معاشرہ، انسان، حیات اور اقدار
ابتدا میں انسان نے بالکل تنہائی کی زندگی بسر کی۔ وہ ہمیشہ دوسرے انسانوں سے اس لئے خائف رہتا تھا تا کہ کہیں کوئی دوسرا انسان اس کو نقصان نہ پہنچا دے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ایک دوسرے کے عادی ہوتے گئے اور بالآخر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پر امن زندگی گزارنے لگے اور اسی طرح معاشرہ وجود میں آیا۔ انسان نے ہمیشہ خود کو قدرتی طاقتوں کے سامنے بے بس پایا اس لیے انسان نے گروہی زندگی اختیار کی اور اسی گروہی زندگی کے سبب معاشرہ وجود میں آیا۔ انسان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے کی ضرورت محسوس کی۔
معاشرہ انسانی جسم کی مانند ہے۔ جس طرح انسانی اعضا ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اسی طرح معاشرے کے ادارے اور گروہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں رہ سکتے۔ معاشرے میں لوگ ایک لمبے عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو ایک دوسرے کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور ایک منظم اکائی بن جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ارتقا یعنی ترقی ہونا ایک فطری عمل ہے۔
ہر معاشرے میں سیاسی نظام مستحکم ہوجاتا ہے تو معاشرہ اپنی ارتقا کی چوتھی منزل کی طرف گامزن ہوتا ہے وہ یہ کہ جب مختلف سیاسی وحدتیں باہم دست و گریباں ہو جاتی ہیں تو یہاں پر بین الاقوامی امن قائم کرنے کے لیے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف وحدتوں کے درمیان نظم و ضبط قائم رکھ سکے۔ یہ نظام فوجی نقطہ نظر سے اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ مختلف ریاستیں مل کر بھی اس نظام کا مقابلہ کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔ ارتقا سے مراد معاشرے کی حالتوں کا تبدیل ہونا ہے جو کسی روپ میں بھی ہو یہ فطری عمل ہے۔ معاشرہ ترقی پذیر ہوتا ہے اور اس میں ارتقا پایا جاتا ہے۔
معاشرے کے ارتقا کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔
oکسی معاشرے میں جتنی آبادی زیادہ ہوگی اتنی ہی تیزی سے وہ معاشرہ ارتقائی منازل طے کرے گا۔
oصنعت و حرفت کی ترقی بھی معاشرتی ارتقا کو تیز کرتی ہے۔
oرسمی تعلیمی اداروں کی تعداد جس قدر زیادہ ہوگی اور جتنی تعلیم عام ہوگی اس قدر ارتقائی عمل تیز ہو گا۔
oمعاشرے کے ارتقا میں مواصلاتی نظام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نظام جس قدر تیز ہو گا اتنا ہی ارتقائی عمل بھی تیزی سے ہو گا۔ اس نظام میں تارو ڈاک، ٹیلی فون، فکس، انٹرنیٹ اور ہوائی جہاز وغیرہ شامل ہیں۔
oافراد معاشرہ میں محبت کا معیار جتنا بلند ہو گا اتنا ہی وہ تمام کام خوش اسلوبی سے انجام دیں گے اور یوں معاشرہ ارتقا کی طرف تیزی سے بڑھے گا۔
oمعاشرتی تفاعل کی رفتار معاشرے کے ارتقا کو تیز کرتی ہے۔ جدید معاشروں میں تفاعل کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے ہی ترقی کی رفتار بھی تیز ہے۔
oجس معاشرے کے ادارے مضبوط اور آزاد ہوں گے اور سیاسی استحکام ہو گا وہی معاشرہ ترقی کی رفتار میں بھی سب سے آگے ہو گا۔
oاگر معاشرے کے افراد کو ان کی معاشرتی زندگی میں آزادی حاصل ہو اور وہ سیاسی، معاشی اور دیگر مسائل پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں تو معاشرتی ارتقا تیزی کے ساتھ ہو گا۔
oمعاشرے میں بہتر زرعی زمین، محنتی کارکن، صحت مند افراد، صنعتی و فنی ماہرین معدنیات کا وجود اور صنعتی کارخانوں کا قیام وغیرہ بھی ارتقا کے عمل کو تیز کرنے کے لئے ضروری ہے۔
oجس قدر افراد ترقی پسند ہوں گے اور جتنا زیادہ معاشرے کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی روابط ہوں گے معاشرہ اسی قدر تیزی سے ترقی کرے گا۔
اگر کوئی بھی انسان معاشرے کے بغیر زندگی گزار تا ہے تو اسے دیوتا یا وحشی تو کہا جا سکتا ہے لیکن انسان نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور گروہی زندگی اس کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر معاشرے کے تمام افراد شہروں اور دیہاتوں کو خالی کر کے تنہا اپنی اپنی مرضی سے نکل پڑیں تو شہر کے شہر اور بستیاں کی بستیاں خالی ہوجائیں اور زندگی کا پہیہ ایک جھٹکے میں رک جائے۔ معاشرے میں موجود افراد ایک نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس نظام میں اونچ نیچ کی تقسیم، افراد کو اختیارات کا حصول، لوگوں کو حاصل آزادی اور پابندی کے بارے میں رضامندی پر مبنی فیصلے موجود ہوتے ہیں۔
