر ساتھیوں کے ساتھ موسم کی ہر رت کا مزہ لینا، ٹیچر کو دلائل سے امپریس کر کے سارا دن فخر سے گھومنا اور خود کو ڈیپارٹمنٹ کے ہیرو اور ہیروئن سمجھنا، بے تکلفیاں، خوش گپیاں، شرارتیں اور یونیورسٹی کے در و دیوار میں گونجتے قہقہے، سب ایک دن خواب بن کر یادوں کے صحرا میں دفن ہو جائیں گے اور پاس آؤٹ ہونے کے بعد جب آپ آخری بار مڑ کر یونیورسٹی کے گیٹ کو کراس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنا آپ اور باقی دوست وہیں ہنستے مسکراتے اور گھومتے نظر آئیں گے پھر آہیں ہوں گی، سسکیاں ہوں گی اور آپ بوجھل دل سے گھر کو لوٹ آئیں گے۔
اگلا دن بہت الگ ہو گا طویل بوجھل جیسے تپتی دھوپ کا پہلا جھٹکا لگے۔ پھر اپنی شناخت کی جد و جہد ہو گی جاب کیریر کی تلاش، پھر آپ کا چہرہ بھی بدل جائے گا جو یونیورسٹی میں تھا ویسا نہیں رہے گا۔
عملی زندگی کی حقیقت، چہرے کی معصوم لالی چھین لے گی اور چہرے پر گھر بار کے تفکر ڈیرے ڈال لیں گے۔ جدوجہد ہو گی کوشش ہو گی۔
یونیورسٹی کی اٹکھیلیاں سب بھول جائیں گی چہرے پر سنجیدگی ہو گی۔ جب عرصہ بعد آپ یونیورسٹی آؤ گے تو بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ کر دیوانہ وار اپنا آپ تلاش کرنے کی کوشش کرو گے یونیورسٹی کے حسین راستوں پر تنہا کھڑے ہو کر گم شدہ لمحوں کو بے قراری سے آوازیں دو گے لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے پھر کینٹین کا رخ کرو گے کہ شاید وہاں کچھ مل جائے لیکن ناکام لوٹو گے وہاں تم اور تمہارے ساتھی نہیں ہوں گے لیکن وہاں بیٹھے انسانوں میں تمہیں کردار اپنے ہی نظر آئیں گے اور تم ان میں اپنا آپ محسوس کرو گے۔
تمہارے فیورٹ پروفیسر تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم کتنے بدل چکے ہو تمہارے چہرے پر زندگی کی تلخیوں کی دھول کے نشان دیکھ کر کہیں گے یار تم میچور ہو چکے ہو۔ وقت تمہاری سوچ تمہارا چہرہ تک بدل دے گا کبھی یادوں کو یاد کر کے رو دو گے تو کبھی روتے روتے ہنس پڑو گے۔
سنو یہ تمہاری کہانی نہیں یونیورسٹی کے آنگن میں نہ جانے کتنی کہانیاں دفن ہیں اور سسکیاں لے رہی ہیں۔ کچھ ادھوری کچھ مکمل۔ پھر تم اس راستے سے کترا کر گزرو گے جو یونیورسٹی کو جاتا ہو گا تم سوچو گے بار بار یادوں کی اذیت کیوں سہنی پھر تم زمانہ کی گرد میں کھو کر کہی ان کی ایک کہانی بن جاؤ گے۔


