کچھ میڈیا کی سپائرل آف سائلنس تھیوری کے بارے میں
سقراط نے تعلیم یا سیکھنے کے عمل کو سچائی کی تلاش سے منسوب کیا ہے۔ یعنی اگر ہماری تعلیم اور تربیت ہمیں سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنا نہیں سکھاتی تو پھر ہم ابھی جہالت کے سمندر میں ہی غوطہ زن ہیں اور ہمیں مزید تعلیم حاصل کرنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ سچ اور سچائی کا ساتھ درسی کتابوں، پند و نصائح اور تبلیغ کی حد تو بہت آسان ہے لیکن عملی زندگی میں سچائی پر قائم رہنا ہمیں اکثر اوقات بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔
ہمارے سماجی رویے مثبت یا منفی سماج کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرے میں مثبت رویوں کو کیسے فروغ دیا جاسکتا ہے اس کی راہنمائی بھی ہمیں افلاطون اور سقراط کے مابین ایک مکالمے سے ملتی ہے۔ افلاطون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا، آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا تھا۔ سقراط نے مسکرا کر کہا، وہ کیا کہہ رہا تھا؟ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا، آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا!
اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا۔ تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین اصولوں پر پرکھو۔ کیا تمھیں یقین ہے تم مجھے جو یہ بات بتانے لگے ہو یہ بات سو فیصد سچ ہے۔ ؟ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔ سقراط نے ہنس کر کہا۔ پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ سقراط پھر گویا ہوا۔ مجھے تم جو یہ بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی اور مثبت بات ہے۔ ؟ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر کہا، جی!
نہیں یہ بری بات ہے! سقراط نے مسکرا کر کہا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو تمھیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے۔ ؟ افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا۔ سقراط نے ذرا سا رک کر پھر کہا۔ یہ بتاؤ یہ جو بات تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لئے فائدہ مند ہے۔ ؟ افلاطون نے انکار میں سر ہلایا اور عرض کیا۔ یا استاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لئے فائدہ مند نہیں ہے! سقراط نے مسکرا کر کہا۔ اگر یہ بات میرے لئے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔
؟ سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے ہزاروں سال قبل وضع کر دیے تھے۔ آج ہمارے معاشرے کو ان اصولوں پر کاربند ہونے کی اشد ضرورت ہے جہاں نکتہ چینی، چغل خوری، تہمت بیانی اور گمراہ کن باتوں کا دور دورہ ہے اور جس کی وجہ سے بہت سے افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں میڈیا معلومات کا بحر بے کراں بن چکا ہے جس میں سے سچائی اور پراپیگنڈا میں امتیاز کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر طرح کے بیانئے کی حمایت میں دلائل موجود ہیں اور عام آدمی جو کہ روزی روٹی کی الجھن میں گرفتار ہے اس کے لئے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہے۔
پراپیگنڈا کا بینڈ ویگن ماڈل ترقی پذیر معاشروں میں بہت مقبول ہوتا ہے جس میں لوگ پاپولر ازم اور ہوا کا رخ دیکھ کے اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔ اطالوی دانشور گتاؤلی بان اپنی کتاب مجمع کی نفسیات (Psychology of Gathering) میں ایک جگہ تحریر کرتا ہے۔ انسان تعلیم، تہذیب اور شعور کی جس قدر انتہا کو بھی پہنچ جائے، اگر وہ کسی گروہ یا مجمع کے ساتھ رہے گا تو لامحالہ طور پر وہ مجمع کی نفسیات اور کیفیت کے زیر اثر رہے گا۔
اچھے خاصے معقول اور سمجھ دار انسان بھی مجمع کے پیچھے جذباتی انداز میں بھاگنے لگتے ہیں۔ ذی شعور افراد بھی جو دوسروں کو کرتے دیکھتے ہیں وہی کچھ بلا تفکر کرنے لگتے ہیں گویا ان پر سحر طاری ہو گیا ہو۔ گتاؤلی بان کا لوگوں کی نفسیات پر یہ تجزیہ جرمن پالیٹیکل سائنٹسٹ ایلزبتھ نوئل نیومن (Elisabeth Noelle Neumann) کی 1974 میں پیش کی جانے والی سپائرل آف سائلنس میڈیا تھیوری کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ یہ دلچسپ تھیوری اقلیت اور اکثریت کی اظہار رائے کا احاطہ کرتی ہے۔
اس تھیوری کے مطابق جب بھی کوئی نظریہ، کوئی نئی بات لوگوں کے سامنے رکھی جاتی ہے تو جس طرف زیادہ لوگ رائے دیں باقی رہ جانے والے لوگ صرف اس لئے اس نظریے کے حامی ہو جاتے ہیں کہ وہ اس نظریے کی مخالفت کر کے کہیں سماجی طور پر تنہائی کا شکار نہ ہو جائیں۔ ایک بات تو قطعی درست ہے کہ کسی بھی معاشرے میں سوچنے سمجھنے والے دماغ ہمیشہ اقلیت میں ہی ہوتے ہیں اور اکثریت ہمیشہ بھانڈ پیشہ لوگوں کے پیچھے ہی چلتی ہے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر، مردان یونیورسٹی کے طالبعلم مشعل خان، سیالکوٹ میں ایک سری لنکن منیجر کے قتل کے پیچھے مجمع کی یہی نفسیات تھی۔
