ممبئی لوکل ٹرین میں ایک جان لیوا سفر۔ جو اب تک یاد ہے
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
اس سے پہلے کہ میں آپ کو ٹرین کے سفر کے بارے میں بتاؤں میں چاہوں گا کہ ممبئی ٹرین کی ایک مختصر تاریخ آپ کے سامنے رکھی جائے۔
ہندوستان میں ریل کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آنند کمار چوہدری اور ڈاکٹر سری نواس راؤ نے
History of Rail Transportation and Importance of Indian Railways (IR) Transportation کے نام سے ایک مضمون لکھا ہے1
ان کے مطابق 1837 ء ہندوستان کی پہلی مال بردار گاڑی مدارس ماربل ڈھونے کے لیے چلائی گئی تھی۔ مسافر بردار گاڑی دو شہروں کے درمیان نہیں بلکہ مقامی تھی جو 16 اپریل 1953 ء کو موجودہ سینٹرل ریلوے سٹیشن سے ایک قریبی ریلوے سٹیشن تک گئی تھی یہ فاصلہ صرف چوبیس کلو میٹر ہے۔ ٹرین نے یہ فاصلہ ایک گھنٹہ اور پچیس منٹ میں طے کیا تھا۔ اس ٹرین میں چودہ بوگیاں لگی ہوئی تھیں۔ اس طرح ایک مقامی ٹرین کا آغاز ہوا اور اب یہ ممبئی کا ایک بہت بڑا نظام بن گیا ہے۔ اس وقت ممبئی لوکل ٹرین کے روٹ کی لمبائی 390 کلو میٹر ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر روز 75 لاکھ لوگ ان ٹرینوں پر سفر کرتے ہیں مختلف مقامات سے ڈھائی ہزار سے زائد ٹرینیں چلتی ہیں۔ جن کا آغاز صبح چار بجے ہوتا ہے اور رات اڑھائی بجے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
میں نے یہ سفر 1999 ء میں کیا تھا اور ان دنوں فرسٹ کلاس ڈبے نہیں ہوا کرتے تھے۔ اب میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ممبئی میں انڈر گراؤنڈ ریلوے بھی شروع ہو گئی ہے۔ پچھلے صفحات میں، میں نے بھارت کے ٹرین کے نظام سے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔ بھارت ایک وسیع ملک ہے جہاں فاصلے طویل ہیں۔ ان طویل فاصلوں کو سڑک کے ذریعے طے کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ وفاقی نظام ہونے کی وجہ سے بہت سے ملازمین بھارت کے مختلف علاقوں میں کام کرتے ہیں اور اس وجہ سے لوگوں کی آمدورفت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا کے لوگ بھی تجارت کے لیے آتے جاتے ہیں اسی وجہ سے ریل کا نظام ان کے لیے انتہائی مفید ہے۔
لوکل ٹرین پر سفر کرنے کے لیے میں ایک قریبی ریلوے سٹیشن پر چلا گیا۔ جو کوئی خاص بڑا نہیں تھا۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ہر جگہ رہنمائی کے نشانات لگے ہوئے تھے جس سے مجھے پلیٹ فارم ڈھونڈنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ جہاں سب لوگ کھڑے ٹرین کا انتظار کر رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد ٹرین آ گئی۔ جسے دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ ٹرین کا کوئی دروازہ نہیں تھا اور دروازے کی جگہ پر آٹھ سے دس فٹ چوڑی کھلی جگہ تھی اور جہاں لوگ پھنس کر کھڑے ہوئے تھے۔
کچھ لوگ باہر بھی لٹک رہے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہم اس ٹرین میں داخل کیسے ہوں گے۔ ٹرین رکی تو میں نے دیکھا کہ دروازے میں کھڑے بیسیوں لوگ ایک دھکے سے باہر آ گئے اور باہر کھڑے بیسیوں لوگ ایک ہی جھٹکے سے ٹرین میں داخل ہو گئے۔ اس سارے عمل میں صرف 16 سیکنڈ لگے اور ٹرین دوبارہ روانہ ہو گئی۔ میرے لیے یہ سب حیران کن تھا لیکن مقامی لوگوں کے لیے اس میں کوئی دقت نہ تھی۔
ٹرین میں داخل ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ ڈبے کے درمیان تھوڑی سی جگہ خالی ہے۔ میرا سٹیشن کافی دور تھا اس لیے میں بوگی کے درمیان میں آ گیا۔ کچھ ہی دیر میں میرے اردگرد بہت سارے لوگ آ گئے اور وہ جسے کہتے ہیں کہ تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی، ایسا ایک عجیب منظر بن گیا۔
تھوڑی دیر تک تو مجھے زیادہ مشکل پیش نہ آئی لیکن میں نے جلد ہی محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ آکسیجن کی کمی تھی۔ جب اتنے زیادہ لوگ اتنی کم جگہ پر موجود ہوں تو سانس لینے میں دشواری ایک فطری بات ہے۔ کچھ دیر تو میں نے کوشش کی کہ میں اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لوں لیکن میں نے جلد ہی محسوس کیا کہ ٹرین کی چھت اور لوگوں کے سروں کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے۔ یہ سب دیکھ کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس ٹرین کا کوئی دروازہ یا کھڑکی بند نہیں ہے۔
جب ٹرین چلتی تو تیز ہوا ڈبے میں آجاتی اور کچھ دیر کے لیے سانس لینے میں سہولت ہوجاتی۔ میں پنجوں کے بل کھڑا ہو گیا تاکہ میرا سر باقی لوگوں سے اونچا ہو جائے اور مجھے سانس لینے میں سہولت ہو۔ اس کے لیے میں نے ارد گرد کھڑے لوگوں پر بوجھ بھی ڈالا لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ اس کا علاج نہیں ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر مزید میں یہاں پر کھڑا رہا تو یقینی طور پر میرا سانس بند ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مجھے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ بالآخر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اگلے سٹاپ پر ٹرین سے اتر جاؤں اور ٹیکسی لے کر ہوٹل پہنچوں گا۔
پھر میں نے ایسا ہی کیا اور ٹرین کو راستے میں ہی چھوڑا۔ باہر نکل کر پلیٹ فارم پر کافی دیر تک کھڑا رہا اور اپنا سانس بحال کر کے باہر کی طرف چل پڑا۔ جب میں باہر نکل رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ لوگ کسی نہ کسی کو بلا کر اس کا ٹکٹ چیک کر رہے تھے۔ یاد رہے ٹرین پر چڑھتے وقت کسی نے بھی ہمارا ٹکٹ چیک نہیں کیا اور سفر کے دوران تو اس کا کوئی امکان ہی نہیں تھا لیکن انتظامیہ نے اس کا علاج ڈھونڈ رکھا تھا کہ جب لوگ باہر نکلیں تو ان کا ٹکٹ چیک کیا جائے۔ ٹکٹ چیکر نے مجھے بھی اشارے سے بلایا اور ٹکٹ چیک کیا۔ ان صاحب کا برتاؤ انتہائی مناسب تھا اور مجھے کسی طرح کی رعونت محسوس نہ ہوئی۔
بھارت کے شمالی علاقہ جات میں مجھے جب بھی کسی سرکاری افسر سے بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے ہمیشہ ہی برتر ہونے کا ثبوت دیا۔ اس کے مقابلے میں جنوبی ہندوستان کے لوگ دھیمے مزاج کے ہیں۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے آپ کو اس سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔


