محکمہ پولیس کا اپنے ہی اہلکاروں کے ساتھ استحصالی رویہ
تحریر: فیاض الدین سابق پولیس سپاہی ضلع ژوب
جب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے تب سے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی پولیس کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ افسر ان سے لے کر سپاہی تک کو اس جنگ کے نام پر شہید کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ضلع شیرانی میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ پولیس کا کام دہشتگردوں سے لڑنا نہیں بلکہ دوسرے معاشرتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور معاشرتی جرائم کا انسداد کرنا ہے لیکن اس کے باوجود پولیس کو بار بار ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور اسے ایک سافٹ ٹارگٹ تصور کیا جاتا ہے۔
اس ٹارگٹ کے کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند وجوہات کے لئے محکمہ خود ذمہ دار ہے اور اگر ان پر غور نہیں کیا گیا تو شاید ان کو سافٹ ٹارگٹ کے طور پر شہید کیا جاتا رہے گا اور یہ وجوہات یا خامیاں ایک عام آدمی کو اتنی معلوم نہیں ہو سکتی جتنی اس محکمے سے وابستہ ایک اہلکار کو پتا ہوتی ہیں اور مجھے بھی یہ خامیاں اس لیے معلوم ہیں کیونکہ میں اس محکمے سے وابستہ رہ چکا ہوں۔
دو ہزار چودہ میں اس محکمے میں بطور سپاہی بھرتی ہونے کے بعد جلد ہی مجھے محسوس ہوا کہ میں نے پولیس جوائن کر کے ایک غلط فیصلہ کیا ہے اور اس سے جان چھڑانے کے لیے محنت جاری رکھی کیونکہ اسے جوائن کرنے کے بعد مجھے ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس صورتحال سے تقریباً ہر اہلکار گزر رہا ہوتا ہے۔ بھرتی ہونے کے بعد ہمیں پروفیشنل ٹریننگ کے لئے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ بھیجا گیا جہاں پروفیشنل ٹریننگ سے زیادہ ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی تھی۔
ہمیں وہاں پر ٹریننگ میں چھوٹی سی غلطی پر گالیاں دینا معمول ہوتا تھا دوران ٹریننگ سپاہی کو وہ ایک مخصوص گالی کے جملے سے پکارا جاتا جس کا یہاں ذکر کرنا نامناسب ہے اور استفسار کرنے پر بتاتے کہ یہ عوامی سلوک سکھانے کا طریقہ کار ہے یعنی کہ جب پبلک میں ہمیں گالی دی جائے گی تو ہم برداشت کر سکیں گے۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ جب ٹریننگ کی شروعات ہی گالم گلوچ اور تشدد سے ہو گی تو ایک اہلکار خاک اس میں دلچسپی لے گا اور اس کے نفسیاتی اثرات کا بھی اندازہ لگا لیں۔
ایک بار ٹریننگ کے دوران اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کا دورہ کوئٹہ تھا اور سیکیورٹی نفری کم ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی ڈیوٹی دینے کے لئے بھیجا گیا حالانکہ اس وقت تک ہمیں رائفل پکڑنا بھی نہیں سکھایا گیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری ڈیوٹی کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد کے ویرانے میں ایک ساتھی کے ساتھ لگائی گئی اور وہاں ہمیں چھوڑ دیا گیا شام ہوتے ہی صرف اتنی اطلاع دی گئی کہ ڈیوٹی ختم ہو گئی ہے اور واپس متعلقہ تھانے جہاں سے ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا کو لانے کا کوئی انتظام نہیں تھا اور وہاں سے ہم وردی میں رکشہ بک کر کے واپس پہنچے۔ ٹریننگ کے دوران پیش آنے والے کئی واقعات پر شاید ایک عام آدمی یقین نہ کر سکے لیکن مجبوری کی وجہ سے ان سب مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اللہ اللہ کر کے ٹریننگ اسی طرز پر کرتے رہے اور ختم ہونے کے بعد اپنے ڈسٹرکٹ ژوب ڈیوٹی دینے کے لیے آئے تو یہاں پر آ کے ڈیوٹی ٹائمنگ کا کوئی خاص معمول نہیں تھا یعنی کہ آٹھ یا بارہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کے بعد بھی کال کر کے ہمیں بلایا جاتا اور کہا جاتا کہ نفری کم ہے اور ایمرجنسی ڈیوٹی ہے۔ نفری کم ہونے کی وجہ سے خاص کر سپاہی اور حوالدار رینک کے اہلکار تو کبھی کبھی ڈبل ڈیوٹی بھی دیتے اور بعض اوقات تو چوبیس سے لے کر چھتیس گھنٹے مسلسل اپنے ڈیوٹی پر موجود ہوتے۔
