بوہے دا جندرا
زہرہ دائی ہمارے شہر کی بہت مشہور و معروف ہستی تھی۔ لمبا قد کشمیری خدو خال سفید رنگت۔ اور آواز میں طنطنہ۔ چلتی تھی تو مرد بھی اس کے بارعب انداز سے جھجک کر کنی کترا جاتے تھے۔ میرے سسرال کی بڑی بوڑھیوں کی دائی بھی وہی تھی لیکن زمانے کی ترقی اور مریضوں کی توجہ ڈاکٹرز کی جانب مبذول ہونے کی وجہ سے اب زچگی کا کام تو کم ہو چکا تھا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ زچہ کو دبانے گھٹنے کا کام بھی اتنا نہ رہا تھا لیکن طنطنہ وہی تھا۔
زمانے کا بدلتا رخ بھانپ کر زہرہ دائی نے شہر کی ایک سینئر گائناکالوجسٹ کے ساتھ رابطہ کر لیا تھا اور یوں جو گھرانے زہرہ پر اعتماد کرتے تھے ان کے تمام کیسز اس کے مشورے سے سینئر گائناکالوجسٹ کے کلینک کی رونق بڑھانے لگے تھے۔ لیڈی ڈاکٹر بھی زہرہ کا خیال رکھتی اور زچہ کا خاندان بھی زہرہ کو راضی رکھتا یوں کام کی نوعیت تبدیل ہونے کے باوجود اس کا سلسلہ ءروزگار جاری تھا۔ دن ہو یا رات کیس والے آ زہرہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ زہرہ اپنا بیگ سنبھالتی شوہر کو آواز دیتی ”سنو جی، بوہے دا جندرا چڑھا لینا میں کیس تے چلی آں“ ۔ شوہر تابعداری سے سر ہلاتا زہرہ کو خدا حافظ کہتا دروازے کی کنڈی چڑھا کر سیاہ رنگ کے تیل آلود دیسی جندرے میں موٹی سی چابی گھماتا۔ پھر اپنی دھوتی کے کنارے سے بندھی چابی اپنی ڈب میں اڑس لیتا۔ اپنے چاروں خوابیدہ بچوں کی طرف شفقت سے دیکھتا۔ سر کھجاتے ہوئے جمائی بھر کر اپنی جھلنگا سے چارپائی پر دراز ہو جاتا۔
علی الصبح بڑی بیٹی کے ہاتھ کی چائے پی کر فروٹ منڈی کا رخ کرتا جہاں سے سبز کیلے کے بڑے گچھے یا کوئی بھی موسمی پھل جو اچھے دام مل جاتا اسے اٹھاتا اور گھر لے آتا۔ سبز کیلوں کو گھر کی اندھیری کوٹھڑی میں پیل ڈال دیتا (پکنے کے لیے رکھنا) ۔ اپنی پرانی لیکن صاف ستھری ریڑھی پر پھل سجاتے ہوئے سب سے بہترین پھل اپنے بچوں کے لیے الگ کر دیتا۔
گزشتہ روز کے پیل ڈلے کیلے اگر تیار ہو چکے ہوتے تو انہیں کاٹ کر چھوٹے گچھوں کی صورت ریڑھی پر سجاتا۔ سبز رنگ کے کیلے دھوپ کی روشنی میں نکھر اٹھتے اور سبز سے سنہرے زرد میں تبدیل ہونے لگتے۔ اس پھل فروش کا کام چھوٹے سے شہر میں بہت زیادہ نہ تھا گھر کا اصل ذریعہ معاش زہرہ کا ہنر تھا۔ لیکن زہرہ نے کبھی شوہر کو کم کمائی کا طعنہ دیا نہ کبھی شوہر نے اپنی ہنر مند بیوی پر کوئی روک ٹوک لگائی۔ زہرہ کا کام ہی ایسا تھا نہ دن دیکھتا نہ رات لیکن شوہر کے اعتماد اور ساتھ نے زہرہ کے اندر ایسا رعب بھر دیا تھا کہ عورت تو عورت کسی مرد کی بھی مجال نہ تھی کہ زہرہ کی طرف ٹیڑھی انکھ سے دیکھ سکے۔