انسان اکیلا نہیں رہ سکتا اگر ہم غور کریں تو دیگر جانداروں کے برعکس بنی نوع انسان مجبور ہیں کہ وہ ایک معاشرے کی شکل میں زندگی بسر کریں کیوں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک طویل عرصے تک نہ تو خود کروٹ بدل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ اسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ معاشرتی زندگی اور معاشرہ ہی انسانی بقا کو یقینی بنا سکتے ہیں ورنہ انسان اکیلا کبھی زندہ ہی نہ رہ پائے۔
افراد کے باہمی تعلقات کے تانے بانے کو معاشرہ کہا جاتا ہے۔ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد اپنی بنیادی ضروریات کے پیش نظر ایک دوسرے کی بنیادی احتیاجات مثلاً خوراک لباس، اور رہائشی سہولیات کے ساتھ ساتھ معاشرتی میل جول اور لاتعداد نفسیاتی تقاضوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جس معاشرے میں ان تمام بنیادی ضروریات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، اس معاشرے کا ایک فرد بھی اس کی بہتری کے لیے کام نہیں کر سکتا اور اس طرح انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔
معاشرہ کو انسانی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے معاشرہ اجتماعی زندگی کی اساس ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کا جائزہ لیں تو روز اول سے انسانی معاشرے نے مختلف شکلیں بدلی ہیں۔ ابتدا میں جب انسان غاروں میں رہتا تھا تو وہ جانوروں کا شکار کر کے اور جڑی بوٹیاں اور پودے وغیرہ کھا کر اپنی زندگی بسر کرتا تھا اس معاشرے کو تاریخ نے شکار پر مبنی معاشرہ کا نام دیا۔
انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے گروہ کو مضبوط رکھتا ہے اور ان میں پھوٹ نہیں پڑنے دیتا بالکل اسی طرح حیوانات بھی اپنی گروہی زندگی کو قائم رکھتے ہیں۔ حیوانات اور پرندوں کے گروہی ارکان میں باہمی تعاون پایا جاتا ہے۔ معاشرہ چاہے انسانی ہو یا حیوانی ایک نظام کے تحت چلتا ہے اور اسی نظام کو معاشرتی نظام کہتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک مکان اور اس کے اجزاء اینٹ، مٹی، گارا وغیرہ۔
معاشرے کی بنیادی چیزوں کے تین بڑے اہم عناصر ہیں جو کہ حیاتیاتی، جغرافیائی اور ثقافتی ہیں۔ پہلا عنصر اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاشرے میں لوگ حیاتیاتی ضروریات کے تحت متحد ہوتے ہیں جب کہ دوسرا عنصر جغرافیائی ماحول پر براہ راست اور محدود انداز میں انسانی معاشرے کی فطرت پر اثر انداز ہوتا ہے، تیسرا عنصر جو کہ ثقافتی ہے یہ ماحول میں پایا جاتا ہے اور انسانی معاشرے کو بنانے کا بہت زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ پہلے اور دوسرے عنصر پر بھی قابو پاتا ہے۔
انسانی معاشرے کا عام مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر افراد کی زندگی کو بہتر بنا یا جا سکے یہ نہ توCapitalistic ہوتا ہے نہSocialistic بلکہ ان میں مادی اور روحانی خوشی کی ایک ترتیب ہوتی ہے جس میں اللہ پاک نے انسان کے اتحاد کا اظہار کیا ہے۔ اسلام میں معاشرے کا تصور اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے غور سے پڑھا جائے کیوں کہ موجودہ دور میں معاشرتی نظریات جمہوریت اور کمیونزم سے لیے گئے ہیں۔
اسلام میں مثالی معاشرہ امہ کہلاتا ہے جو سمجھ اور توجہ کا راستہ دکھاتا ہے جس میں مذہب اور مقصد ایک ہوتا ہے اور جو آپس میں مطابقت رکھتے ہیں۔ امہ کا انفراسٹرکچر معیشت ہوتی ہے کیوں کہ اس کی نہ تو دنیاوی زندگی ہوتی ہے اور نہ ہی روحانی۔ یہ ایک معاشرتی نظام ہے جس کی بنیاد مساوات پر ہوتی ہے اور اس میں انصاف کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی معاشرے میں بھائی چارہ بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
اسلامی معاشرے میں جمہوریت نہیں ہوتی اور نہ ہی مختلف قوتوں کو آزادی ہوتی ہے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ اس میں تمام انسانوں کو مساوی سمجھا جاتا ہے۔ تمام لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین اور اس کو اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں۔ اسلامی قوانین کا مشترکہ ضابطہ شریعت کہلاتا ہے جس کو قرآن سے اخذ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں پیغمبرانہ روایات اور علمائے کرام کی تعلیمات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
شریعت میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے اہم اصول پائے جاتے ہیں جن کا تعلق سیاسی، معاشرتی، معاشی، ثقافتی اور مذہبی پہلوں کے علاوہ اخلاقی پہلو سے بھی ہوتا ہے۔ مختصر طور پر شریعت اس کو کہا جاتا ہے جو سیکولر کے متضاد ہے۔ اگر مغربی معاشرے کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں سائنس کی نسبت خد و خال ہوتے ہیں جو کہ مغربی تہذیب کو بناتے ہیں جب کہ اسلامی معاشرے کے اہم اصولوں کو توحید کے اصولوں کے مطابق بنایا جاتا ہے اور تمام اداروں کی بنیاد بھی اسی پر رکھی جاتی ہے۔

