الیکشن نہیں تو قرعہ اندازی ہی سہی
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات نے ہر طبقے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اور یہ تمام طبقات ان حالات کا ذمہ دار ملک کے موجودہ سیاسی بحران کو ٹھہراتے ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ سب اپنی اپنی انا کے غلام بنے ہوئے ہیں اور کسی کو درپیش چیلنجز یا عوام کو درپیش مسائل سے کوئی غرض نہیں، ضدوں، اناؤں اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے عمل نے ماضی میں سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو کچھ نہیں دیا نہ ہی اس سے اب انہیں کچھ ملنے والا ہے لہٰذا ملک، قوم، اداروں اور سیاست دانوں کی بہتری اسی میں ہے کہ افہام و تفہیم سے کام لیں اور ملک میں جو سیاسی ڈیڈ لاک کی کیفیت ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اس کا کوئی حل نکالیں۔موجودہ حالات دیکھ کر الیکشن کی بجائے قرعہ اندازی کرا لینی چاہیے۔
ملک کو مسائل سے نکالنے کا حل ایک ہی ہے ‘حکومت اعلان کرے کہ الیکشن کب ہوں گے۔ صرف اسی صورت میں قوم کو ریلیف ملے گا، آئی ایم ایف آئے گا اور پاکستان کے دوست ممالک مطمئن ہوں گے۔ جب ملک کے حالات قابو میں ائیں گے تو ملک سے انتشار کی فضا ختم ہوگی۔ اتنی گہما گہمی ہے کہ ہر نقصان کا الزام ایک دوسرے پر ڈال دیا جاتا ہے۔کوئی مخالفین کو فساد کی جڑ قرار دیتا ہے تو کوئی سمجھتا ہے کہ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے اور کہیں عدلیہ کی جانب بھی اشاروں کنایوں میں بات کی جا رہی ہے۔ عوام اور ملکی مسائل کے حل کی طرف کسی کی نظر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاستدان بھی یہ مانتے ہیں کہ اس افراتفری کے ذمہ دار وہ خود ہیں؟ یا اسٹیبلشمنٹ خود کو اس کا ذمہ ٹھہراتی ہے؟بظاہر ملکی معاشی صورتحال کی ذمہ داری لینے کو کوئی بھی تیار نہیں۔
پاکستان نے اپنے قیام سے آج تک جتنے مسائل کا سامنا کیا ہے اگر ان کی گنتی کرنے بیٹھ جائیں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی جتنے بھی مسائل کا سامنا کیا گیا ہے یا اب بھی کرنا پڑ رہا ہے ان سے عملی طور پر نبردآزما ہونے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے مسائل کو دیکھتے رہتے ہیں اور جب وہ مسائل بڑھ جاتے ہیں تب ہم ان کا حل تلاش کرتے ہیں۔ دہشت گردی،بجلی،تعلیم،صحت ان بنیادی مسائل کے حل کے لئے مؤثر حکمتِ عملی وقت پر تیار نہیں کی گئی جس کے نتائج ہم آج بھگت رہے ہیں اور یہی نہیں آج اس وقت بھی بہت سے مسائل سر اٹھا رہے ہیں جن کے مستقبل میں ہم پر بہت گہرے اثرات ہو سکتے ہیں البتہ ان میں سے جس کا حل فوری طور پر ضروری ہے وہ پانی کا مسئلہ ہے۔ان دنوں بارش اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سب سے زیادہ غور طلب مسئلہ ہے ۔ ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں بھی ہوئی جبکہ ملک بھر میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور دتعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہو گئے۔ قربانی کے باقیات ابھی صحیح سے ٹھکانے لگے نہیں تھے کہ بارشوں نے اپنا زور پکڑ لیا یہ بہت اہم مسئلہ ہے جو اگے چل کر پیچیدہ مسائل میں بدل سکتا ہے۔
عوام اب تھک چکی ہے وہ فورا سے پہلے ایک ایسا قائد چاہتی ہے جو ان کے مسائل کو سنیں اور ان کا حل نکالے نہ کہ حکومتی کشمکش کا شکار رہ کر کبھی کسی کا منہ دیکھے اور کبھی کسی کا منہ اج کی حکومت پچھلی حکومت پر گن پھینکتی اور پچھلی حکومت انے والی حکومت سے ڈرا رہی ہے۔ اپنی خانہ جنگی ختم کی جائے اور عوام کے ریلیف اور فائدے کے لیے سوچا جائے کیونکہ حکومت عوام کی سہولیات کو بڑھانے کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ اپنے مفاد اور جواب طلب کرنے پر ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کے لیے ۔


