پلاسٹک کی آلودگی اور پہلا قدم


تین جولائی کو دنیا بھر میں پلاسٹک کے تھیلوں سے آزادی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس کا مقصد پوری دنیا کو پلاسٹک کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ پلاسٹک زندگی اور ماحول دونوں کے لئے شدید نقصان دہ ہے جس کا استعمال موجودہ دور میں ہر شعبے میں بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً پانچ سو بلین پلاسٹک کے تھیلے استعمال ہوتے ہیں اور پاکستان میں یہ تعداد تقریباً ساٹھ ارب ہے۔ دنیا میں ہر منٹ میں دس لاکھ سے زیادہ پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال ہوتا ہے۔

کچھ سال پہلے لاہور ہائیکورٹ نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی لگانے کا تحریری حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں پنجاب کے تمام بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور ہول سیلرز پلاسٹک بیگ کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیں اور متبادل انتظامات کریں۔ عدالت نے شہریوں اور خریداروں کی معلومات کے لئے عدالتی حکم تمام بڑے سٹورز پر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنے کا بھی کہا تھا۔

پاکستان میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کو ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد بار اعلان کیا گیا، اس کے باوجود ان کا استعمال زور و شور سے پورے ملک میں جاری ہے۔ ہمارے معاشرے کی بد قسمتی ہے کہ بہت سے کاروباری افراد ہر موقعے پر اضافی کمائی کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ اس وقت کچھ ڈیپارٹمنٹل سٹورز ایسے ہیں جنہوں نے پلاسٹک بیگز کو ترک کر کے کپڑے کے بیگز کا استعمال شروع کر دیا ہے لیکن ان کا مقصد ماحول کی بہتری یا عدالتی اور حکومتی احکامات کی تعمیل نہیں بلکہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی خواہش ہے کیونکہ مفت میں ملنے والے پلاسٹک بیگز کی جگہ اب عوام خریداری کے وقت پیسوں سے کپڑے کے ایسے تھیلے خریدنے پر مجبور ہے جن پر ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا نام اور اشتہار چھاپ کر بیچا جاتا ہے۔

ایک عالمی تحقیق کے مطابق 2050 تک سمندروں میں مچھلیوں کے مقابلے میں پلاسٹک زیادہ ہو جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں پلاسٹک کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے خواہ پلاسٹک کے برتن ہوں، خریداری کے تھیلے، بوتلیں، ہسپتالوں کے اوزار، سرنج، دستانے یا پھر جوس کے ڈبوں کی سٹرا۔ آپ بھی کسی کوڑا گھر کو دیکھیں تو کچرے کے ڈھیر میں زیادہ تر پلاسٹک نظر آئے گا۔

امریکہ کی واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی میں ایک فوڈ انجینیئرنگ پروفیسر کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی کچھ اقسام مائیکرو ویو کے لیے غیر مناسب ہیں کیونکہ ان میں ایسا مرکب شامل ہوتا ہے جو پلاسٹک کو نرم اور لچکدار بناتا ہے، جب کھانا پلاسٹک کے برتن میں رکھ کر مائیکرو ویو اوون میں گرم کیا جائے تو یہ پگھل جاتا ہے جو مضر صحت ہے۔

وفاقی وزیر شیری رحمٰن کہتی ہیں کہ پلاسٹک کو عالمی سطح پر ختم کیا جا رہا ہے، پاکستان کو بھی ختم کرنا ہو گا۔ پلاسٹک ہمارے سمندروں میں جا رہا ہے۔ پاکستان میں سالانہ دو کے ٹو پہاڑ کے برابر پلاسٹک کا کچرا پیدا ہو رہا ہے، اسے ری سائیکل کر کے آلودگی میں کمی کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں صرف 9 فیصد پلاسٹک کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک پرائیویٹ پیٹرولیم کمپنی نے میونسپل کارپوریشن کے تعاون سے کراچی میں لوبریکینٹ کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلوں کو ری سائیکل کر کے ایک سڑک تعمیر کی ہے جو پلاسٹک کے ضیاع اور آلودگی میں کمی کی ایک بہترین کوشش ہے، یہ اسفالٹ روڈ ہے جو سات سو تیس فٹ لمبی اور ساٹھ فٹ چوڑی ہے اور اسے ڈھائی ٹن سے زیادہ استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پلاسٹک کی سڑک لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط بھی ہوتی ہے اور خرچہ بھی استعمال شدہ پلاسٹک کی وجہ سے بہت کم ہوتا ہے۔

سڈنی کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انسان ہر گھنٹے میں سانس کے ذریعے سولہ اعشاریہ دو بٹس مائیکرو پلاسٹک نگل رہا ہے جو ایک کریڈٹ کارڈ میں پلاسٹک کی مقدار کے برابر ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ مائیکرو پلاسٹک بہت چھوٹے سائز کے وہ ذرات ہیں جو پلاسٹک سے بنی اشیاء کو تلف کر نے کے دوران ہوا میں اور بعد میں پانی اور مٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ سانس لیتے ہوئے ہوا میں موجود مائیکرو پلاسٹک انسان کے حلق، نتھنوں اور گلے میں ایک طرف جمع ہو جاتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کا ذخیرہ بڑھتا جاتا ہے جو بہت ساری بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے سمندروں کے بالائی حصوں میں مائیکرو پلاسٹک کے تقریباً 24.4 کھرب اجزا موجود ہیں۔ پلاسٹک کی آلودگی اب اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اس کے ذرات ان سبزیوں میں بھی موجود ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔ مائیکرو پلاسٹک سیویج کیچڑ کی باقیات میں رہ جاتے ہیں جو کھیتوں کی زمینوں تک پہنچتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال کم کیا جانا چاہیے۔ اس وقت پوری دنیا میں ہر سال 43 کروڑ ٹن پلاسٹک مصنوعات کو تیار کیا جاتا ہے جن میں سے دو تہائی مصنوعات بہت جلد کچرے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یو این ای پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہترین حکمت عملی کو اگر اپنایا جائے تو 2040 تک پلاسٹک سے ہونے والی 80 فیصد عالمی آلودگی کو روکا جا سکتا ہے۔

ہم نلکے اور فلٹر والے پانی میں تو جراثیم اور بیماریاں پہلے سے دیکھ لیتے ہیں لیکن پلاسٹک کی بوتل میں منرل واٹر پیتے ہوئے پلاسٹک کے نقصانات کا نہیں سوچتے ہیں۔

پرانے زمانے میں لوگ روٹیاں خریدنے تندور پر جاتے تو کپڑا ساتھ لے جاتے تھے۔ نہاری یا پائے گھر لانے کے لئے برتن ضرور ساتھ جاتا تھا۔ اسی طرح دودھ یا دہی بھی پلاسٹک کے تھیلوں میں لانے کا رواج نہیں تھا۔ اب گرم کھانے بھی پلاسٹک کے تھیلوں میں پیک کیے جاتے ہیں۔ پلاسٹک کا استعمال جتنا آسان اور عام ہو چکا ہے اس سے مکمل طور پر جان چھڑانا فوری طور پر ممکن نہیں ہے لیکن پہلا قدم اٹھانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS