جامعہ پنجاب کا میلہ کس نے لوٹا

جامعہ پنجاب کی ریت رہی ہے کہ علم دوست احباب کو کتاب میلے کی صورت میں ہر سال کچھ دنوں کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ایک خیمہ آگاہی میں تمام تشنگان مکتب کو سیراب کرنے کا امکان میسر آ جائے۔ اس سال بھی یہ میلہ سجا۔ فروری کی بہار میں زندہ دل والوں نے طے کر لیا ہے کہ کبھی الحمرا میں فیض فیسٹیول سے اہل ادب کو فیض بخشنا ہے تو کبھی ہارس اینڈ کیٹل شو سے

Read more

ستمبر: اس سال پاکستان میں کیا ہو گا

جیسے ہی ستمبر آتا ہے، فضا میں ایک لطیف تبدیلی آتی ہے، ہوا میں ایک سرگوشی جو خزاں کے آنے کا اشارہ دیتی ہے۔ یہ مہینہ موسم گرما کی گرمی اور موسم سرما کی سردی کے درمیان ایک پل کی طرح کھڑا ہے، جو فطرت اور ہمارے اندر ایک پرسکون تبدیلی کا آغاز کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دن چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، اور راتیں اپنے دامن کو وسعت دینا شروع کر دیتی ہیں، اپنے ساتھ خود شناسی

Read more

زنگی کی تلخیاں اور دفتری اُمور

بچپن میں لوگوں کے مختلف ذرائع آمدنی دیکھنے کو ملتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کر کے روزی کما رہا ہے تو کوئی اسی کسان کے پاس مزدوری کر کے، کوئی دکان بنا کر اشیائے خوردو نوش بیچ کر کچھ حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے تو کوئی اسی دکان کے باہر ریڑھی لگا کر بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، کچھ لوگوں پہ قسمت کی دیوی مہربان نظر آئی تو وہ تعلیم حاصل کر کے سرکاری ملازم جا

Read more

خراب معاشی حالات اور مغل بادشاہ

پچھلے ایک عرصے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے۔ جس کی ایک وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور بہت سے دیگر عوامل شامل ہیں۔ اس مہنگائی نے سب سے زیادہ نقصان جس طبقے کا کیا ہے وہ مڈل کلاس سفید پوش طبقہ ہے۔ گزشتہ دو تین دنوں سے میری کافی ہائی پروفائل لوگوں سے ملاقاتیں رہی جن کے پاس وسائل دنیا بھی ہیں، بزنس بھی ہے اور

Read more

کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں

آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہو گا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہو گا۔ کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے با اثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے، ایک دن معاملات سے تنگ آ کر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے، (ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آرڈر انگریز وائسرائے

Read more

ہمارے اجداد کا دور

  ایک وہ وقت بھی تھا جب "دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھااور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ”اکیڈمی”کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔ بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے

Read more

پنجاب کی بدلتی ہوئی ثقافت

1990 سے  2023تک کے 33 سالہ دور میں انسان نے ہر میدان میں تاریخی کامیابیاں سمیٹیں اور دنیا تیزی سے ترقی اور گلوبلائزیشن کی طرف بڑھی اور خصوصاً جنوبی ایشیا میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس 33 سالہ دور میں رہنے والے انسانوں نے بے شمار تبدیلیاں دیکھیں ۔ ایک تار والے ٹیلیفون سے لیکر واٹس ایپ کے ذریعے ویڈیو کال تک کا سفر دیکھا۔ درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے لیکر ایر کنڈیشن کی تبدیلی دیکھی۔ اس سارے عرصے میں

Read more

یونیورسٹی کے دن

انسان اس دنیا میں بے شمار خواہشات کے ساتھ آتا ہے وہ خواہشات وقت کے ساتھ بدلتی بھی ہیں اور بڑھتی بھی۔ اور یہ خواہشات شاید انسانی جبلت کا حصہ ہیں۔ والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ہر خواہش کو پورا کرے اور اس کے لیے وہ اپنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک طالب علم بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر خواہشات کا انبار یکجا کرتا ہے۔ ان خواہشات میں ایک

Read more

پنجابی ثقافت اور گندم کی کٹائی

ہلکی ہوا میں ڈولتے گندم کے سنہری کھیت، درختوں کی سرسراہٹ کی آواز، کسانوں کی پشتوں پر ڈھلتی دھوپ اور تازہ کٹی ہوئی فصلوں کی مہک یہ وہ یادیں ہیں جن کے بارے میں سوچتے ہی یادوں کا خوشنما سیلاب امنڈ آتا ہے۔ ان دنوں گندم کی کٹائی ایک غیر معمولی کام نہیں تھا۔ یہ جشن کا وقت تھا، اقربا کے اکٹھے ہونے کا وقت تھا، مشترکہ محنت کرنے اور خوشی کا وقت تھا۔ کسان اور ان کے اہل خانہ

Read more