اعجاز الحق کا عذر گناہ

اعجاز الحق صاحب ابن جناب جنرل ضیا الحق صاحب مرحوم کا ایک مضمون مورخہ 8 جولائی 2023 کو نوائے وقت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ 5 جولائی 1977 کے اقدام اور آئین کی بالادستی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”جہاں بھی حکومت آئین کی اس بنیادی روح کو نہیں سمجھے گی اور اسے نظر انداز کرے گی تو پھر آئین کہتا ہے کہ ملک کا ہر شہری آئین کا وفادار ہو گا۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو پانچ جولائی جیسے واقعات کے ہر سوال کا جواب دیتی ہے۔ (ایسی بات اگرچہ آئین میں کہیں درج نہیں ہے۔ ناقل) ہو سکتا ہے کہ کوئی اسے تعصب کی آنکھ سے دیکھ رہا ہو لیکن جب اسے حقائق کے عدسے سے دیکھا جائے گا تو اس فوجی اقدام کے لئے اس وقت کی حکومت کے مستقل اقتدار میں رہنے کے خاموش اقدامات اور خواہشات کا ایک انبار نظر آئے گا۔“
اعجاز الحق صاحب ایک سیاسی جماعت کے لیڈر بن چکے ہیں لیکن ان کو ابھی تک یہ علم نہیں کہ سیاسی پارٹی کا مستقل اقتدار میں رہنے کے لئے خواہشات کا انبار کوئی جرم نہیں بلکہ یہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ حصول اقتدار یا اس کے دوام کے لئے قانونی کوشش کرے۔ اور پارٹیوں کی یہی کشمکش جمہوریت کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر پانچ جولائی 1977 کے اقدام کے جواز میں مزید دلائل دیتے ہوئے اس اقدام کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
” 5 جولائی 1977 کے فوجی اقدام سے متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا بھی گیا۔ 46 سال گزرنے کے باوجود یہ موضوع پرانا نہیں ہوا، آج جب بھی کوئی اس واقعہ پر گفتگو کرے گا تو اسے حامی اور مخالف نکتہ نظر ملے گا“ ۔ اور ” یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ملک میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی سیاسی وراثت نہ صرف موجود ہے بلکہ اس ملک کی ترقی، سلامتی، خوشحالی اور اس ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے ناقابل تسخیر اقدامات کی وجہ سے ان کی سیاسی وراثت کا دائرہ وسیع ہے“
کامن سینس سے ہٹ کر بھی ہر انسان کی ایک اپنی منطق ہو بھی سکتی ہے لیکن ان کی منطق نے تو نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
5 جولائی 1977 سے پہلے اور بعد کے واقعات کو بڑا قریب سے اور کسی تعصب کا عدسہ لگائے بغیر مشاہدہ کرنے کا جو موقع ملا وہ الگ ان کے بیان کے برعکس ہے۔ لیکن اعجاز الحق صاحب کے اپنے ہی ”سنے سنائے“ بیان میں تضادات اور جناب جنرل ضیا الحق صاحب کی پہلی تقریر، آٹھویں ترمیم اور آئین سے روگردانیاں ہی ان کے بیانیہ کی تردید کے جب عملی ثبوت میرے سامنے پیش کر رہی ہوں تو کھلی حقیقت کا انکار ناممکن ہے۔ ان کے بقول کہ:
” 17 اگست کو ان کے یوم شہادت پر ہر سال ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مند دعا کے لیے آتے ہیں۔“
کوئی اخلاقی یا قانونی جواز مارشل لاء کا مجھے تو دکھائی نہیں دیتا۔
ضیا الحق صاحب کا حادثے میں ہلاک ہونا دکھ کی بات ہے۔ اس پر یقیناً خوشی نہیں لیکن اس روز کروڑوں لوگوں نے جو سکھ کا سانس لیا تھا اس کو بھی تو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ بے شک مرحوم آپ کے والد تھے لیکن صداقت کو چھپا نے کی اجازت کوئی اخلاق نہیں دیتا کجا اسلامی اخلاق۔ بھٹو کے اقتدار سے علیحدہ ہونے پر کشمکش سے تھکی عوام کو ریلیف ملا اور ضیا الحق کے حادثہ پر بھی عوام نے سر سے اتری ایک بلا محسوس کی۔ بھٹو صاحب کو لوگ اب بھی زندہ اور شہید شمار کرتے ہیں اور ان کی برسی آن بان سے منائی جاتی ہے۔ دونوں کی اموات ان کے آئینی فرائض میں کوتاہی کے لئے کسی طور بھی ڈھال کا کام نہیں دے سکتیں۔
خاکسار پیپلز پارٹی کا حلیف نہیں ہے لیکن اعجاز الحق صاحب کے مضمون میں پیپلز پارٹی کی چیرہ دستیوں کو مارشل لا کا جواز بھی بنایا گیا ہے اور ان کا کافی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان بد اعمالیوں سے انکار نہیں لیکن ان سے مارشل لا کا جواز اور پھر جھوٹے ریفرینڈم کی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ دنیا میں ایسا شاید کسی اور جگہ ریفرینڈم ہوا ہو۔ عزیزم اعجاز الحق صاحب! ریفرینڈم میں کیا گیا سوال پڑھ کر اس پر خدا کے لئے ایک بار غور تو کریں۔
