جمہوریت کے نام پر ظلم کا راج


لک چھپ جانا، مکئی دا دانا، راجے دی بیٹی آئی جے۔ یہ وہ کھیل ہے جو بچپن میں گلی محلے کے بچے مل جل کر پارکوں اور کھیل کے میدانوں میں کھیلا کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اب یہی کھیل رنگ ڈھنگ بدل کر پارلیمان کے اندر کھیلا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ رہا کہ اب راجے کی جگہ سیاست دان نے لے لی ہے۔ کبھی کسی سیاست دان کا بیٹا اور کبھی کسی کی بیٹی راج کرتی ہے۔ ماضی و حال کے حکمرانوں نے جمہوریت کی پاسداری کرنے کی بجائے اس کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا۔

باری باری کھیلتے ہوئے جمہوریت کے نقش و نگار دیدہ ذیب کرنے کی بجائے ان کو مزید خونخوار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر باشعور پاکستانی موجودہ جمہوریت سے خوفزدہ ہی نہیں ہے بلکہ اس سے پناہ مانگتا ہے۔ کیونکہ دہائیوں سے ان کو اس نظام سے کچھ نہیں ملا۔ ٹیکس ادا کرتے کرتے عمریں بیت گئیں لیکن گھروں میں اجالے نہ ہوئے۔ بمشکل اگر تعلیم مکمل ہوتی ہے تو نوکری کا حصول ایک پہاڑ بن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ میرٹ کا تو تصور نہیں اور تگڑی سفارش ہوتی نہیں، نتیجہ بے روزگاری کا طوق گلے میں پڑ جاتا ہے۔

ہسپتالوں میں چلے جائیں تو وہاں کوئی پرسان حال نہیں۔ تعلیم کے میدان میں ہماری تعلیمی حالت کیا ہے، اس کا پتہ ایک تازہ ترین رپورٹ سے ہوتا ہے جس کے مطابق شرح خواندگی میں پاکستان کا 120 ممالک میں 113 نمبر ہے اور 62.3 فیصد آبادی خواندہ ہے۔ اسی طرح آؤٹ آف سکول بچوں کے حوالے سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر ہے جس کے دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے (پانچ تا سولہ سال کی عمر) سکول نہیں جاتے۔ عوام کی اس تعلیمی پسماندگی کا کون ذمہ دار ہے؟

جب کہ خود ان سب کے بچے، بھانجے بھتیجے اندرون بیرون ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ یہ ماننا ہو گا کہ سب کچھ کلی طور پر اشرافیہ کے شکنجے میں ہے، کس کو کتنا پڑھانا ہے یہ انہی کی مرضی پر منحصر ہے۔ کیونکہ اگر پوری قوم تعلیم یافتہ ہو گئی تو ان کی بیش قیمت گاڑیوں کے آگے پیچھے کون بھاگے گا۔ وی آئی پی کلچر ایک سیاسی اور سماجی لعنت بن چکا ہے جس نے عوام الناس کو صرف روندا ہی نہیں بلکہ ان کو کچل کر رکھ دیا ہوا ہے۔

فرسودہ نظام کی یہ حالت ہے کہ ایک گمنام اخبار یا نیوز چینل کا میٹرک پاس رپورٹر ”پریس کارڈ“ کے ساتھ وی وی آئی پی آئی سہولیات حاصل کر لیتا ہے لیکن ایک عام معزز شہری ”رل“ جاتا ہے۔ اسی طرح مذہبی جماعتوں کے مسلح لانگ مارچ، دھرنوں اور دیگر سرگرمیوں نے بھی پاکستانی نوجوان اور نسل کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ سب کچھ جمہوریت ہی کے تحفے ہیں۔ عدم تحفظ جب بڑھ جائے تو پھر سب بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ ہر اذیت کی بھی کوئی ایک مدت ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ ختم ہوجاتی ہے لیکن پاکستانی اپنے ہی وطن میں ایسی اذیت سے دوچار ہیں جو اب دائمی لگنے لگی ہے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ پاکستانی ایسے نظام کے سائے تلے رہتے ہیں جہاں ووٹ عوام کا ہوتا ہے لیکن اس کے ثمرات اشرافیہ اور اس کا خاندان سمیٹتا ہے۔ انہوں نے پلے سے کچھ خرچ نہیں کرنا اور سرکار کے کھاتے سے موجیں اڑاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حج بھی ایسے ہی کرتے ہیں اور پھر ”سرکاری حاجی“ بن جاتے ہیں۔