مخصوص موضوعات پر لوگ حقائق کی پرواہ کیے بغیر پاپولر رائے کے پیچھے چلتے ہیں اور بہت سے لوگ حقائق جاننے کے باوجود اس لئے لب سی لیتے ہیں کہ اکثریت کی رائے کے خلاف چلنے پر کہیں وہ طعن و تشنیع اور تشدد کا نشانہ نہ بن جائیں۔ آج سمارٹ فونز کی بدولت ہماری زندگی میں میڈیا کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ اپنے بستروں میں سونے تک ہم چاروں طرف سے میڈیا کی یلغار میں رہتے ہیں اور پرائیویٹ لائف کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے میں اگر کوئی پاپولر رائے عامہ کے خلاف کوئی بات کر دے تو وہ نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنتا ہے بلکہ بعض اوقات سوشل میڈیا پر اتنے زیادہ ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں کہ اسے معاشرے میں اچھوت بنا دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں طاہرہ کاظمی کی طرف سے ایک حساس سماجی مسئلے کے بارے میں رائے زنی ان کے لئے ٹرولنگ کا باعث بنی۔ یوں تو پاکستان کے قیام کے پیچھے بنیادی محرک مسلمان اقلیت کے ساتھ زیادتی کا پہلو تھا لیکن آج پاکستان میں اقلیتیں شدید دباؤ کا شکار اور خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں جبکہ خود کو مسلمان سمجھنے والی ایک اقلیت کے ساتھ ہمارا تعصب دوسری اقلیتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔
ان کے حقوق کے بارے میں بات کرنا آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے۔ سپائرل آف سائلنس کے اثرات صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں سویڈن میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کا واقعہ اور اس پر یورپی ممالک کی مجرمانہ خاموشی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فریڈم آف سپیچ کی آڑ میں ہیٹ سپیچ کو پروموٹ کرنا یا اس پر خاموش رہنا کوئی درست فعل ہرگز نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے تک ایک سیاسی جماعت اور اس کے مقبول لیڈر کے بارے میں جب بھی کوئی مخالفانہ رائے آتی تھی تو ایسی رائے دینے والے کے خلاف منظم ٹرینڈز چلنا شروع ہو جاتے تھے چنانچہ لوگوں کی اکثریت یا تو خاموش ہو کر بیٹھ گئی یا ان کے بیانئے کی حامی بن گئی یہاں تک کہ اس گروہ نے دیدہ دلیری سے ریاست کے اداروں کو براہ راست للکارنا شروع کر دیا اور نتیجے کے طور پر ریاست کو حرکت میں آنا پڑا اور اب صیاد اپنے ہی جال میں قید ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں الطاف بھائی کا بہت طوطی بولتا تھا اور کراچی میں ان کی رائے اور حکم کے مخالف چلنا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف تھا لیکن جیسے ہی الطاف حسین کا جن بوتل میں بند ہوا ان کے خلاف دبی ہوئی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ سپائرل آف سائلنس تھیوری بڑے منفرد طریقے سے عوامی رائے اور میڈیا میں تقسیم پیدا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اپنی اپنی دکان چمکانے میں مصروف میڈیا سوسائٹی میں تقسیم پیدا کرنے والے موضوعات پر کھل کر بات نہیں کرتا۔
اس لئے بلاسفیمی، دوسرے مذاہب، مسالک یا نظریات پر ہم خیال لوگوں کے ہجوم کو اکٹھا کر کے سارا نظام درہم برہم کر دینا ہمارے ہاں ایک وتیرہ بن چکا ہے۔ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق میڈیا ہر وہ چورن بیچتا ہے جو بک سکتا ہو۔ چونکہ یہ تھیوری عوامی رائے عامہ سے متعلق ہے اس لئے یہ عمومی طور پر تین مفروضوں کے گرد گھومتی ہے۔ پہلا یہ کہ سوسائٹی پاپولر سوچ کے برعکس مخالفانہ رائے رکھنے والوں کا احتساب کرتی ہے اور ایسے افراد اپنی رائے کو لے کر سماجی تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
دوسرے نمبر پر تنہائی کا یہ خوف ایسے افراد کے اندر مستقبل میں حالات و واقعات اور ماحول سے ہٹ کر بات کر نے کا حوصلہ ختم کر دیتا ہے۔ تیسرا یہ کہ تنقیدی رائے عامہ لوگوں کے رویوں اور مزاج کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔ میرے خیال میں میڈیا تھیوریز کو سمجھے بغیر رائے عامہ کی درست سمت متعین نہیں کی جا سکتی لیکن ہمارے ہاں میڈیا پرسنز میڈیا تھیوریز یا میڈیا کے اکیڈمک خد و خال کو سمجھے بغیر جب میڈیا پلیٹ فارمز پر تجزیہ نگاری کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں تو اس سے بھی معاشرے میں فرسٹریشن پھیلتی ہے اور اصل سچ بھول بھلیوں میں کہیں دفن ہو جاتا ہے