”کیا آپ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے پاکستان کے قوانین کو قرآن پاک اور سنت نبوی ﷺ میں بیان کردہ اسلام کے احکام کے مطابق لانے کے لیے شروع کیے گئے عمل کی توثیق کرتے ہیں؟ اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لیے، اور کیا آپ اس عمل کو جاری رکھنے اور مزید مستحکم کرنے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی ہموار اور منظم منتقلی کے حق میں ہیں؟“
سوال میں ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ جواب طلب کیا گیا۔ اثبات میں جواب دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ جنرل ضیاء کو 1990 تک صدر کے عہدے پر برقرار رہنے کی حمایت۔
مارشل لا کے ابتدائی دنوں میں کوئٹہ تھا ہمارے دفتر میں ایک صحافی آئے اور بتایا کہ انہوں نے یا ان کے ساتھی نے ضیا الحق صاحب کے کوئٹہ تشریف لانے پر ان کے مارشل لاء پر آئینی جواز کا سوال اٹھایا تو جنرل ضیا الحق صاحب کے جواب: ”یہ چھیاسی صفحے کی کتاب ہے۔ میں جب چاہوں اسے پھاڑ سکتا ہوں“۔ نے ہمیں تو مبہوت ہی کر دیا۔ اور پاکستان پر منڈلاتی ہوئی تاریکی برسوں پر محیط دکھائی دینے لگی۔
اعجاز الحق صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ سارے حالات جو مارشل لا کا باعث بنے ان کی تفصیل سے جنرل صاحب کو جب آگاہی تھی اور پھر نوے دن میں الیکشن کروانے کا عہد خدا اور رسول کا نام لے کر عوام کو گواہ بنا کر نہیں کرنا چاہیے تھا۔
”اعمال کا دارو مدار نیتوں پر“ شمار کیا جائے ( جس پر اعجاز الحق صاحب اور ان کے والد محترم کو بوجہ حدیث صحیحہ ہونے کے سو فیصد یقین ہونا چاہیے) تو ان کے اعلان اور عمل میں تفاوت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے پروگرام میں نوے دن کے اندر اندر الیکشن کروانے کا کوئی ارادہ سرے سے تھا ہی نہیں اور یہ اعلان فقط فوری ایجی ٹیشن کی روک تھام کے لئے تھا۔
حیرت کی بات ہے کہ اعجاز الحق صاحب نے ”آئین کی بنیادی روح“ کو سمجھاتے ہوئے اور ”ملک کا ہر شہری آئین کا وفادار ہو گا“ لکھ کر 5 جولائی 1977 کے اقدام کو آئین سے وفاداری قرار دے رہے ہیں۔ ان کی یہ دلیل آئین کی تقدیس کے ذکر کے ساتھ ایک طرف تو آئین کے خاتمے کو مباح قرار دے رہی ہے اور ایسی باتیں شاعری میں تو محبوب سے کی جا سکتی ہیں کہ :
اگر آں صنم ز رہ ستم، پئے کشتم بنھد قدم
لقد استقام بسیفہٖ فلقد رضیت بما رضیٰ
اگر وہ محبوب مجھ پر ستم ڈھانے کی غرض سے، میرے قتل کے لیے قدم بڑھائے گا تو میں ضرور اس کی تلوار کے سامنے استقامت دکھاؤں گی، چونکہ میں اس کی رضا پر راضی ہو چکی ہوں
لیکن دنیا کے کسی بھی آئین میں اس طرح کی بات درج نہیں ہے کہ نام نہاد ”وفادار“ شہری آئین کی دھجیاں اڑانے آئے تو وہ آئین اسے برضا رغبت خوش آمدید کہنے کے لئے چہرے پر مسکراہٹ بھی بکھیرے گا۔
دوسری طرف ان کی یہی دلیل بڑی ہی بھیانک بات کی دعوت دیتی ہے اور ان کی اس دلیل سے یہ حق ہر شہری کو حاصل ہو جاتا ہے کہ اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو آئین شکنی اور قانون شکنی کے ساتھ ساتھ جتنوں کو چاہے قتل بھی کر دے ان کے مطابق آئین جواز فراہم کرتا ہے۔ سیاسی جد و جہد جب ملکوں میں اس قسم کے جواز کی بنا پر شروع ہوتی ہے تو کئی نسلوں کو اس حماقت کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور یہی پاکستان آج کل بھگت رہا ہے۔
ملک کی پارلیمنٹ کو اختیارات حاصل ہیں وہ حقوق نہیں ہیں جو کسی ادارے نے عطا کیے ہوں پارلیمنٹ کے سامنے باقی سب ادارے ماتحت رکھ کر ہی ملک کو جمہوریت کی راہ پر گامزن کیا جا نا ممکن ہے۔ اس کا ایک موقع عمران کو حاصل ہوا تھا جب ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی۔ ان کے ”غلام“ اسپیکر قومی اسمبلی نے اسے پیش ہونے سے روک کر یہ موقع ضائع کر دیا۔ کاش وہ ایسا نہ کرتے اور نہ ہی کرواتے۔ جن ممالک میں جمہوریتیں ہیں وہاں آئے دن حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ جمہوریت ایک سیکھنے کی چیز ہے اور اپنے مخالف کو ملک کی خاطر قبول کرنا ایک جمہوری لیڈر کی ابتدائی علامت ہے۔

