بہتر غذائیت کی عدم دستیابی، ایک اہم معاشی مسئلہ


کسی بھی ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار اس ملک میں موجود افرادی قوت کا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کے نوجوان صحت مند ہوں گے تو ان کی کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ ایسے نوجوان نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے آتے ہیں بلکہ وہ سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی اور کاروباری میدان میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔ جسمانی صحت مندی کا آغاز زندگی کے پہلے 1000 دنوں میں بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ جو بچہ اپنی زندگی کے شروع میں صحت مند و توانا ہوتا ہے وہ آگے کی زندگی میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر نہ صرف اپنے گھر میں بلکہ ملکی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

ایسے ممالک جہاں بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال کیا رکھا جاتا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ وہاں پر اوسط عمر زیادہ ہے، لوگوں میں کام کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے، تھکاوٹ کے اثرات کم ہوتے ہیں، قد بڑے ہوتے ہیں، موٹاپا زیادہ ہوتا ہے، ایسے بچے بیماریاں کا بھی کم شکار ہوتے ہیں۔ اس لئے ماہرین بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت اور ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ماہرین نے غذائی ضروریات کی کمی کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

Wasting، Stunting، Underweight اور Micronutrient Deficiencies۔ ان چاروں کا تعلق غذاء کے استعمال اور ضروری غذائی اجزاء سے ہے۔ Wastingکا مطلب قد کے مطابق وزن کا کم ہونا ہے۔ Stuntingکا مطلب عمر کے مطابق قد کا کم ہونا۔ Underwieghtکا مطلب عمر کے مطابق وزن کا کم یا زیادہ ہونا۔ Micronutrient Deficienciesکا مطلب جسم میں وٹامن اور منرلز کی کمی ہونا۔

ایک ہی طرح کی خوراک کا استعمال، خوراک کا پوری مقدار میں نہ ملنا، پھلوں، سبزیوں کا استعمال نہ ہونا، غیر معیاری اور ناقص غذا کا استعمال، فاسٹ فوڈ، بازاری خوراک کا زیادہ استعمال، فروزن فوڈ، بیکری آئٹم کا استعمال، فلیورڈ فوڈ کا استعمال۔ یہ وہ تمام وجوہات ہیں جس سے کسی بھی بچہ میں جسمانی اور ذہنی کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔ اس لئے حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کو وہ تمام غذائیں مہیا کی جانی چاہیں جس میں تمام ضروری غذائی اجزاء موجود ہوں۔ وٹامنA، وٹامنB 6، وٹامنC، وٹامنE، میگنیسیم، آئرن، کوپر، زنک وغیرہ ایسے اجزاء ہیں جو جسمانی و ذہنی نشوونما میں مددگار ہیں اور بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت فراہم کرتے ہیں۔

2021 میں پوری دنیا میں 2.3 بلین نوجوان ایسے تھے جو غذائی اجزاء کی کمی کا شکار تھے۔ یہ کل آبادی کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔ Wastingمیں سب سے زیادہ تعداد انڈیا کے بچوں میں ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق 46 ممالک ایسے ہیں جو شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان میں صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ نیشنل نیوٹریشن سروے، حکومت پاکستان کی رپورٹ کے مطابق، 33 فیصد بچوں کا وزن ان کی عمر کے حساب سے کم ہے۔ 44 فیصد بچے Stunted ہیں۔ 15 فیصد بچے Wasted ہیں، 50 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں اور 33 فیصد بچوں کے خون میں آئرن کی کمی ہے۔ دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

ماہرین نے اس کے پیچھے جو محرکات کی نشاندہی کی ہے ان میں سب سے پہلے تو غربت ہے، غربت کی وجہ سے خوراک پوری کرنا ہی ایک اہم مسئلہ ہے ایسے میں مختلف اور ضروری غذائی اجزاء کی حامل خوراک کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ ماؤں میں غذائی اجزاء کی کمی ہے خاص طور پر حاملہ خواتین میں۔ اس سے منسلک تیسری وجہ پیدائش کے وقت بچے میں وزن کی کمی کا ہونا ہے۔ ایک وجہ بچے کی خوراک پوری نہ ہونا ہے، ماں کا دودھ ایک ایسی خوراک ہے جس میں تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

