ڈنگروں کی حویلی
ہماری قسمت کھوٹی کہ ہم غلط جگہ پیدا ہو گئے۔ دنیا کے تمام مصائب ہمارے نصیب میں آئے نہ سماج اچھا نہ کوئی کسی قسم کی سہولیات جس طرف دیکھو آلودگی ہی آلودگی کیا کریں کس کو بتائیں کون پرسان حال ہے۔
کوئی بھی منتخب حکومت ہمیں ہمارے سے ریلیٹڈ سہولیات اپنی بساط کے مطابق فراہم کرتی ہے مگر ان سہولیات کو مینٹین کرنا اور ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اتنی ہی ذمہ داری جتنی ہم اپنی جیب سے اپنے ذاتی چیزوں پر خرچ کرنے کے بعد ان کا ذمہ داری سے خیال رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم ملکی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات کے ساتھ سوتیلا پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے مکان پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر اسی پیارے سے گھر کے سامنے گلی سے پانی، گیس یا سیوریج کے لیے کھدائی کی گئی سڑک کی مرمت بھی نہیں کرتے۔ اس کے برعکس اگر یہ خیال آہی گیا تو اس درجہ کا گھٹیا کام کیا جاتا ہے کہ اس جگہ کو سڑک سے بے ترتیب بلند کر دیا جاتا ہے۔
اس کا نقصان سب سے زیادہ موٹر سائیکل سوار بوڑھے اور خواتین کو ہوتا ہے۔
اگر ہمارے گھر کے سامنے مین ہول سے سیوریج کا پانی ابلنا شروع ہو جائے تو مہینوں اسے لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ بہت سے شہری علاقوں میں سینٹری ورکر متحرک ہیں اگر متحرک نہیں تو ان سے مسلسل رابطے سے ان سے یہ سہولت با آسانی لی جا سکتی ہے۔ اپنے ارد گرد لوگوں میں یہ شعور پیدا کر کے جب تمام لوگ باری باری یا اکٹھے ہو کر سینٹری ورکرز یا اپنے منتخب نمائندہ سے رابطے میں رہ کر بھی یہ کام باآسانی کروایا جا سکتا ہے۔
جب ہمیں اپنا ذاتی کام ہو تو ہم کہیں نہ کہیں سے سفارش کروا لیتے ہیں جو کہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے کبھی ہم پورے محلے کی خاطر یہ گھٹیا کام بھی کر سکتے ہیں۔ ہم روزانہ اپنے خرچ پر غور کریں بہت سا فضول خرچ کرتے ہیں تو اگر سیوریج کی بحالی کے لیے خرچ کر دیں گے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ اس میں بھی کوشش کریں اپنے علاقہ کے لوگوں کو بھی شامل کریں۔ بعض اوقات تمام لوگوں کے حصے جتنے پیسے آتے ہیں وہ اس سے کم دیتے ہیں حیلہ بہانہ کرتے ہیں کہ ہم نے بس اتنے ہی پیسے دینے ہیں جبکہ ہم جذبات میں وہ کم پیسے بھی نہیں لیتے کہ اگر دینے ہیں تو پورے دو ورنہ رہنے دو۔ ہمارے ایسے رویے سے ایسے لوگوں میں اچھے کاموں میں شرکت کی عادت نہیں بنتی۔ اس کے برعکس اس کے کم پیسوں کو شامل کر کے اسے مستقبل میں خرچ کرنے پر مائل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے ہم اس بات پر غور کرتے ہیں ہمارا سیوریج سسٹم ناکارہ کیوں ہوجاتا ہے۔
سیوریج کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھروں میں فلور ویسٹ کا استعمال کریں واش رومز کچن لانڈری ایریا میں کپہ جالی اور بیرون ایریا گلی یا گیراج اور مین گیٹ کے ساتھ پیچ والی جالی استعمال کی جائے۔