ان حالات میں ایک اہلکار صرف ڈیوٹی ٹائمنگ تو پوری کر سکتا ہے لیکن وہ ایمانداری سے ڈیوٹی نہیں دے سکتا کیونکہ ہر انسان کے کام کرنے کی اپنی ایک سکت ہوتی ہے اور اگر ان سے تجاوز کیا جاتا ہے تو وہ اس انرجی کے ساتھ کام نہیں کر سکتا کہ جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھٹی تو جیسے خواب ہوتی تھی گھر میں غم ہو یا خوشی، ڈیوٹی پر آنا فرض ہوتا تھا اور اگر کبھی غلطی سے بھی چھٹی کی درخواست دیتے تو جیسے سارے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی چھٹی کی درخواست دی ہے اور پھٹ سے ریجکٹ ہو جاتی۔ ان صورتحال کے پیش نظر ایک اہلکار کن کن نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو گا اور اس کا ڈائریکٹ اثر اس کی پروفیشن پر پڑتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا عوام کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک و رویہ ہو گا کہ جس سے وہ خود گزر رہا ہوتا ہے۔
بیشک یہ کہنا کہ پولیس نوکری کرنا ایک پاگل پن سے کم نہیں ہے درست نہیں ہو گا لیکن پولیس اہلکار اس نوکری کی وجہ سے مختلف ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے اور ان سب کی وجہ سے وہ اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے کبھی بھی ادا نہیں کر سکتا۔ میری خوش قسمتی سمجھیں کہ بالآخر مجھے اس نوکری سے چھوٹ مل گئی اور دوسرے محکمے میں ملازمت مل گئی۔ اور اگر ایک نظر دوڑائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ پچھلے کچھ سالوں سے پولیس کے سپاہی، حوالدار اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر رینک کے آفیسرز دوسرے محکموں میں ملازمت اختیار کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پولیس محکمے میں وہ عزت، وقار اور ذہنی سکون نہیں مل رہا جو ایک فرد کی بنیادی انسانی حقوق ہیں۔
کیا یہ ان اہلکاروں کے ساتھ مسائل ہیں یا پھر محکمہ پولیس ناکامی سے دوچار ہے کہ وہ اپنی ساکھ اور وقار نہیں بچا سکتا؟ اس سوال کا جواب اس محکمے کے اعلیٰ افسر ان کبھی بھی نہیں دے سکتے کیونکہ ان کو گرمی یا سردی میں ڈیوٹی پر کھڑے ایک سپاہی کی پریشانیوں، نفسیاتی مسائل اور معاشی مشکلات کا پتا ہی نہیں ہوتا ہے۔
ہم ہر روز سنتے ہیں کہ خودکش دھماکے یا پولیس پر فائرنگ سے اتنے اہلکار شہید ہو گئے لیکن یہ بہت کم ہی سنا ہو گا کہ جوابی کارروائی میں اتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ناقص پروفیشنل ٹریننگ اور حد سے زیادہ طویل ڈیوٹی اوقات کار ہیں۔ اگر ٹریننگ میں گالم گلوچ کے بجائے ضروری ٹریننگ سکلز سکھائیں جائیں تو شاید اتنی جانی نقصانات نہ ہو۔ دوران ٹریننگ جب تک ٹرینرز با صلاحیت نہ ہو اان کو کسی بھی ڈیوٹی پر تعینات نہ کیا جائے۔
رہی بات ڈیوٹی اوقات کار کی تو اس کے لئے نہ صرف نفری زیادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ساتھ ساتھ ایک ایسا نظام بھی بنایا جائے کہ کم از کم ہر دو مہینے کے بعد ایک اہلکار کو ذہنی سکون دینے کے لئے اسے چھٹی پر بھیج دیا جائے اس سے وہ نہ صرف اپنی ڈیوٹی دینے میں دلچسپی لے گا بلکہ ذہنی سکون بھی نصیب ہو گا۔ اعلیٰ افسر ان کو اپنے ماتحت اہلکاروں کے مسائل سے آگاہ ہونے کے لئے ان کو اپنے دفتروں تک رسائی دینی چاہیے اور ان کے مسائل ان سنی نہیں کرنے چاہیے بلکہ ان کے مسائل فوری طور پر حل کر کے ان میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے تا کہ وہ اس پروفیشن کو بوجھ نہیں بلکہ ایک فرض سمجھ لیں۔