جب میں نے اس شہر میں اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ تب زہرہ دائی بوڑھی ہو چکی تھی۔ بڑھاپے کے باوجود سرخ و سپید رنگت، چہرے کی کھنچی ہوئی بے داغ جلد اور مضبوط کاٹھی بتاتی تھی کہ عمارت پرشکوہ تھی۔ زہرہ دائی میرے پاس اس لیے آئی تھیں کہ سینئر گائناکالوجسٹ نے اس پر کوئی ایسا طنز کر دیا تھا جسے زہرہ کی خودداری برداشت نہ کر پائی۔ مروت میں وہاں تو خاموش رہی لیکن اس روز وہ کیس زہرہ کے حوالے سے سینئر گائناکالوجسٹ کا آخری کیس ثابت ہوا۔
میرے پاس زہرہ کیس لاتی۔ اس کے مریض ہمیشہ اتنے مطمئن ہوتے کہ مطلوبہ فیس ایڈوانس ادا کر دی جاتی جسے ادا کرنے میں عموماً مریض ہیچ میچ کرتے ہیں۔ ایسے رضاکار ساتھیوں کی ہر ادارے کو ضرورت ہوتی ہے اور نئے ادارے کے لیے ایسا ساتھ بہت عمدہ آغاز ثابت ہوتا ہے۔ اسی دوران ایک جوان مضبوط دائی نے شہر میں اس کی جگہ لینا شروع کر دی تھی اس کا نام ملکہ فرض کر لیں وہ بھی پیچیدہ کیسز کے لیے میرے پاس آیا کرتی تھی۔ کبھی کبھار دونوں دائیوں کا آمنا سامنا بھی ہو جاتا۔ بظاہر جوان دائی اپنی سینئر سے عزت سے ملتی لیکن رقابت کا احساس دونوں کے رویے سے صاف جھلکتا۔
اسی دوران زہرہ کی بیٹیوں کے کیس بھی میرے پاس لائے گے کہ اب یہ تعلق محض کاروبار نہ رہا تھا ذاتی سے رشتے میں تبدیل ہو چلا تھا مجھے زہرہ کی خودداری مضبوط شخصیت اچھی لگتی تھی اس دوران زہرہ آہستہ آہستہ ضعیف تر ہو رہی تھی ریٹائرمنٹ تو لے ہی چکی تھی اب خود ایک مریض کی حیثیت سے اسپتال آیا کرتی۔ مجھ سے بہت سے ذاتی باتیں بھی کرتی بچوں کی بیوفائی اور زمانے کی بے ثباتی کا گلہ بھی کرتی۔ مرحوم شوہر کا ذکر کرتی تو اداس رہتی۔
ایک روز آئی تو کچھ دکھی تھی۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تو کہنے لگی آج راستے میں ملکہ سے آمنا سامنا ہو گیا اس نے مجھے دیکھا تو اپنی ساتھی عورت سے کوئی بات کر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا پھر ان دونوں نے مجھے دیکھ کر زور سے قہقہہ لگایا۔ پھر کچھ دیر چپ کے بعد آہ بھر کر گویا ہوئی ڈاکٹر صاحب یہ جوانی کا زور ہے جو سدا کسی کے پاس نہیں رہتی۔ میری نہیں رہی اور رہنی اس کے پاس بھی نہیں۔ میں اس سے بھی زیادہ تگڑی تھی اب میرا کمزوری کا وقت ہے یہی وقت اس پر بھی آئے گا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے اس کی آہ سے ڈر لگا لگا تھا لیکن ہر کسی نے اپنا بویا کاٹنا ہوتا ہے سو ملکہ بھی اپنی فصل بو رہی تھی۔
وفات سے پہلے آخری بار جب زہرہ زیادہ بیمار ہو کر آئی تب اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی جوانی کے قصے دہرانے لگی۔
