سچ بولنا مشکل، لکھنا بہت آسان


پاکستان میں سچ اور حق کے درمیان ایک خاموش سی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں جنتا کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔ عوام کو تقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر مطلوبہ نتائج کافی حد تک مایوس کن ہیں۔ اس ساری صورت حال میں دستور پاکستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ نامکمل قومی اسمبلی نے دستور پاکستان کو نظرانداز کر کے ایسی قانون سازی کی ہے جس سے آئین پاکستان بے توقیر ہوا۔ اس پر مورخ کیا لکھے گا۔ اس پر تشویش کی ضرورت نہیں۔ مگر محدود پیمانے پر تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے مظفر آباد آزاد کشمیر میں ہمارے عہد کے بڑے صحافی کی کتاب کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام تھا۔ کل تک صحافی کا تعلق خبروں تک ہوتا ہے۔ مگر اب صحافت کا نصاب بدلتا جا رہا ہے۔ تو ذکر ہو رہا تھا ہمارے کالم نویس ساتھی سلیم صافی کا جن کی تبدیلی کے موضوع پر تیسری کتاب ”تبدیلی گلے پڑ گئی“ پر ہم خیال اور صاحب نظر لوگوں کا بینچ تھا۔ مجھے سلیم صحافی کے اضافی نام صافی کی سمجھ نہیں آتی۔ ہمدرد دواخانہ کی مشہور دوائی ”صافی“ بہت پر اثر مگر بہت ہی کڑوی دوائی ہے اور سلیم صافی کا اسلوب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

پرانے زمانے کی بات ہے۔ ہندوستان پر جبری قابض گورے اب اپنے آپ کو خطرے میں دیکھ رہے تھے۔ اور راہ فرار کو آسان بنانے کے لیے ہندوستان سے دور پار ایک اپنے ملک میں ہندوستان کے اہم لوگوں سے بات چیت کر کے اندازہ لگا رہے تھے کہ ان سب سے آزادی کی کتنی قیمت وصول کی جا سکتی ہے۔ ان کو اگر خوف تھا تو انقلاب سے تھا۔ ایسا انقلاب ان کے ہمسایہ ملک فرانس میں آ چکا تھا۔ برطانیہ ایک بڑا انقلاب دشمن ملک ہے۔ ادھر ہندوستان میں انقلاب ہی آزادی کا نسخہ تھا۔ ایک انقلاب یورپ بھر میں آیا اور پھر ویسا ہی انقلاب امریکہ میں آیا اور وہاں سے گورے کو نکلنا پڑا۔ دنیا بھر میں انقلاب کا فلسفہ ہر جگہ مختلف نظر آتا ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد کچھ ترقی پسندوں نے انقلاب کی کوشش ضرور کی۔ مگر ہماری بہادر افواج نے اس انقلاب کو سازش کا نام دے کر پابند سلاسل کر دیا۔ لوگ انقلابی لوگوں سے ڈرنے لگے۔ انقلاب کو کافر بھی کہا گیا۔ مگر کسی کو بھی تبدیلی کا خیال نہیں آیا۔

بات ہو رہی ہے منفرد کالم نگار اور صحافی سلیم صافی کے زور قلم کی اور انہوں نے تبدیلی کے تناظر میں تین کتابیں لکھ چکے ہیں۔ جب سلیم صافی کو تبدیلی کی آمد کا اندازہ ہوا تو انہوں نے پہلی کتاب لکھی ”تبدیلی لائی گئی“ ۔ پھر چند مہینوں بعد دوسری کتاب منظر عام پر آ گئی ”تبدیلی مہنگی پڑ گئی“ اور اب عہد حاضر میں کالموں کا تیسرا مجموعہ ”تبدیلی گلے پڑ گئی“ منظر عام پر آ چکی ہے۔ وطن میں تبدیلی کا عمل کب شروع ہوا۔ اس کا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے۔ ہاں کرکٹ کے کھیل میں تبدیلی کا عمل 1992 ءمیں نظر آتا ہے۔ جب سابق کپتان نے کرکٹ کی دنیا میں اہم لوگوں کو نظر انداز کیا۔ جو اس کے عزیز اور رشتہ دار بھی تھے۔ 1992 ءمیں ورلڈ کپ کے دوران ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ سمی فائنل تک جا سکے گا مگر سابق کپتان نے تقسیم شدہ ٹیم کو یک جا کیا۔ اس تبدیلی نے پاکستان کی ٹیم کو بدل کر رکھ دیا اور حیرت انگیز طور پر پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا۔ تبدیلی نے کرکٹ کی تاریخ بنا دی۔