لیکن اگر ماں خود خوراک کی کمی کا شکار ہو گی تو وہ بچے کی خوراک بھی پوری نہیں کر سکے گی۔ ڈبہ کا دودھ اور غیر معیاری بازاری دودھ کا استعمال بچے کی غذائی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ایک اور بڑی وجہ خوراک کی فراہمی میں غیریقینی ہے۔ لوگوں کو یقین نہیں ہوتا کہ کل روٹی کا بندوبست ہو گا کہ نہیں۔ بازاری کھانوں کا بڑھتا ہو رواج، نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کا رجحان، کھانے کی ہوم ڈیلیوری کی سہولت، غیرمعیاری اور ناقص کھانا پکانے والی اشیاء کی موجودگی اور ان کا استعمال، مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت، برائلر مرغیوں کے گوشت کا استعمال، پھلوں پر رنگ کرنا اور انجکشن کی مدد سے مٹھاس بڑھانا، ناقص آٹا، گھی، جانوروں کی چربی سے تیار کیا جانے والے آئل اور گھی، مصالحہ جات، سبزیوں کو اگانے کے لئے سیوریج کے پانی کا استعمال، سپرے اور کھادوں کا استعمال، انسانی جان بچانے والی دو اؤں کا زیادہ استعمال، ورزش نہ کرنا، غیرمعیاری دودھ کا استعمال، پینے والے صاف اور محفوظ پانی کی عدم دستیابی۔ یہ کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں جس سے والدین اور پھر بچوں میں ابتداء سے جسمانی اور ذہنی کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔

ان تمام وجوہات کے اثرات بہت شدید ہوتے ہیں۔ بچے کمزور ہو جاتے ہیں، بینائی کمزور ہو سکتی ہے، ہڈیاں چھوٹی، ٹیڑھی ہو سکتی ہیں، ذہنی صلاحیت کم ہو سکتی، کمزوری اور نقاہت زیادہ ہو جاتی ہے، موٹاپا، بیماریاں زیادہ اثر کرتی ہیں، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں کمی پیدا ہو جاتی ہے، طبعیت میں چڑچڑا پن کا زیادہ ہونا، پڑھائی میں دل نہ لگنا، سر درد ہونا، قد کا چھوٹا ہونا، اوسط عمر کا کم ہو جانا، خواتین میں بچوں کو فیڈ کرنے کی صلاحیت کا کم ہو جانا، زچگی کے مسائل اور دوران زچگی ماں اور بچے کی اموات کی شرح میں اضافہ، یہ کچھ اثرات ہیں جو خوراک کے نامناسب استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان مسائل کا اثر انفرادی طور پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور بھی۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق پاکستان سالانہ 3 بلین ڈالر کا نقصان صرف غذائیت کی کمی کے اثرات کی وجہ سے اٹھا رہا ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق اس مسئلہ سے دنیا کی جی ڈی پی کو 10 فیصد نقصان اٹھانا پڑھ رہا ہے۔

اس اہم اور سنگین مسئلے سے نبٹنے کے لئے نا صرف انفرادی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ملکی سطح پر بھی ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی کرنے کی ضرورت ہے۔ کچن گارڈننگ کو فروغ دیں۔ اپنے گھر میں اپنے لئے خود سبزیاں اگائیں، آج کل یہ طریقہ بہت عام ہو چکا ہے دنیا اس طریقہ سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف اپنی ضرورت پوری کر رہے ہیں بلکہ اس سے منافع بھی کما رہے ہیں۔ گھر کے صحن میں، دیواروں پہ، چھتوں پہ سبزیاں اگانے کے مختلف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔

یہ سبزیاں صحت کے لئے بہت مفید ہیں، صاف ہوتی ہیں اور معاشی بوجھ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اس کام میں خرچہ بھی نہیں آتا اور نہ اس میں مصنوعی کھادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مرغیاں پالنا بھی ایک ایسا کام ہے جو آپ اپنے گھر کے اندر کر سکتے ہیں، عام طور پر شہروں میں گھر کی چھتوں پر اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف چکن کی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ انڈے بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح مقامی اور عام پھلوں کے پیڑ لگائے جائیں، جیسا کہ جامن، شہتوت، انجیر، آم، مالٹا، آڑو، بیری، کھجور، انار وغیرہ کی درخت عام درختوں کی جگہ لگائے جائیں اور ایسے پھل جو بیلوں پر لگتے ہیں ان کی جہاں ممکن ہو کاشت کی جائے۔

