حسن نثار کا یونیک ڈی این اے


بعض افراد کو ”کنفیوژن“ کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، اس قسم کے لوگ ساری زندگی یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ”ان کا حقیقی نقطہ نظر کیا ہے“؟ اس قسم کے افراد چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں، جہاں پاؤں ٹکانے کی جگہ ملتی ہے، کھڑا ہونے کی جگہ خود بخود بنا لیتے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خود کو نمایاں کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اپنے قلم سے کسی کو بھی اوتار ثابت کر سکتے ہیں اور مخالفین کو شیطان یا رذیل ثابت کر کے زمین پر پٹخ سکتے ہیں۔ یہ لوگ غصے اور گالیوں کا بھرپور استعمال کر کے خود کو منفرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس قسم کے لوگ ”برائے فروخت“ ہوتے ہیں اور ان کی دانشوری کو خداوندان نظام اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ وطن عزیز میں یہ سلسلہ آج سے نہیں ہے بلکہ شروع سے یہی کچھ چلتا آ رہا ہے، ضرورت پڑنے پر جس کسی سے بھی کوئی کام لینا ہوتا ہے اسے لائم لائٹ میں لانے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ حسن نثار کا تعلق بھی اسی طبقے سے ہے جنہیں شروع دن سے یہ زعم ہے کہ ”وہ حلقہ دانشوراں میں وحدہ لا شریک ہیں، جن کا کوئی ثانی نہیں ہے اور وہ اکیلے ہی پورا سچ جانتے ہیں باقی سب کاٹھ کباڑ اور مایا ہے“

تکبر اور رعونت ان کے دماغ میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ انہیں اپنے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا اور اب تو خود کے متعلق اس سطح تک جا چکے ہیں کہ انہیں کہیں سے یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ ان کا تعلق اس خطے سے ہی نہیں ہے۔ یہ انکشاف انہوں نے حال ہی میں ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا ہے۔ ”فرماتے ہیں کہ ہمارے درجنوں بھائی بہن ملک سے باہر قیام پذیر ہیں، ہم نے ایک بھاری قیمت ادا کر کے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا اس جگہ سے کوئی تعلق نہیں ہے“

میرا ڈی این اے بتاتا ہے کہ ”میرا تعلق سینٹرل ایشیا کے ساؤتھ سے ہے، اسی لیے مجھے پاکستانی جمہوریت سے سخت نفرت ہے اور ہمارے سیاستدان گھٹیا ترین مٹیریل ہیں“

سوچتا ہوں کہ عمر کے اخری حصے میں جا کر ایسے لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے جنہوں نے عقلی رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا تھوڑا بہت کردار ادا کیا ہوتا ہے، وہ یک دم سے ”خیر خواہ“ ٹائپ کیوں بن جاتے ہیں؟

دراصل یہ لوگ اپنی بزرگی یا سینیارٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے، خود کو ریلیونٹ (Relevant) رکھنے کے لیے ان کو کچھ اس قسم کی شعبدہ بازیاں کرنا پڑتی ہیں جو بعض اوقات بہت عجیب اور مضحکہ خیز لگتی ہیں۔

کچھ نوجوانوں میں مقبول رہنے کے لیے روحانی خوابوں کا سہارا لیتے ہیں، کچھ کو عمر کے اخری حصے میں قانون کی کسی اور طرح سے سمجھ آنے لگتی ہے اور کچھ اپنے یونیک ڈی این اے کا شوشا چھوڑ دیتے ہیں۔ اب دیکھا جائے تو اشفاق احمد، واصف علی واصف، نسیم حجازی جیسے لوگوں کا ادب کی دنیا میں کیا ”منفرد“ کردار رہا ہے؟

سوائے قصہ گوئی اور ماورائے عقل نکتہ طرازیوں کے، جن کا آج کی دنیا سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے، یہ کام تو مبلغین بہت اچھے سے کر لیتے ہیں پھر ادبی لبادے کا تکلف کیسا؟

ادیب تو معاشرے کا عکاس ہوتا ہے اور اس کا سب سے بڑا کام معاشرے کو سوچنے پر اکسانا ہوتا ہے تاکہ فکر کا دیا دھیرے دھیرے سے ٹمٹماتا رہے اور انسانی فکر کے اثاثے میں سوچ کے مختلف دھارے شامل ہوتے رہیں، یہ اصحاب پراسرار قسم کی باتیں کر کے لوگوں کو مصروف رکھا کرتے تھے جبکہ حسن نثار جیسا بندہ موقع کی مناسبت سے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ جیسا دیس ویسا بھیس کی بنیاد پر موصوف کا کام انتہائی غصیلے انداز میں پرفارم کر کے میلہ لوٹنا ہوتا ہے، جس قوم پر ایک طویل عرصہ سے دانشوری فرما رہے ہیں اسی پر لعنت ملامت کر کے بڑی چالاکی سے خود کو فاصلہ پر کر لیتے ہیں۔ ظاہر ہے ایک ہی طرح کی گھسی پٹی سی باتیں کوئی کب تک سن سکتا ہے؟

اور آج کی نسل کو کیا مجبوری لاحق ہو سکتی ہے کہ وہ حسن نثار کی 57 سالہ ریکارڈڈ لغویات سنے، جس کا ڈی این اے بھی ہمارے ساتھ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ جسے اس نسل میں گھٹیا پن کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا، جسے صرف ایک شخص میں لینن یا ماؤ کی طرح کا مسیحا نظر آیا تھا جسے تراشنے کی موصوف نے ذمہ داری بھی اٹھائی تھی۔ مگر اس میں سے برآمد کیا ہوا؟ وہی کچھ نکلا جو اس کے قابل ترین اتالیق نے اس کے ذہن میں زبردستی ٹھونسا تھا، جن میں حسن نثار بھی شامل رہے۔

یقین نہ آئے تو ایک طرف حسن نثار کی گفتگو چلا دیں اور دوسری طرف عمران خان کی، چند سیکنڈ میں واضح ہو جائے گا کہ ”استاد اور شاگرد میں کون زیادہ بد زبان ہے“ ؟
شاگرد کو زعم ہے کہ "پوری دنیا کو اس سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اور قدرت کی تمام آسائشیں و آسانیاں اس پر تمام ہو چکی ہیں اور زمین پر وہ واحد انسان ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔” دوسری طرف استاد ایک ایسے عجیب و غریب مخمصے یا واہمے کا شکار ہو چکا ہے کہ جی کھول کے ہنسنے کو جی کرتا ہے کہ کس قسم کے دانشور سے ہمارا واسطہ پڑا ہے۔

”جس کا یہ دعوی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا خمیر تو بہت عالی شان مٹی سے اٹھایا گیا ہے اور اس مٹی کا تعلق اس خطے سے بالکل نہیں“ حسن نثار جیسے عالی نسب بندے کو وہیں ہونا چاہیے جہاں کا ان کا ڈی این اے ہے، اب اس بات کا فیصلہ موصوف نے خود کرنا ہے کہ وہ کہاں رہنا پسند فرمائیں گے؟

کمتر، شودروں، کمیوں، چوروں اور ٹھگوں کے بیچ رہنا ان جیسا قد کاٹھ رکھنے والے بندے کی توہین ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنا عالی شان ڈی این اے رکھنے والے دانشور نے اس گھٹیا ترین سماج کو بہتر بنانے میں کیا مثبت کردار ادا کیا ہے؟

موصوف کی دانشورانہ ڈکشنری میں اب تک کے الفاظ ملاحظہ فرما لیں۔

” چور اچکے، ٹھگ، لچے لفنگے، ڈاکو، چپڑ قناتیے، نجس، رذیل، مکروہ شکلوں والے، گھٹیا ترین اور ٹھگوں کا ٹولہ وغیرہ“ جہاں تک سیاسی وزڈم کا تعلق ہے وہ انتہائی تیزابی نوعیت کی ہے جس کی درستی کا آخری حل ان کی نظر میں چند لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا اور اس سسٹم کو تیزاب سے غسل دینا ہے۔

Facebook Comments HS