ان کی حب الوطنی دیکھیں کہ موجودہ بدترین معاشی بحران میں بھی حاصل شدہ مراعات میں کمی کرنے کی بجائے الٹا ان میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک مثال سینٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور سینٹرز کے لئے مزید سہولیات کے بل کی سینٹ سے منظوری ہے۔ جمہوریت کے نام پر اشرافیہ کی لوٹ مار اب ووٹ کی حد تک ہی نہیں رہی بلکہ اس سے آگے بڑھ چکی ہے۔ عالمی سطح کا منصوبہ بناتے وقت بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات پہلے ہی طے کر لی جاتی ہیں۔

من پسند بندوں کی تعیناتی بھی کردی جاتی ہے۔ جو بھی عالمی پروجیکٹ بنتا ہے اس کے فوائد اور ثمرات اشرافیہ تک ہی محدود رہتے ہیں۔ ہر منصوبے اور عالمی امداد کے اندرونی حصے دار اتنے پیدا ہو چکے ہیں کہ حق دار کو تک جو پہنچتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہوتا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر ایک ایسا بازار سجا ہوا ہے جس میں ایک دیہاڑی دار، سفید پوش اور شریف انفس غریب پاکستانی کی عزت نفس ہی نہیں کچلی جاتی ہے بلکہ بچے کھچے تن من کے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں اور بوٹی بوٹی نوچی جاتی ہے۔

کوئی ان کی چیخیں سننے والا نہیں، نہ ان کو بچانے والا ہے۔ اس خونخوار جمہوریت میں دو ہی راستے باقی بچیں ہیں۔ اپنے وطن میں خود کشی کر لیں یا یورپ کے کسی سمندر میں غرق ہو جائیں۔ چودہ جون کو یونان میں غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کے خواہشمند تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے المناک حادثے میں 350 پاکستانی بھی سمندر برد ہوئے تھے۔ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی کبھی خونی لہروں کی نذر نہیں ہوئے تھے۔ تاہم درجنوں پاکستانی ماضی قریب میں کشتی ڈوبنے اور کنٹینرز میں دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہوتے رہے ہیں۔

اپنے ہی وطن میں جب نوکری کی بجائے در بدر کی ٹھوکریں ملیں تو پھر نوجوان ڈنکی یا کشتی کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش نہ کرے تو اور کیا کرے؟ بیروز گاری کا دیو سب کو نگلنے کے موڈ میں ہے۔ اس بارے ورلڈ آف اسٹیٹیسٹکس ماہ جون کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح ساڑھے چھ فیصد ہو گئی ہے اور دنیا میں بے روزگاری میں پاکستان 24 ویں نمبر پر ہے۔ اگر پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی بات کی جائے تو صورتحال تشویش ناک ہی نہیں بلکہ قابل رحم بھی ہے۔

قرض پر قرض لیتے گئے، ہڑپ کرتے گئے پھر اس منزل تک پہنچنا ہی تھا۔ ایک موقر جریدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تقریباً 125 ارب ڈالرز کے قرضے ادا کرنے ہیں ان میں آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشین ڈیویلپمنٹ بنک اور دیگر عالمی ادارے شامل ہیں جن کے قرضے کی مالیت چالیس سے پینتالیس فیصد ہے۔ پیرس کلب کا دس جبکہ جاپان کا ساڑھے پانچ فیصد قرضہ شامل ہے۔ سب سے زیادہ چین کا قرض پاکستان کو ادا کرنا ہے جو تیس فیصد براہ راست ہے جبکہ سات فیصد کمرشل قرضہ ہے۔

ادائیگیوں کے بگڑتی اس صورتحال کے پیش نظر ملتی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان سے نکلنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھی بیروز گاری بڑھی اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ خبروں کے مطابق فارما سیوٹیکل کمپنیBayer نے اپنے اثاثے مقامی کمپنی کو فروخت کر دیے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں امریکی دواساز کمپنی ایلی للی نے اپنا کاروبار سمیٹنے کا اعلان کیا تھا۔ پٹرولیم کی بڑی کمپنی شیل کے بارے بھی سنا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے شیئرز فروخت کر رہا ہے۔ یہ وہ عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث پاکستانی نوجوان ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کو اپنے ہی وطن میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

اسلامی ملک کے شاہین اپنے ہی وطن سے بھاگ کر کفار ممالک میں کیوں پناہ لینا چاہتے ہیں؟ اگر پیسے کمانا ہی مقصود ہوتا تو پھر مشرق وسطی کے مسلم ممالک ہی سب سے موزوں تھے۔ لیکن پاکستانی مسلمان جمہوریت کی حقیقت اور زندگی کی آزاد رعنائیوں سے روشناس ہونا چاہتے ہیں جو کسی مسلم ملک میں ممکن نہیں۔ اسی لئے وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی یورپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے۔

Facebook Comments HS