دکھ سدا سکھ گاہے گاہے

اپنے دکھ چھپائے ہوئے تو ہیں لیکن ان کے ساتھ کیسے چلا جائے۔ انسان کی زندگی میں یہ دکھ تکلیف اور پریشانی ہمیشہ رہتی ہے اور وہ چاہتا خواہش کرتا ہے کہ یہ کبھی نہ ہوں۔ دکھ بہت ضروری ہوتا ہے یہ بے شمار احساسات سے آشنائی دلاتا ہے۔ اس کا درد بھی اکثر برداشت کرنا اچھا لگتا ہے۔
اپنے دکھ کی گٹھری کو سر پر اٹھانے سے صرف زندگی کا سفر بوجھل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایسے ہی ہے کہ آپ دکھوں کی نمائش کررہے ہوں۔ اپنے سینے سے لگانا آستین میں چھپانا یہاں تک کہ پلکوں کے پیچھے نم آنکھوں کی صورت دبالینا کہیں بہتر اور مستند طریقہ ہے۔ اپنی خوشیوں کو بھی نمایاں کرنے سے بات بگڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسے بھی گلے سے لگا کر صرف اپنے پیاروں کو اس میں شریک کرنے سے محبتیں اور بڑھتی ہیں۔
اس سب کی بجائے کسی دوسرے دکھی کو کندھوں پر سوار کرکے اسے یہ احساس دلانا چاہیئے کہ وہ تنہا نہیں ہم ساتھ ہیں۔ اس کی تکلیف دور یا کم کرنے کیلئے یہ باور کرنا بے حد ضروری ہے۔
اپنی خوشی کو کبھی ہلکا نہیں لینا چاہیئے یہ بڑی تقویت کا باعث ہوتی ہے بس اس کی شدت کو بھرپور طریقے محسوس کرنا ہے غم کے لمحات کو بار بار یاد کرنے میں ایک سرور سا ملتا ہے ویسے ہی خوشی کے مواقع فراموش نہیں کرنا چاہیئں۔ زندگی میں چھوٹی بڑی خوشی انسان کو سب سے پہلے ایک احساس دیتی ہے جس میں وہ دوسروں کے ساتھ خود کو جوڑتا ہے۔ ان لمحات کی قدر کرنے والے دکھی نہیں ہوتے۔ دکھ کی پہچان ہر کسی کو نہیں ہوتی۔ دکھوں کی پٹاری ہر کسی کے سامنے کھولنے سے ہر کوئی ناراض دکھائی دیتا ہے۔
سوشل میڈیا آنے کے بعد لوگوں کی ترجیحات یکسر بدل گئی ہیں اب فلم ڈرامہ کسی بھی صورت میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ اس میں ہر طرح کے جذبات بھی ہوتے ہیں اور تفریح کا سامان پہلے کہیں مختلف اور مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔
دکھ اور خوشی کے لمحات اپنوں کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں اچھے سے مراد ایک لفظ بہت تکرار سے بولا جاتا ہے انجوائے کیا۔ کئی مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں اس کا استعمال نہیں بنتا مگر نئی نسل کے نمائندے بے دھڑک کہہ دیتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کی تلخیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اس میں کہیں آسودگی کا حصول آسان نہیں انسان زیادہ تر تکلیف دہ حالات کا سامنا کئے ہوتے ہیں۔ انہیں کوئی بھی راحت انجوائمنٹ سے کم دکھائی دیتی ۔ لیکن ہم دکھی ہوں تو خوف کے مارے خوشیوں سے دور بھاگتے یا ان کی طلب سے گریزاں رہتے ہیں۔ رب کی ذات کسی صورت باہر رکھنے کے بعد ہمیں اس ساری کیفیت سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ نکال دیتی ہے۔
دکھ ملنے کا غم طوق بناکر گلے میں لٹکانا کوئی دانشمندانہ حل نہیں۔ اس کا معروضی حالات میں رہتے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ خوشی پالینے کے جذبات بھی ڈھول بناکر پیٹنے سے کوئی بڑی کامیابی نہیں مل پاتی۔ ہم شاید ویسے ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔
دکھ سدا سکھ گاہے گاہے
دکھاں تو۔ سکھ وارے
دکھ قبول۔ محمد بخشا
راضی رہن پیارے
Facebook Comments HS