ہمارے ہاں گزشتہ کئی ماہ سے جو مخلوط سرکار ملک کو چلا رہی ہے۔ اس کے کارناموں کا ذکر تو مورخ ہی کرے گا۔ مگر ہمارے نامور کالم نویس دوستوں نے عوام کے حقوق کی کبھی بھی بات نہیں کی۔ اور اس سلسلے میں تقریب کے دوران سارے کالم نگار حضرات نے کوشش کی اور بتایا سلیم صافی کی باتوں سے کار سرکار پریشان ہی رہتی تھی۔ ایک واقعہ جو جناب حامد میر نے بیان کیا بڑا حیران کن سا لگا۔ حامد میر صاحب نے فرمایا کہ 2018 ءکے انتخابات سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے عمران خان کا انٹرویو کیا۔ انٹرویو کرنے کے بعد مجھے فون آیا کہ جنرل باجوہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں عسکری دوستوں کی حفاظت میں ان سے ملنے چلا گیا۔ تو وہاں پر ہمارے دوست سلیم صافی کی آمد میرے سامنے ہوئی۔ فارغ جنرل باجوہ نے مجھ سے گلا کیا کہ عمران کی مخالفت چھوڑ دو، میں نے سنی ان سنی کر دی۔ سلیم صافی کا ان سے بھرپور مکالمہ جاری رہا۔ سلیم صافی کا مشورہ تھا۔ ”آپ ایک دن پریشان ہوں گے“ ۔ خیر اس میں ایک بات حیران کن لگی۔ حامد میر نے کہا کہ عمران آپ کا آدمی ہے تو فارغ جنرل باجوہ کا جواب تھا۔ ”کیا وہ ساڈا آدمی ہے؟“ ۔

وسعت اللہ خان نے بڑی صفائی سے فرمایا کہ سلیم صافی جس کے پیچھے پڑ گیا تو پڑ گیا۔ انہوں نے تاریخ کی جمپ کا بھی ذکر کیا اور بین السطور میں عمران خان کا نام نہ لیتے ہوئے تعریف اور توصیف بھی کر دی۔ وسعت اللہ خان ایک زمانہ سے بی بی سی سے وابستہ رہے۔ اور خوب لکھا بھی۔ اس تقریب میں ہماری اعلیٰ نوکر شاہی کے اہم ستون فواد حسین فواد نے بھی خطاب کیا اور ایک واقعہ بیان کیا، جب باؤ جی کی تبدیلی کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم تھے تو میں نے ان کی خصوصی اجازت سے ملک کے اہم عسکری افراد سے ملاقات کی ٹھانی اور ملاقات کی بھی اور ان کو باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ جس پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، وہ مناسب نہیں ہے۔ ان سب نے میری بات غور سے سنی اور مجھے برداشت بھی کیا۔ مگر وہ مجھ سے متفق نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے غلط فہمی ہوتی ہے۔ میں نے واپس آ کر شاہد خاقان عباسی کے گوش گزار کیا کہ وہ ماننے والے نہیں۔ وہ اپنی من مانی کریں گے۔ سابق وزیر اعظم نے مایوسی سے سر ہلایا اور پریشان نظر آئے۔

اس موقع پر سلیم صافی نے یاد بھی دلایا کہ جب فواد حسن فواد، باؤ جی سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری تھے تو ہماری ان سے لڑائی رہتی تھی۔ مگر انہوں نے لڑائی کی وجہ بیان نہیں کی۔ مگر مجھے خیال آتا ہے۔ ہمارے ایک بہت ہی اچھے دوست اور انسان بابر حسن بھروانہ جو آج کل الیکشن کمیشن میں پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ بھی فواد حسن فواد کی بہت تعریف کرتے تھے۔ بھروانہ صاحب کچھ عرصہ وزیر اعظم کے دفتر سے وابستہ بھی رہے۔ اس ہی وجہ سے فواد حسن فواد کو جب گرفتار کیا گیا تو بھروانہ صاحب کو خاصی تشویش تھی، ہم اس ہفتہ کے روز اپنے مرشد اور مہربان سید سرفراز شاہ کے ہاں مدعو تھے۔ میں نے بابر حسن بھروانہ سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے ایک ہی بات کی۔ وہ اچھا آدمی ہے اللہ مہربانی کرے گا۔ اس دن ہماری محفل میں سجاد میر اور پولیس کے اعلیٰ اور نفیس افسر عمران محمود بھی تھے اور سب کو عمران خان کی سرکار کے فیصلوں پر تشویش تھی۔ مگر شاہ صاحب کا فرمان تھا کہ فواد کا امتحان ہے۔ اللہ خیر کرے گا۔

میں بھی ایک عرصہ سے سلیم صافی کی تحریر کا رسیا ہوں۔ وہ سچائی اور جھوٹ کے درمیان فاصلہ رکھتے ہیں اور انہوں نے جس خوبی سے مولانا فضل الرحمن کی شخصیت کو بیان کیا۔ وہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ اور مولانا پہلی دفعہ کسی کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آئے۔ سلیم صافی نے ان تین کتابوں کے علاوہ کچھ اور کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان میں سب سے کار آمد اور دلچسپ کتاب سی پیک کے حوالہ سے ہے۔ سلیم صافی کے نظریات کے حوالے سے ایک بات اہم ہے فوج پر تنقید نہیں کی۔ ان کے قلم کی کاٹ نے عسکری دوستوں کو ہمیشہ تشویش میں رکھا۔ اب جب باجوہ صاحب ماضی کی داستان ہے۔ ان کے بارے میں سلیم صافی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں۔ مگر باجوہ کے ایک دوسرے صحافی دوست کا خیال ہے کہ وہ جنرل باجوہ پر ضرور لکھیں گے اور ان کا خیال ہے۔ وہ پسند کریں گے جنرل باجوہ کا مکمل احتساب ہو۔ جواب ممکن نظر نہیں آتا۔ اب ان کی اگلی کتاب کس تبدیلی کی نوید دیتی ہے۔ سلیم صافی سچ بولنا آسان سچ لکھنا مشکل ہے اور یہی تمہاری مشکل ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments