پاکستان میں "استحکام پاکستان” کی تیاری


پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین کی وطن واپسی کے بعد بڑی سیاسی ہلچل ہوتی نظر آرہی ہے۔ یار لوگ بتاتے ہیں جہانگیر ترین اور علیم خان کی بھرپور سیاسی سرگرمیوں کے بعد پنجاب میں سے پندرہ سے بیس مزید الیکٹیبلز استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں آئندہ چند روز میں استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے کرے گی اور اہم ملاقاتیں کرے گی۔ اس کے بعد جہانگیر ترین اور علیم خان کی اگلی نظر خیبر پختونخوا پر ہیں۔ جس میں ان کی بھرپور کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا سے اہم سیاسی شخصیات کو بھی ساتھ ملایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی نے ممبر سازی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ رکنیت سازی مہم درحقیقت جہانگیر ترین علیم خان سمیت استحکام پاکستان پارٹی کا پہلا امتحان ہوگا۔ گو کہ استحکام پاکستان پارٹی میں علیم خان اور جہانگیر ترین کی قیادت میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہیں جو تعمیری حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں جو مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں، اور سوشل میڈیا سمیت عوام میں کافی مقبول ہیں۔ مگر رکنیت سازی مہم میں عوامی رجحان سے ہی استحکام پاکستان پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے الگ ہونے کے بعد یہ سب لوگ ووٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ممبر سازی مہم میں کامیابی کی صورت میں استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت کے جوش جذبہ میں اضافہ ضرور ہوگا۔
پاکستان میں منشور کی سیاست کا فقدان ہے۔ منشور کسی بھی جماعت کا وہ لائحہ عمل ہوتا ہے جسے وہ عوام کے سامنے رکھ کر ووٹ مانگتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ مغربی ممالک میں پارٹیاں اپنے منشور اور پالیسیوں کی بنیاد پر انتخابات میں عوام کو اپنی طرف متوجہ کر کے اور انکے ووٹ حاصل کر کے بر سر اقتدار آتی ہیں۔
پاکستان کے ووٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں منشور سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ ووٹرز چہروں کو دیکھ کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ جب تک پاکستان میں ووٹرز کا یہ رویہ نہیں بدلے گا اس وقت تک حقیقی جمہوریت کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی۔ ووٹرز کے پاس سیاسی جماعتوں کے منشور پڑھنے اور اس بارے غور و فکر کی کوئی روایت ہی نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی معصوم اور سادہ لوح ووٹرز کی کم علمی اور ناپختہ سیاسی سوچ سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔ ووٹرز کی تربیت بلدیاتی سطح سے ہوتی ہے اور سیاست دانوں کی بنیادی تربیت کا بھی سب سے بہتر ذریعہ یہی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تو وراثتی سیاست نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے چشم و چراغ براہ راست قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی اور براہ راست وفاقی یا صوبائی وزارت تک جا پہنچتے ہیں۔ جو کام انہیں کونسلر، یو سی ناظم، ٹاون ناظم یا ضلع ناظم بن کر سیکھنا چاہیے وہ یہ کام وفاقی یا صوبائی وزیر بن کر سیکھتے ہیں۔ یوں ان کی غلطیوں کا نقصان پاکستان کے لوگوں کو صوبے یا مرکز کی سطح پر اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ سب بھی اس لیے ہو رہا ہے کہ ووٹرز سیاسی لحاظ سے اتنے باشعور نہیں ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے ووٹرز کو باشعور نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ووٹرز کے باشعور ہونے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی پرانی سیاسی جماعتیں ہیں۔اس لئے استحکام پاکستان پارٹی کو چاہئے ممبر سازی مہم سے پہلے عوام تک اپنا منشور پہنچائے۔
استحکام پاکستان پارٹی کو اپنے نام کی لاج رکھنے کے لئے ضروری ہے وہ عوام کو سیاسی طور پر باشعور کریں۔ عمران خان نے عوام کو شعور کے نام پر سیاسی نفرت، شدت پسندی ، اور بد تمیزی سیکھائی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کی ذمہ داری ہے عوام کو گالم گلوچ کی جگہ دلیل سے قائل کرنے کا شعور دے کیونکہ سیاسی نفرت کو فروغ دینے والوں کی سب سے بڑی نشانی 9 مئی کے دلخراش واقعات ہیں۔ چونکہ استحکام پاکستان پارٹی تجربہ کار اور کامیاب سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ صنعت و تجارت میں بھی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں انہیں چاہیے کہ ہر سطح پر ہر طرح کے استحکام کو ہدف بنا کر آگے بڑھیں۔ اپنے منشور کوگھر گھر پہنچائیں ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں سے منشور کی بنیاد پر گفتگو کریں۔ سیاسی منشور کا موازنہ عوام تک پہنچائیں۔
Facebook Comments HS