ارد گرد سے



ایک بات تو طے ہے کہ ذہنی طور پر متحرک رہنے کے خواہشمند لوگوں کے رہنے کے لئے بہترین ملک پاکستان ہی ہے۔ وہ جو اگلے وقتوں میں غالب صاحب فرما گئے کہ ”ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے“ ارض پاک کے بارے میں ہی تھا۔ بظاہر پردے کے سامنے کا منظر کچھ اور ہوتا ہے، اس کے پیچھے کچھ اور، اور اس کے پیچھے کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ آج پیش ہے ہمارے ارد گرد مسلسل چلتے تماشوں میں سے چند۔

صدیوں سے رائج انسانی تخلیق سے جڑے علوم و فنون کے اپنے اپنے مزاج ہیں۔ ایک شاعر کہتا ہے کہ اسے آمد ہوتی ہے، ایک مصور کو تخلیق کے لیے مناسب ماحول چاہیے اور ایک سائنسدان کو تجربات کے لیے ضروری آلات درکار ہوتے ہیں۔ یہ سب اس بات کا مظہر ہے کہ تخلیق کے کچھ بنیادی اجزاء قدرت انسان کی مٹی میں گوندھ کر دنیا میں بھیجتی ہے، باقی وہ اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ دنیا کے کچھ نا سمجھ ممالک میں بچوں کی صلاحیت دیکھ کر اسے سازگار ماحول مہیا کر دیا جاتا ہے یعنی اسے اس کی صلاحیت کے مطابق درس گاہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔

اس سب کے بر عکس ارض پاک میں بچوں کے لئے ایک لا محدود درس گاہ موجود ہے۔ یہاں داخلے کی واحد شرط یہ ہے کہ آپ کوشش کر کے یہاں پیدا ہو جایں۔ ویسے جس ذوق و شوق سے یہاں شادیاں ہوتی ہیں اس کے لیے کچھ زیادہ کوشش کی ضرورت بھی نہیں۔ وطن عزیز چونکہ پچھتر سال کی ٹامک ٹویوں کے باوجود ابھی تک ترقی کی اس سیڑھی کو ڈھونڈ رہا ہے جو ہمسائے مانگ کر لے گئے ہیں لہٰذا یہاں حالات یکسر مختلف ہیں۔ یہاں تخلیق کے لئے سازگار ماحول ہر طرف با آسانی دستیاب ہیں۔ اب اگر کسی کی مٹی میں دم ہے تو اپنی پہچان بنانے کا کام وہ خود ہی سر انجام دے لے گا۔ ذرا غور کریں تو ہمارے ارد گرد ظاہر اور مخفی، اتنا کچھ ہو رہا ہوتا ہے کہ تخلیق کار کم پڑ جائیں اور تماشے کم نا ہوں۔

اس ضمن میں علوم و فنون کی کوئی قید نہیں۔ ذرا گردن گھمایے، آپ کو شاعروں، ادیبوں اور مصوروں کا ایک جلوس نظر آئے گا جو بغیر کسی خاص تربیت کے اپنے اپنے فن کے جواہر نایاب مختلف پلیٹ فارموں پر بکھیر رہے ہیں۔ اب لفظ پلیٹ فارم کو ہی لے لیں، کچھ دہائیاں پہلے اس کے معنی ریل گاڑیوں کے کھڑے ہونے کا مقام سمجھا جاتا تھا۔ آج چونکہ دنیا الٹ پلٹ ہو چکی ہے تو اس کا مطلب لوگوں کے شور مچانے کی جگہ ہے۔ کسی من چلے نے جب یہ جان لیا کہ انسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ”رولا“ ڈالنے کے لئے مناسب انتظام کا نا ہونا ہے تو انٹر نیٹ ایجاد کر دیا اور آج اس سے جڑے مختلف ہوائی علاقوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کہا جاتا ہے۔

