ثقافت کا پاسبان: کسان


سرزمین پاکستان میں زراعت کا شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالواسطہ اور بلاواسطہ اس سے جڑے افراد کو مستفید ہو رہا تو کوئی محنت شاقہ سے کام لے رہا ہے سائنس نے برق رفتاری سے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے اس سے ہر شعبے میں جدت آئی ہے وہیں زراعت کے شعبے میں بھی بیش بہا اضافہ ہوا ہے وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا زرعی آلات کی۔ زراعت سے جڑے افراد کا ایک مخصوص طبقہ جسے دہقان کہا جاتا ہے یہ مٹی کے خمیر کو اپنی سوچ نگاہ مشاہدے بصیرت اور ہاتھوں سے جانچتا ہے اسے نا کسی لیبارٹری کی ضرورت ہوتی اور نا ہی سیمپلز لینے کی وہ اپنے کام کو پیشے کے ساتھ اپنی ثقافتی روایات بھی سمجھتا ہے ایسے افراد اپنے زمینوں کے مالک بنتے وقت ان طریقوں کو بھی بطور ورثہ لیتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ ان زمینوں پر کاشت کر سکتے ہیں یہ بات بالکل بھی اچنبھے کی نہیں ہوگی جس کا تذکرہ ذیل میں ہے کہ دور جدید مگر طریقہ ہے قدیم صنف تحریر کو آپ روداد سمجھیں یا فیچر اسلوب بس راقم کا ہے ہی ایسا مقصود ابلاغ ہی ہے۔

صدیوں پرانی روایت بیلوں کے ذریعے سے ہل چلا کر فصلیں کاشت کرنے اور کنویں کے پانی سے فصلات سیراب کرنا آج بھی کوٹ ادو کے دہقان عبدالعزیز نے زندہ رکھی ہوئی ہے۔ اپنے پرکھوں کی نشانی اور ثقافت سمجھ کر وہ آج بھی کنویں کے پانی سے فصلوں کو سیراب کرتے ہیں عبدالعزیز ایک محنت کش کسان ہے جس نے عصر حاضر میں سائنس و ٹیکنالوجی کی جدید سہولیات کے باوجود مشقت طلب کام کو اختیار کر رکھا ہے اس کا کہنا ہے کہ ایک تو مہنگائی نے زراعت کو شدید متاثر کر رکھا ہے ڈیزل کے ذریعے سے ٹیوب ویل کے ذریعے سے فصلوں کو سیراب کرنا ہو یا مشینری کے ذریعے سے کھیتی باڑی کرنا ان کی پہنچ سے دور ہیں۔ ایک ایکڑ کو سیراب کرنے اور ہل چلانے کے لیے اگرچہ اسے تین سے چار دن درکار ہوتے ہیں لیکن کم خرچ بالا نشین کے مصداق وہ قلبی اطمینان رکھتا ہے۔ کھیتوں کو پانی دینے کے لیے اس نے رقبے کو مختصر اور چھوٹے چھوٹے حصوں بانٹ رکھا ہے جس سے سیراب کرنے میں دقت نہیں رہتی اور پانی کا ضیاع بھی نہیں ہوتا عبدالعزیز نے اپنے باپ دادا کی اس روایت کو نا صرف خود زندہ رکھا ہوا ہے بلکہ اس کی یہ خواہش اور نصیحت بھی ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی اسے اپنا ورثہ سمجھتے ہوئے برقرار رکھیں۔ بیلوں کی جوڑی سے کھیت میں ہل چلا کر معاشی پستی کو دور کرنے کا حل نکالنے کی بھر پور انداز میں جدوجہد کر رہا ہے۔

 

Facebook Comments HS