کشمکش سے پرے نئی امید


سورج کے طلوع ہونے سے ہر شے میں نئی روح امڈ آتی ہے۔ چرند، پرند اور پیڑ سب ہشاش بشاش نظر آنے لگتے ہیں۔ شبنم کے قطرے سورج کی کرنوں سے چمک اٹھتے ہیں اور قدرت کا اک دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔ درختوں کی قطاروں کو چیرتے ہوئے جب سورج کی کرنیں بہتے پانی کو چھوتی ہیں تو محبت کا ایسا قرینہ پیش کرتی ہیں کہ انسان کے اندرونی باطن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
ساتھ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ دل آمیز کہانی سناتی ہے اور روح کو اک ہچکچولہ دیتے ہوئے باور کراتی ہے کہ یہ جہاں کس قدر خوبصورت اور خوش نما ہے۔ آدمی اپنی ساری محرومیاں بھلاتے ہوئے اپنے ہونے میں خوشی محسوس کرتا ہے ۔ زندگی کی ساری تلخیاں نظر انداز کرکے روح اس قدر پرسکوں ہوتی ہے گویا وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئی ہے۔ جیسے صدیوں دھول تلے دبے رہنے کے بعد اس کی گرد پرے ہوئی ہو اور اس کی اصل روح کہیں سے نمودار ہوئی ہو۔ یہ مناظر انسانی زندگی میں امید کی کرن پھونکتے ہیں اور اسے دن بھر کے لیے چاق و چوبند کر دیتے ہیں۔
سورج کی کرنوں میں بہتے پانی کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ زندگی کو بھی اسی بہاؤ کے ساتھ چلنا چاہیے۔ انگنت رکاوٹوں کے باوجود بھی اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں بلکہ رستے میں آنے والی ساری تلخیوں کو اپنے اندر ضم کرتے ہوئے منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔
کچی پگڈنڈیوں پر، ابھرتی کرنوں میں، شبنم کے سنگ، ننگے پاؤں چلتے ہوئے مٹی کی محسوسیت روح کو تازگی بخش دیتی ہے۔ مٹی پہ چل کر جس قدر سکون اور اطمینان میسر آتا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں ۔ اور مٹی کی خوشبو اپنے پن کا احساس دلاتے ہوئے باور کراتی ہے کہ آدمی چاہے کتنی بھی ترقی کرلے ، کہیں بھی پہنچ جائے اس کا اصل مٹی ہی میں ہے۔
آفتاب کی کرنوں سے میل جول کرتی ہوئی سر سبز و شاداب فصلیں اپنی مثال آپ ہیں جو کسان کی منہ بولتی محنت اور قدرت کے عظیم شاہکار کا ثبوت دیتی ہیں۔ شبنم سے تر سبزہ اس قدر شاداب نظر آتا ہے کہ جیسے کل جہان کی مسرتیں انہیں کے پاس ہیں جو روز مرہ کی صعوبتوں سے بالاتر ہوکر اپنے ایام گزار رہے ہیں۔
فصلوں سے گزرتی باد صبا کی سریلی سرسراہٹ دنیا و جہاں کی موسیقی کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور روح کو تروتازگی دیتے ہوئے قدرت کے حسین مناظر کا عکس دکھاتی ہے۔ چرند و پرند کرنوں سے بیدار ہو کر ذہنی تسکین کا اک عجیب عالم پیش کرتے ہیں جو زندگی کی کشمکش سے پرے نئی امید کے ساتھ دن کا آغاز کرتے ہیں۔
Facebook Comments HS