بھکاریوں کا شہر: کوئٹہ


گرمیوں کے موسم میں جو لوگ تھوڑا صاحبِ استطاعت ہوں اور غمِ روزگار سے جب آزاد ہوں تو انکی یہی خواہش ہوگی کہ وہ سرد علاقوں کا رُخ کریں۔ آج کل کوئٹہ کا بھی یہی حال ہے، جو بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔
وہ بھی ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے کوئٹہ کا رُخ کرتے تھے۔ یہ شہر بلوچ قوم کے لئے علم و ادب اور خاص طور پر سْیاست کا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں بلوچستان بھر سے طلباء و طالبات آکر اس درسگاہ سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر اپنے علاقوں میں واپس لوٹتے تھے۔ مگر پھر حالات بدل گئے۔ بلوچستان جنگ کی آگ میں سلگتا رہا۔ قوم پرستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ملک بھر سے لاشوں کے ٹھیکیدار اسی شہر میں آکر جمع ہوتے گئے۔ جس شہر کو علم و ادب کی وجہ سے ایک امتیازی حیثیت حاصل تھی وہ ایک دم سے بھکاریوں اور ٹھیکیداروں  کی آماجگاہ بن گیا۔
اب یہاں آپ کو ہرقسم کے بھکاری نظر آتے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے لے کر شمالی سندھ تک، خیبر پختونخوا سے لے کر تُربَت تک  ہر برانڈ کے بھکاری آپ کو ملیں گے۔ کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے لے کر ہر چھوٹے بڑے ہوٹل میں یہی لوگ نظر آتے ہیں۔ سیرینا ہوٹل ہو صوبائی سیکرٹریٹ ہو یا صوبائی اسمبلی ، جہاں بھی نظر دوڑائیں آپ کو بھکاری ہی ملیں گے۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ جس شہر میں لوگوں کی علمی اور سْیاسی تربیت ہوتی تھی اب وہاں پہ بھکاریوں کا راج ہے؟
 پہلی  بات تو یہ ہے کہ ان حالات نے تقریباََ اس ملک کے تمام طبقات کو بے روزگار کردیا ہے۔ ایک عام انسان سے لے کر سرکار اور سردار سب بھکاری بن گئے ہیں۔ جس ملک کی سرکار اپنے اثاثوں پر فخر کرتی تھی آج وہی سرکار آئی ایم ایف کے سہارے چل رہی ہے۔ جو سردار اپنی شان و شوکت بڑھانے کے چکّر میں بڑی بڑی اراضیوں کے مالک تھے اب بوٹ پالش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یا اس انتظار میں ہیں کہ کبھی کوئی ٹکڑا انہیں بھی مل جائے۔ بیوروکریٹس تو ہر روز اسی بات پہ بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ کیسے بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کریں۔ پھر ہر بڑا بھکاری اپنی بساط کے مطابق چھوٹے بھکاریوں کا پیٹ پالتا ہے۔ یہ سلسلہ بڑی اداروں سے شروع ہوکر ایم۔این۔ایز اور ایم۔پی۔ایز تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر ان میں ہر ایک کے پاس ٹھیکیداروں کا ایک جتّہ ہے تو انہیں بھی پالنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سب بھکاری پورے صوبے سے آکر اسی شہر میں جمع ہو چکے ہیں۔
اب اگر کوئی اس شہر میں یہ اُمید لے کر آئے کہ وہ یہاں سے کچھ سیکھ کر جاتا ہے تو یہ اسکی خام خیالی ہوگی۔ ہاں البتہ اگر آپ بھکاری ہیں تو یہ آپ کے لئے ایک بہترین سٹیشن ہے۔
جس شہر کو "لٹل پیرس” کہا جاتا تھا اب یہاں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ ٹریفک کا تو ایسا نظام ہے کہ کبھی کبھی دس منٹ کا راستہ دو گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے، بے روزگاری نے لوگوں کا جینا محال کردیا ہے۔ اب بس ایک ہی راستہ ہے کہ اگر اس شہر میں رہنا ہے تو آپ نے بھی بھکاری بننا ہے ورنہ یہ ” لٹل پیرس ” اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔
اچھے وقتوں میں کوئٹہ کے کچھ مناظر دیکھ لیجئے:
Facebook Comments HS