کیا پاکستان امریکہ کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا؟


عوام کیا سوچتے ہیں؟ ان کا آئیڈیلزم اور ان کے سپنے کیسے ہیں؟ عوامی مائنڈ سیٹ کیسا ہے؟ آپ یہ سب جاننا چاہتے ہیں تو یا تو آپ چائے کے ڈھابوں پہ بیٹھیں یا سوشل میڈیا پہ حالات حاضرہ پہ آنے والی پوسٹس پہ لوگوں کے کمنٹس پڑھیں۔
آپ مذہبی مدرسوں کے طلباء کے ساتھ بیٹھیں۔ نوجوانوں کے ساتھ کچھ ڈسکس کریں یا آپ سوشل میڈیا پہ چلے جائیں تو وہاں لوگ کہہ رہے ہوں گے ”یہ پاکستان ہی تھا جس نے ایک مقدس لڑائی کے ذریعے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر سوویت یونین جیسی سپر پاور کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور اب روس میں عوام بریڈ کے چند ٹکڑوں کے لیے بیکری کے باہر قطار لگا کر کھڑے ہوتے ہیں اور یہ پاکستان ہی ہو گا جو بہت جلد متحدہ ہائے امریکہ کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور وہ وقت بھی آئے گا جب امریکہ سے لوگ مزدوری کرنے پاکستان آیا کریں گے“ ۔

کیا ہمارے عوام امریکہ کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ اچھا تو پھر امریکہ کو توڑنے کے لیے کون سے طریقے استعمال کرنا ہوں گے؟ اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پہلے کچھ آوازیں ”سن لیں“ ۔

”گول گپے ے  ے۔ بھائی جھنگ سے گول گپے بیچنے والا آپ کے شہر بہاول پور میں آ گیا ہے۔ گول گپے او کھاوے جہیندے کول ہون پیسے پلے۔ کھان والا گول گپے کھاوے تے ویکھن والا ویکھدا رہوے“ ۔ ”بھائی فیصل آباد سے کنگھی سے ٹوٹے وال خریدن والا آ گیا جے اک چھٹانکی وال ساڑے تن سو روپے دے“ ۔ ”ماواں ہائے ماواں۔ بھائی یہ جو بچہ وہیل چیئر پہ بیٹھا ہے یہ معذور ہے کوئی پچاس کوئی سو روپے صدقہ دے کر اس کی مدد کر کے جنت میں اپنا گھر بنا لو“۔

چین نے دو سو روپے سے لے کر چار سو روپے تک کی قیمت پہ حاصل ہونے والا چھوٹا سا ایم پی تھری اسپیکر کیا پاکستان کی مارکیٹس میں پھینکا، پاکستانی عوام عذاب میں مبتلا ہو گئے۔ یہ چھوٹا سا ایم پی تھری لاؤڈ اسپیکر جو یو ایس بی یا میموری کارڈ میں ریکارڈ کی گئی آوازوں کو بار بار دہراتا رہتا ہے مساجد میں اذان کے لیے لگے لاؤڈ اسپیکرز کے قریب طاقت رکھتا ہے۔ گھر میں کوئی شدید بیمار ہے۔ کوئی شخص ڈیوٹی کر کے گھر واپس آ کر تھکا ہارا گہری نیند سو رہا ہے۔ سارا دن یہ ریڑھی ٹھیلے والے ایم پی تھری اسپیکرز پہ ریکارڈنگ لگائے آپ کے گھر کے باہر سے گزرتے رہیں گے اور انتہائی اور مسلسل شور کی وجہ سے پیدا ہونے والی اذیت کے ہاتھوں آپ خو کو انتہائی بے بس محسوس کریں گے۔ اس وقت جب آپ اعلٰی باوردی اور بے وردی افسران، ججوں اور دیگر اہلکاروں کے کئی کئی ایکڑوں پہ مشتمل گھروں کے باہر سے گزریں گے تو لازمی خیال آئے گا کہ یہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں کہ اس طرح کے شور کی اذیت سے محفوظ ہیں۔ اب ذرا جنگ ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پہ 6 جولائی 2023 کی ایک خبر کو بھی تھوڑا سا پڑھ لیں۔

”یورپ کے ملک کروشیا کے شہر ڈوبروو ینک کی گلیوں میں پہیوں والے سوٹ کیس کے شور سے پریشان لوگوں کی شکایت پر سوٹ کیس کے گھسیٹنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ شہر کے مئیر میٹو فرانکو وچ نے نیا قانون پیش کیا ہے جس کے تحت پہیوں والے سوٹ کیس کے گلیوں میں گھسیٹنے پہ پیدا ہونے والے شور پہ 288 ڈالرز جرمانہ ہو سکتا ہے جو پاکستانی 90 ہزار روپے کے برابر ہے“ ۔

دنیا بھر میں کاروبار انٹرنیٹ پہ منتقل ہو کر آن لائن بزنس کا روپ دھار چکا ہے اور کروڑوں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع دے رہا ہے لیکن اس کاروبار کو چلانے والے جیسے امیزون، علی بابا ڈاٹ کام، پے پال، فری لانسرز ڈاٹ کام، فیور، گرو ڈاٹ کام وغیرہ جو بھی ہیں وہ یہ مواقع صرف ان لوگوں کو مہیا کرتے ہیں جو کاروبار میں بد دیانتی کے مرتکب بالکل نہیں ہوتے۔ ”آن لائن کاروبار میں مکمل ایمانداری برتو۔ کسی طرح کی دو نمبری نہیں کرو“ بس یہی ایک اصول ہے انٹرنیشنل آن لائن بزنس کا۔

راتوں راتوں دولت مند ہونے، اپنے ہمسائیوں سے زیادہ اچھے ڈیزائن والا گھر بنانے اور زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی ہوس نے انٹرنیشنل آن لائن بزنس سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو ”جگاڑ“ بد دیانتی اور دو نمبری پہ لگا دیا۔ نتیجہ یہ کہ امیزون کی طرف سے پاکستانیوں پہ کئی پابندیاں لگ جانے کے بعد اب گوگل، سی پی ایم اور دیگر کئی انٹرنیشنل آن لائن اسٹیک ہولڈرز بھی پاکستانیوں پہ پابندی لگانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یعنی پچھتر سال سے کشکول اٹھا کر دنیا کے سامنے کھڑے ہیں تو صرف اپنی بد دیانتیوں اور ہیرا پھیریوں کی وجہ سے خود پہ انٹرنیشنل آن لائن بزنس کے دروازے بند کرا کے آئندہ پچھتر سال بھی کشکول اٹھانے کا اعزاز اپنے نام ہی رکھنے کا ارادہ ہے۔

ہم پاکستانی تو سڑک پہ ون وے کی خلاف ورزی کو بھی مذہبی گناہ یا اخلاقی کرپشن نہیں سمجھتے۔ دیانت اور ایمانداری بھلا کس چڑیا کا نام ہے؟ خیر۔ اکبر شیخ اکبر نے تو اپنے بلاگز میں کئی بار تجاویز دیں کہ جب تک آپ فرد کی جائیدادیں بنانے اور رکھنے کی ملکیت کی حد مقرر نہیں کر دیتے، پیارے وطن پاکستان سے مالی کرپشن کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے۔ انتہائی امیر افراد مالی کرپشن اس لیے کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں اور انتہائی غریب افراد اس لیے مالی کرپشن کے مرتکب ہو جاتے ہیں کہ انھیں روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔

اچھا، چھوڑیں۔ بات ہو رہی تھی کہ پاکستان امریکہ کو توڑے تو کیسے توڑے تو راقم کا خیال ہے کہ اس کام کے لیے آپ ریڑھی ٹھیلوں پہ ایم تھری اسپیکرز لگانے والوں، آن لائن بزنس میں بد دیانتی کرنے والوں اور راتوں رات دولتمند بننے کے لیے مختلف شارٹ کٹس استعمال کرنے والے پاکستانیوں کو جہازوں میں بھر کر امریکہ کو بطور تحفہ دے دیں آخر اس نے بھی تو پچھتر سال تک ہمارے کشکول میں بہت کچھ ڈالا ہے۔ اگر یہ لوگ امریکہ پہنچ کر اسے توڑنے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر کہنا۔

Facebook Comments HS