میرے عزیز ہم وطن چونکہ ہر چیز کا فلوس نکالنے پر دسترس رکھتے ہیں لہٰذا یہاں ان ہوائی پلیٹ فارموں پر تخلیق کاروں اور جنگجوؤں کا ایک جم غفیر نظر آتا ہے۔ غور کریں تو اپنے ارد گرد دو طرح کی دعائیں واضح تفریق کے ساتھ نظر آتی ہیں ؛ ایک اصل اور ایک ہوائی بالکل انسانوں اور جنات کی الگ الگ دنیاؤں کی مانند۔ چونکہ ان کا الگ الگ تجزیہ بہت وقت طلب ہے لہٰذا ”یہ کہانی پھر سہی“ ۔ آج اپنے ارد گرد سے کچھ چنیدہ چیزیں پیش ہیں جو اصل دنیا کے اخبارات سے اخذ کی گئی ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے مردم شماری ہو رہی ہے اور بہت سے مرد حضرات یہ شماری کر رہے ہیں اور اب نتائج بھی آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اخبار میں چھپی خبر سے معلوم ہوا کہ مردم کے ساتھ کچھ اصحاب بھینس شماری پر بھی متعین تھے۔ ان کی محنت شاقہ کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ الحمدللہ انسانوں کے ساتھ ساتھ بھینسوں کی آبادی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے لہٰذا ہمیں اس معاملے میں فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔

ہمارے خیال میں مردم شماری کرتے ہوئے اگر آرٹسٹ شماری، شاعر شماری، تجزیہ نگار شماری، دانشور شماری، وغیرہ وغیرہ بھی لگے ہاتھوں کر لی جاتی تو شاید کچھ فائدہ ہو جاتا (کس کو ہوتا، یہ نہیں بتا سکتے ) ۔

دیگر ممالک میں تو ان شماریوں کی بنیاد پر انسانوں کی ضروریات کے مطابق درس گاہیں اور ہسپتال وغیرہ بنائے جاتے ہیں، لیکن پاکستان چونکہ مملکت خداداد ہے لہٰذا ہم صرف شماریاں کرتے ہیں، باقی خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اب پاکستانی بھی ماشاءاللہ حکومتی کارکردگی جیسی فرسودہ باتوں پر امید لگانے کی بجائے اپنی پسند کا میدان چنتے ہیں اور اپنا ہنر اصل یا ہوائی پلیٹ فارموں پر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

سڑک پر چلتے ہوئے ٹرکوں کو ہی لیجیے، ان پر بنے مصوری کے شاہکار دنیا میں انوکھے سمجھے جاتے ہیں

پاکستان کے مناظر ہوں، ٹرک کے مالک کی پسند کے فلمی اور سیاسی ستارے یا عوامی دانش سے بھرپور شعر، سبھی ٹرک کی پشت پر جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ اس فن کی مقبولیت دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عنقریب اسے آرٹ کے ادارے اپنے نصاب میں شامل کر لیں گے۔ ویسے اس آرٹ کو سیکھنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ ٹرک، ٹرک آرٹ اور ٹرک کی بتی کا ہمارے یہاں ویسے ہی کافی بلند مقام ہے۔

پاکستان میں سرکاری ملازمت کرنے والوں کا رتبہ بلند ہوتا ہے جس کا ثبوت عوام کے کاغذات کو اپنی مقدس مہر سے صحیح ثابت کرنے کی طاقت ہے۔ کل کی اخبار میں چھپی خبر سے معلوم ہوا کہ صرف انسان ہی اس اعلٰی مقام پر سرفراز نہیں بلکہ کچھ چنیدہ کتے بھی سرکاری ملازمت کا شرف رکھتے ہیں۔ خبر کے مطابق پنجاب پولیس کے چھے کتوں کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے پر نا صرف باقاعدہ رخصتی پارٹی دی گئی بلکہ پینشن کے طور پر کسی مناسب گھر میں ان کی رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا۔ یقین جانیں یہ پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ امید واثق ہے کہ ملک کے دیگر حساس، غیر حساس اور اعلی اداروں کے کتے بھی اسی طرح سرکاری توجہ حاصل کرتے ہوں گے۔ کون کمبخت کہتا ہے کہ ہمارے یہاں جانوروں کے حقوق نہیں۔

بقول استاد شفیق الرحمٰن صاحب کے :
کس چیز کی کمی ہے خواجہ تیری گلی میں
گھوڑا تیری گلی میں، نتھیا تیری گلی میں۔

Facebook Comments HS