بازار میں سے پھل خرید کر کھانا ہر کسی کی قوت خرید میں نہیں ہوتا اور مقامی پھل بھی اتنے ہی پراثر ہوتے ہیں۔ جیسے بیر کو لٹل سیب کہا جاتا ہے، جامن خون پیدا کرنے میں بہت پراثر ہے اور کھجور میں بہت زیادہ غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح خربوزہ، تربوز وٖغیرہ صحت کے لئے بہت مفید ہوتے ہیں۔ سٹور یا فریز کیے گئے پھل صحت کے لئے فائدہ مند نہیں، موسمی پھلوں کا استعمال اور خاص طور پر موسم کے شروع میں ان پھلوں کا استعمال بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں عام طور پر ایک دو جانور بھی رکھے جاتے ہیں جن کا دودھ ماں اور بچے کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔

دوسرا اہم کام صحت و صفائی کی تربیت کے حوالے سے ہے، لوگوں کو صفائی کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ صفائی نہ صرف گھر کی بلکہ گلی محلہ، گاؤں اور شہر کی صفائی کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ گندگی سے بہت زیادہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو مجموعی طور پر تمام آبادی کو متاثر کرتی ہیں لیکن اس کا زیادہ شکار چھوٹے بچے اور خواتین ہوتی ہیں۔ واش روم کا استعمال، ہاتھ دھونا، کھانا کھانے کے برتنوں کی صفائی، کپڑوں کی صفائی کے متعلق خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر پینے والے پانی کا خیال رکھنا۔ پانی ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے، بہت زیادہ بیماریاں غیر محفوظ پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ ٹھنڈا پانی بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

حکومتی سطح پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری حکومت ابھی اس معاملے کی سنگینی سے یا تو بے خبر ہے یا غافل ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا جائے گا۔ مختلف اور ضروری غذائی اجزاء کی حامل خوراک کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ خوراک مہیا کرنے والی جگہوں میں صفائی، ستھرائی کا انتظام کرنا اور اس کو یقینی بنانا، سبزیوں، پھلوں کی کوالٹی کو چیک کرنا، معیاری آئل، گھی، آٹا، کھادوں اور سپرے کا زیادہ استعمال کو کنٹرول کرنا، سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کی روک تھام، ہوٹلز اور دیگر کھانے مہیا کرنے والے جگہوں کی نگرانی کرنا۔

غلہ اور سبزی منڈیوں میں صفائی ستھرائی نے نظام کو یقینی بنانا۔ یہ وہ بنیادی کام ہیں جن پر حکومت کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عام اور غریب عوام کی خوراک تک رسائی کو یقینی بنانا۔ ایسے پروگرام شروع کیے جائیں جس سے ماں اور بچے کو ضروری غذائی ضروریات پوری ہوں، مقامی ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے تمام لوازمات پورے ہوں۔ خواتین کو صفائی اور خوراک کی اہمیت کی حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

سکولوں میں بچوں کو صفائی کے متعلق تربیت دی جائے۔ واش روم کے استعمال کا طریقہ، ہاتھ دھونے کا طریقہ نصاب میں شامل ہو۔ انتہائی غریب حاملہ خواتین کو مالی امداد فراہم کی جائے۔ کچن گارڈننگ کے پروگرام شروع کیے جائیں اور لوگوں کو اس پر تربیت دی جائے۔ مقامی پھلوں والے درختوں میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اشاریے جو غربت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں ان کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیادہ غربت والے علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے۔ لوگوں کی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ اس طرح کے اقدامات کیے جائیں کہ وہ لوگ بھی ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے اس کا ایک خاص کردار ہے۔ جب تک اسے اس کا کرادار ادا کرنے کا موقع نہیں ملے گا وہ معاشرہ پر بوجھ بن کے رہ جائے گا۔ یہ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ کس طرح حکومت انسانی وسائل کا مثبت استعمال کر کے ملکی ترقی میں ان کو شامل کرتے ہیں اور ایک مفید شہری بناتے ہیں۔

Facebook Comments HS