کہتی جب میرا شوہر اپنی ریڑھی کا سب سے اچھا پھل چن کر اپنی اولاد کو دیتا تو اس کے دیگر ساتھی اسے ٹوکتے کہ تم کاروبار کا نقصان کر رہے ہو شام کو جو پھل نہ بکے گا داغدار ہو گا وہ پھل بچوں کو دے دینا ابھی اچھا پھل بیچنے کے لیے رکھ لو تو اس کے شوہر نے جواب دیا میں اپنی اولاد کو کچھ اور تو نہیں دے سکتا کم از کم بہترین پھل کھلانا میرے بس میں ہے وہ تو انہیں دوں گا۔
زہرہ جیسے دیوار کے پار دیکھ رہی تھی کہنے لگی میری نند کہا کرتی تھی ”زہرہ باجی تے کسی دی سندی نہیں، کسے نوں خاطر اچ نہیں لیاندی۔ تے میں اپنے بوہے تے کھلو کے اپنے سینے تے ہتھ مار کے اعلان کیا سی ہاں زہرہ کسے دی نہیں سنندی“ (زہرہ باجی تو کسی کی بات نہیں سنتی کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ تو میں نے اپنے دروازے پر کھڑے ہو کے سینے پر ہاتھ مار کر اعلان کیا تھا کہ ہاں زہرہ کسی کی نہیں سنتی ) ۔
رشتے داروں کا کام باتیں کرنا ہے سو اس کے رات بہ رات کہیں جانے پر رشتے دار انگشت نمائی کرتے تھے یہ اس چیز کا نہایت واضح دو ٹوک جواب تھا کہ مرد کی طرح پورے قد سے کھڑے ہو کے سینے پر ہاتھ مار کر سب سے براءت کا اظہار کر دیا تھا۔
میں نے پوچھا یہ بہادری آپ کے اندر کہاں سے آئی تو مسکرائی پھر نم آنکھوں سے کہا ”جدوں میرا تخت لٹیا تے اوہی نند کہندی سی ہن زہرہ باجی او رہ ہی نہیں گئی“ ( جب میرا تخت لٹا تھا تو وہی نند کہتی تھی کہ زہرہ باجی وہ پرانی زہرہ نہیں رہی) ۔
ڈاکٹر صاحب ”میرا مرد جدوں فوت ہویا اوہدوں میرا تخت کھو گیا سی میری بہادری مک گئی سی اوہدی کمائی تھوڑی سی لیکن اوہدا ساتھ بہت وڈا سی۔ اوہدی دتی ہلہ شیری سی کہ میں دن رات شیر ہوئی پھردی ساں کوئی مینوں گل کر کے کدھر جاندا میں اوہدا منہ توڑ دیندی۔ میرا مرد جو میرے نال سی۔“ میرا مرد جب فوت ہوا تب میرا تخت کہیں کھو گیا تھا میری بہادری ختم ہو گئی تھی اس کی کمائی تھوڑی تھی لیکن اس کا ساتھ بہت بڑا تھا۔ اس کے دیے حوصلے سے میں دن رات شیر ہوئی رہتی تھی کوئی مجھے طعنہ دے کے کہاں جا سکتا تھا میں اس کا منہ نہ توڑ دیتی میرا مرد جو میرے ساتھ تھا۔ )
میں اک واری اوہنوں پچھیا سی جانی تو میرے تے شک تے نہیں کردا تے کہن لگا جھلیے تو تے میرا یقین ایں تو دنیا وچ جدھر وی جائیں مینوں تیرے کردار تے پکا یقین اے باقی رہیا میں تے میں تے بس تیرے بوہے دا جندرا آں۔ ( میں نے ایک دفعہ اس سے پوچھا تھا جانی تم مجھ پر شک تو نہیں کرتے تو اس نے جواب دیا کہ پگلی تم تو میرا یقین ہو تم دنیا میں کہیں بھی جاؤ مجھے تمہارے کردار پر یقین ہے باقی رہا میں، تو میں تو تمہارے دروازے کا تالا ( رکھوالا) ہوں )
میرے بوہے دا جندرا نہ رہیا تے زہرہ وی مک چلی اے۔
(میرے دروازے کا تالا یعنی رکھوالا نہ رہا تو زہرہ بھی ختم ہو گئی ہے )


