کوئی ہو شرمسار، ناممکن!
گھر کی چار دیواری میں تیرہ برس کی بچی کی عزت اس کے سگے باپ اور بھائی نے روندی۔ بچی نے اپنے بھائی کی اولاد کو جنم دیا، کون شرمسار ہوا؟ کوئی نہیں۔ کراچی اور ٹھٹھہ میں لڑکیوں کی لاشیں قبر سے نکال کر ان کی بے حرمتی کی گئی۔ کون شرمسار ہوا؟ کوئی نہیں۔ گجرات میں معذور خاتون کی لاش قبر سے نکال کر اس کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ کون شرمسار ہوا؟ کوئی نہیں۔ تازہ ترین واقعہ، کراچی میں ایک مرد نے سر عام کپڑے اتار کر ایک باپردہ لڑکی سے لپٹنے کی کوشش کی۔ کون شرمسار ہوا؟ کوئی نہیں۔ یہ تو گنتی کے واقعات ہیں جو میں نے یہاں لکھے ہیں۔ ہر روز کہاں کہاں کیا کیا ہوتا ہے لکھنے بیٹھوں تو لکھ نہ پاؤں گی۔ کسی مرد، کسی مولوی، کسی حکومتی کارندے، کسی انتظامی کارندے کسی انصاف کے ٹھیکیدار کا مذمتی بیان سامنے نہیں آتا۔ لڑکیوں کو چھوڑیں، ننھے لڑکوں کے ساتھ بد فعلیاں کی جاتی ہیں۔ کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ سب کے سب منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ سب کانٹھ آخر کیے کس نے؟ یقیناً کسی عورت نے نہیں۔ لیکن پھر بھی میں نا مانوں کی مصداق ہمارا پدرسری معاشرہ تین انگلیاں اپنی جانب کرتے ہوئے عورت کی جانب اپنی ایک انگلی سے اشارہ کیے جاتا ہے کیے جاتا ہے یعنی کہ چت بھی میری پٹ بھی میری اور انٹا میرے باپ کا۔ اس معاشرہ کا ہر مرد چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ میں کروں گا سب کچھ، لیکن میں کسی کو بولنے بھی نہ دوں گا۔
حال ہی میں ڈاکٹر طاہرہ اور دیگر خواتین ڈاکٹرز کی ایک انتہائی تکلیف دہ پہلو کو آشکارا کرنے کی جرات مندانہ کوشش پر جو رد عمل سامنے آیا وہ انتہائی افسوسناک رہا۔ ثابت ہوا تعلیم آپ کے جہل کو ختم نہیں کر سکتی۔ اپنے اپنے شعبہ میں عمر گزار کر خدمت کی تاریخ رقم کرنے والی عورتوں کو جھوٹا، مکار، ڈرامے باز اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔ ایسے موقع پر ہی کہا جاتا ہے کہ جی چور کی داڑھی میں تنکا۔ اس حوالے سے پڑھے لکھے مردوں نے ایسے ایسے لچر پن کا مظاہرہ کیا کہ اللہ کی پناہ۔ لوگوں نے ڈاکٹر طاہرہ اور ان کا ساتھ دینے کے لیے اپنے تجربات کی روشنی میں تصدیق کرنے والی خواتین کو جھوٹا اور اپنے آپ سچا صادق کہا گیا۔ لیکن پوچھنا یہ ہے کہ، جن عورتوں نے یہ بات کی وہ ایک باعزت پیشے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے پاس قابلیت ہے، تجربہ ہے، معاشرے میں ایک مقام ہے، تو بھیا یہ بتائیے ان میں کچھ باجیاں بھی شامل ہیں، آپ بھی بتائیے کہ آپ کون ہیں؟ اس معاشرے میں انسانی خدمت کے زمرے میں آپ کی کیا خدمات ہیں؟ آخر ان کو جھوٹا مان کر آپ کو سچا کیوں مانا جائے؟
اس ضمن میں مخالفت کرتے کرتے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والی خواتین سے عرض ہے کہ بی بی جن مظلوم عورتوں کا ذکر ہے، اور وہ جن تکلیفوں سے گزرتی ہیں، اگر آپ کو ان سب سے نہیں گزرنا پڑتا تو آپ خوش نصیب ہیں۔ اپنی خوش قسمتی پر ناز کیجیے لیکن شتر مرغ کی طرح گردن ریت میں مت دبائیے۔ اگر اپ کسی تکلیف سے نہیں گزرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس تکلیف کا، اس ظلم کا کوئی وجود نہیں۔ آپ کچھ نہ کیجیے کم سے کم اچھا بولیے۔ جو لوگ معاشرے کے ٹھیکیداروں کو ناراض کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، کمزوروں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ان کو دھکا مت دیجیے۔
آج ہی کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید سے دوران گفتگو یہ پتا چلا کہ مرد، عورت، بچے اور ٹرانس جینڈرز میں سے میڈیکو لیگل تک پہنچنے والے زخمی متاثرین میں سے سب سے بڑی تعداد خواتین کی ہے، یہ متاثرہ خواتین، سسرال والوں یا اپنے باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں بدترین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، لیکن سب سے بڑی تعداد ان خواتین کی ہے جو اپنے شوہروں یعنی مجازی خداؤں سے مار کھا کر آتی ہیں۔ اب کہہ دیں ان کو بھی جھوٹا۔ لیکن جناب، ان کو جھوٹا کہنا اتنا آسان نہ ہو گا کیوں کہ ان کے پاس ساری رپورٹس رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ اور یہ سارے اعداد و شمار کراچی جیسے بڑے شہر کے ہیں جہاں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ چھوٹے علاقوں کی تو بات ہی نہ کریں۔


