درخت لگاتا کوئی ہے، پھل کوئی اور کھاتا ہے


انسانی زندگی کی تمام بہاریں اور خوشیاں جدوجہد ’تگ و دو اور محنت پر منحصر ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”جیسا بونا ویسا کاٹنا“ ۔ جیسی اور جتنی ہم محنت کرتے ہیں ویسا ہی صلہ ہمیں ملتا ہے یا جیسا ہم کرتے ہیں ویسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی کام کرنے سے پیشتر ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ کہیں ہمارے اس عمل سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہو رہی‘ کسی کا حق تو نہیں مارا جا رہا یا کسی کو تکلیف یا نقصان تو نہیں پہنچ رہا ہے۔

ہمیں اللہ تعالٰی نے اشرف المخلوقات کا شرف بخشا ہے پھر ہمیں مختلف اور منفرد صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے۔ زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھائے ہیں تاکہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگیاں بھی بہتر بنا سکیں۔ ہر انسان کے تخلیق کیے جانے کے پیچھے کوئی نہ کوئی خاص مقصد ہے ’راز ہے جو اس کو پا لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ پھر مقصد کوئی بھی ہو اسے حاصل کرنے اور اس منزل اور خواب کی تعبیر کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور پھر اسی ضمن میں پہلا قدم اٹھایا جاتا ہے۔ یہ پہلا قدم سب سے اہم ہوتا ہے کیوں کہ صرف سوچنے اور خواب دیکھنے سے منزل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

اسی طرح جب ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں تو دل میں امید کی کرن بھی جاگتی ہے اور توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اب بے شک نتائج ہماری توقع کے مطابق نہ بھی ہوں کم از کم ہم جدوجہد کرتے ہیں اور اپنی منزل کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی لگن اور جستجو کی بدولت ہم اپنی منزل سے لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتے جاتے ہیں۔

انسانوں کی ایک عام فطرت یہ ہے کہ جب بھی ہم کوئی کام شروع کرتے ہیں یا کرنے کا سوچتے ہیں تو ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہ کام ہمارے لیے سود مند ہے؟ کیا حاصل ہونے والے نتائج ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گے؟ اور مطلوبہ نتائج کب تک حاصل ہوں گے ۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنی زندگی میں صرف وہی کام کریں جن کا ہمیں فوری فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ دراصل ہمیں اپنی سوچ کے زاویے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے عمل سے دور رس نتائج حاصل کر سکیں۔

درخت لگاتا کوئی ہے لیکن اس کا پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ جیسے ہم اپنے بچوں کی پیدائش سے ہی ان کی تعلیم و تربیت میں لگ جاتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے خوابوں کو منوں مٹی تلے دفن کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر آج ہم ان کو اپنا وقت دیں گے ’وسائل مہیا کریں گے تو کل وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مستقبل روشن ہو جائے گا۔ ان کی شخصیت میں وقت کے ساتھ نکھار آئے گا۔ آج کا بویا ہوا بیج کل کا تن آور درخت ثابت ہو گا۔

اب یہ وہ سرمایہ کاری ہے جس کے نتائج یا فائدہ ہمیں اسی وقت نہیں ملتا لیکن ہم انویسٹمنٹ کرتے ہیں مستقبل کو ‘ اس کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی محنت اور وسائل اپنے بچوں پر لگاتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے والدین نے بھی ہمارے لیے کیا جس کی بدولت آج ہم اس مقام پر ہیں اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دیں سکیں۔

جیسے ایک آم کا درخت عموماً پھل دینے میں 10 سے 12 سال تک کا عرصہ لیتا ہے۔ اسی طرح ہر فصل چاہے وہ گندم ہو ’چاول یا کوئی بھی فصل ہو‘ اس کو پھل پھول کر ’پک کر تیار ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے اس کے ساتھ اس کو سازگار ماحول‘ محنت اور مناسب خوراک کی ضرورت ہوتی ہے پھر کہیں جا کر ہمیں ہمارے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ اس محنت اور انتظار کا فائدہ صرف کسان کو نہیں ہوتا بلکہ ہم سب کو ہوتا ہے۔ اگر کسان یہ سوچ لے کہ میں یہ کام کیوں کروں تو پھر ہمیں کھانے پینے کے لالے پڑ جائیں گے۔

بانو قدسیہ لکھتی ہیں : پھول یونہی نہیں کھل جاتے ’بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے ”۔

قربانی کسی نہ کسی کو دینی پڑتی ہے۔ اگر بیج بونے والا یہ سوچے کہ بیج نمو پا کر پودا بنے گا اور سایہ دار درخت میں تبدیل ہو گا اور پھل دینے کے قابل ہو گا تب کیا میں اس دنیا میں ہوں گا ’کیا مجھے اس کے سائے میں بیٹھنا یا اس کا پھل کھانا نصیب ہو گا؟ اگر ہم فوری یا ذاتی فائدے کا سوچیں گے تو زندگی میں کچھ کر نہیں پائیں گے اور ہمیشہ اپنی فرسودہ سوچ کی بدولت خسارے کا سودا کریں گے۔

وارن بفٹ کہتے ہیں :
آج کوئی اس کے گھنے سائے میں اس لیے بیٹھا ہے کیونکہ کسی نے بہت پہلے اس درخت کو لگایا تھا ”۔

اگر سب کی سوچ صرف وقتی فائدے اور انفرادیت پر مبنی ہوتی تو ہم کئی ایسی اشیاء سے محروم ہوتے جو موجد نے دن رات اور سالہاسال کی محنت کے بعد تخلیق کیں۔ حتٰی کہ اپنی زندگیاں اور اس کی رونقیں اپنی تحقیقات کی نذر کر دیں تب کہیں جا کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کیے اور کئی سائنسدان اس ایجاد کا سہرا اپنے سر پر سجنے سے پہلے ہی دار فانی سے کوچ کر گئے لیکن آنے والوں کے لیے راہیں ہموار کر گئے ان کو اپنے کام کی صورت میں روشنی اور امید کی کرن دکھا گئے۔

ایک دفعہ ایک بادشاہ کا گزر ایک بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا۔ جو درختوں کی درستگی اور کانٹ چھانٹ کا کام کر رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا ’اے بوڑھے! کیا تجھے ان درختوں کے پھل ملنے کی امید ہے؟ بوڑھے نے کہا‘ بادشاہ سلامت! ہمارے پہلے لوگوں نے زراعت کی تو اس سے ہم لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ اب میں اپنے بعد آنے والوں کے لیے یہ محنت کر رہا ہوں تاکہ وہ نفع حاصل کر سکیں۔ بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت ہی پسند آئی۔ اس نے خوش ہو کر اسے ایک ہزار اشرفیاں انعام کے طور پر دیں۔

اس پر بوڑھا کاشتکار کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: ہنسنے کا یہ کون سا موقع ہے؟ بوڑھا بولا: مجھے اس قدر جلدی پھل ملنے پر تعجب ہوا۔ اس بات پر بادشاہ نے مزید خوش ہو کر اسے ایک ہزار اشرفیاں اور دے دیں۔ بوڑھا کاشتکار پھر ہنسا۔ بادشاہ نے دوبارہ ہنسنے کی وجہ دریافت کی تو وہ بولا ’کاشت کار پورا سال گزرنے کے بعد ایک دفعہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ میری اس زراعت نے اس تھوڑی سی دیر میں دو دفعہ خاطر خواہ فائدہ پہنچایا۔

اس کہانی سے بھی ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اپنی سوچ پر کام کرنا چاہیے صرف اپنا نہیں سب کے یعنی اجتماعی فائدے کا سوچنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے والا بننا چاہیے۔

Facebook Comments HS