صفائی کرنے والوں کو یہ شعور بھی دیں کہ فلور ویسٹ کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ فلور ویسٹ کی اہمیت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے عموماً دوران صفائی تمام کچرا شیمپو ساشے، کنڈم، صرف وغیرہ کے ریپرز بھی سیوریج برد کر دیے جاتے ہیں جو سیوریج بلاکیج کا سبب بنتے ہیں۔
ہمیں اپنی چھتوں پر برساتی نکاس پر بھی سریا دار جالی لگانی چاہیے تاکہ کوئی شاپر یا گیند وغیرہ ہمارے سسٹم کو بلاک نہ کر سکے۔ اس سے اگلا مرحلہ ہے سیوریج کے مین ہول کا ہمارے گھر سے سارا سیوریج ہماری اپنی بنائی ہوئی غرقی میں جانا چاہیے تاکہ ہم اپنے گھر کا کچرا وغیرہ دو تین ماہ بعد اس سے صاف کر دیں اور ہمارا سیوریج ڈائرکٹ مین ہول کی بجائے حفاظتی غرقی سے ہوتا ہوا مین ہول میں جائے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ ریت مٹی وغیرہ کو بھی پانی سے بہا کر سیوریج میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے ہمارا فرش تو دھل کر صاف ہوجاتا ہے مگر اس سے سیوریج بند ہو جاتا ہے اس کا درست طریقہ کار یہ ہے کہ ہم پہلے جھاڑو سے تمام کچرا وغیرہ اپنے ڈسٹ بن میں ڈالیں اس فرش کو گیلے کپڑے سے صاف کریں اور اس گیلے کپڑے کو جب دھونا ہو تو کوشش کریں اس کا ڈسٹ والا پانی بھی سیوریج میں نہ جائے۔ کیونکہ ریت یا مٹی کی کچھ مقدار سیوریج میں پھینک دینا جتنا آسان ہے اس کے برعکس وہ ریت یا مٹی اس سے نکالنا انتہائی مشکل کام ہے۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ ہے ہمارے کوڑے کا۔
ہم اپنا کوڑا اپنے محلے کے کسی پلاٹ میں پھینک دیتے ہیں جو کہ اس کا حل نہیں۔ جن علاقوں میں حکومتی ادارے کام نہیں کر رہے ان کی بھی کسی طریقے سے خدمات لی جا سکتی ہیں پورے پاکستان میں صفائی کا عملہ ہوتا ہے اور وہ لوگ فضول میں تنخواہ لیتے ہیں جہاں کام نہیں ہو رہا اپنے منتخب نمائندہ سے خدمات لے سکتے ہیں اس کے بر عکس ان اداروں کی غفلت اور اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں پرائیویٹ لوگ اجرت پر ڈیلی کوڑا گھروں سے اٹھاتے ہیں جو کہ اتنا مہنگا کام نہیں ہے مگر افسوس بہت سے لوگ چند روپوں کی خاطر پورے محلے میں گندگی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
افسوس در افسوس ان بات کا کہ بہت سے پڑھے لکھے احباب بھی ایسی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ ہمارے روڈوں پر موجود دکاندار بھی ایسا کرتے ہیں کی اپنا کوڑا اکٹھا کر کے سڑک کے درمیان جمع کر دیتے ہیں جو کہ دوبارہ اڑ کر انہیں کے اوپر آ جاتا ہے مگر وہ مطمئن ہیں کہ ہم نے بہت صفائی کی جب کہ حقیقت میں ہم نے اس کو مزید بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ عموماً گلیوں میں سپیڈ بریکر بنا دیے جاتے ہیں جو کہ بہت اونچے اور چوڑائی میں کم ہوتے ہیں جس سے بوڑھے اور خواتین متاثر ہوتے ہیں ان کو بہترین طریقہ سے بنایا جانا چاہیے ۔
سڑکوں پر عموماً ہوٹلوں والے اپنا پانی سڑک پر کر دیتے ہیں جس سے مسلسل پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں اگر ایسا ہمارے ارد گرد ہو رہا ہو تو ہمیں چاہیے کہ اس فرد کو اس غلط کام پر احساس دلوائیں اور اس کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ ہماری تھوڑی سی مسلسل کوشش سے یہ شاید یہ ملک ڈنگروں کی حویلی بننے سے بچ جائے۔


