بے نظیر سلامت تیری توقیر
نوحہ خوانی کرتی پرسہ دیتی صف ماتم بچھاتی آشفتہ حال کر گئی 27 دسمبر کی وہ اداس بے آس شام شفق کی سرخی بھی لال تھی۔ شاہ خاور بھی ڈوبنے کو بے تاب تھا ہر آنکھ اشک بار اور دل بوجھل تھا جیالوں کے علاوہ بیسیوں کے حلق میں آنسؤں کا ذخیرہ جیسے پھنس گیا تھا۔ سر نوچتے سینہ کوبی و بین کرتے بی بی کی جدائی کے نوحے پڑھتے سبھی ماتم کناں تھے۔ 27 دسمبر 2007 ء کی ظالم
Read more
