بچپن کی یادیں اور پھپھو اماں
اولین سفر کی کچھ دھندلی دھندلی سی تصویریں، کچھ مٹے مٹے نقوش نظر آتے ہیں۔ تانگے کا آنا جس کے آگے پیچھے سفید چادریں یوں لگی ہوتیں کہ جب میری خالائیں اپنے ہوش ربا حسن کو کالے فیشنی برقعے میں چھپائے ان تانگوں میں بیٹھتیں تو آگے پیچھے تنی ہوئی چادروں سے انہیں باہر کا کوئی نظارہ نظر نہ آتا۔ اس پر بھی وہ خوشی سے پھولے نہ سماتیں کہ گھر کی چاردیواری سے باہر کہیں آنے جانے کا مشکل سے ہی کوئی موقع ہاتھ آتا۔ پردے لگے ہوئے تانگے رواج عام میں داخل تھے۔
ہم شاید جنگل خیل (کوہاٹ) یا مضافات میں کسی کے گھر جاتے، جہاں گھر کے بنے ہوئے حلوہ جات، مٹھائیاں اور انواع و اقسام کے لوازمات چائے کے ساتھ پیش کیے جاتے۔ تانگہ باہر انتظار کرتا اور واپسی اسی تانگے پر ہوتی۔ تاہم یہ میرے بہت بچپنے کی یاد ہے۔ کچھ عرصے بعد رفتہ رفتہ پردے والے تانگے کا رواج یا پابندی ختم ہو گئی۔
تانگے بھی دور دراز جگہوں پر جانے کے لیے استعمال ہوتے۔ اچھی خاصی دور دراز جگہوں پربھی پیدل جانے کا رواج اور معمول تھا تمام لوگوں کا۔
شاہ پور گاؤں جو رستم کیانی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ کوہاٹ سے اچھا خاصا دور ہے مگر حیرت ہے کہ پھپھو اماں ( رشتے کی نانی ) شٹل کاک برقعہ پہنی ہماری انگلی پکڑ کر پیدل چل پڑتیں۔
جھنڈی اسٹیشن سے آگے نکل کر ہم شاہ پور کی حدود میں داخل ہوتے تو ندی یا کسی آتی۔ صاف شفاف ٹھنڈے پانی کی کسی جسے پار کرتے ہوئے ہم خاصے لطف اندوز ہوتے۔ مگر کبھی کبھی پانی اتنا زیادہ اور بہاؤ ایسا تیز ہوتا کہ پھپھو اماں ہمیں گود میں اٹھا کر ندی پار کرواتیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب ہم شاہ پور گئے تو بخدا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا طویل فاصلہ آخر کیسے ہم پیدل طے کرتے تھے۔
ٹھنڈے پانی سے گزر کر جاتے تو بھوک بھی زوروں کی لگی ہوتی۔ پیشگی اطلاع کا تو نہ کوئی تصور تھا نہ انتظام، پھر بھی خندہ پیشانی سے آگے بڑھ کر استقبال کیا جاتا۔ بچے مرغ پکڑنے کی مہم پر نکل جاتے۔ مٹی کی بڑی سی ہانڈی میں ککڑ کا مزیدار سالن، ساتھ گھر کے نشاستے کا سنہری رنگ کا لذیذ حلوہ اور مٹی کے تنور پر گرما گرم پکی ہوئی روٹیاں ہماری بھوک کو دو آتشہ کر دیتیں۔
اس کے بعد چار بجے کے قریب چائے بنتی۔ اب وہاں کیک پیسٹری وغیرہ تو نہ تھیں، اس لئے گھر کی بنی ہوئی سویاں ابال دی جاتیں اور انہیں اصلی گھی کا تڑکا لگا کر بڑے سے تھال یا غوری میں ڈال دیا جاتا۔ جن کے اوپر شکر اور بالائی ڈال کر کھاتے تو سواد آ جاتا۔ مغرب سے پہلے گھر کی راہ لیتے۔ کسی کے پانی میں مزید تیزی و تندی آجاتی۔ ہم تو پھپھو اماں کی گود میں مزے سے کسی عبور کرتے۔ اگر پانی کم ہوتا تو انگلی پکڑ کر ٹھنڈے پانی میں چھپاکے اڑاتے ندی پار کرتے۔ اب یہ سب سوچتی ہوں تو یقین نہیں آتا۔
ہم نے تو جب ہوش سنبھالا تو پھپھو اماں کو عمر رسیدہ ہی دیکھا مگر ان کی ہمت و جرات کے کیا کہنے۔ ایسے بھاری بھاری کام کرتیں کہ اب سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں۔
مٹی کی کالی ہانڈیوں کو کوئلے سے مانجھنا۔ پھر مٹی سے لیپنا۔ طرح طرح کے پکوان، سبزیاں سکھانا، وڑیاں بنانا، صندل کا شربت، سویاں بنانا، گندم بھگو کر نشاستہ نکالنا۔ چاخسو اور دیسی نسخے بنانے کپڑے دھلتے تو پہلے مرمت کرتیں۔ کوئی بٹن ٹوٹا ہوتا تو لگا لیتیں۔ پھر ہاتھ ایسے پھیر کر کپڑے طے کرتیں جیسے کسی نے استری کیے ہوں۔ اپنے کپڑے بوسیدہ ہوتے تو کمال مہارت سے پیوند لگا لیتیں۔ انگشتانہ پہن کر بڑی بڑی سوئیوں سے لحاف میں ڈورے ڈالنا اور سردیوں میں دھوپ سینکتیں تو کارگاہ نکال کر آزار بند بنانے لگتیں۔ میں ان کے تیزی سے چلتے جھریوں بھرے محنت کش ہاتھوں کو بڑے اشتیاق سے دیکھتی۔ وہ ہاتھ جو مسلسل کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے۔ کبھی کبھی پھر ان مصروفیات سے نکل کر اپنا شٹل کاک برقعہ پہن لیتیں، ہماری انگلی پکڑ کر کبھی شاہ پور تو کبھی کسی اور دوست کے گھر چل دیتیں۔
آہ ایک بیوہ کی زندگی کا سفر بھی کیا مشکل سفر ہوتا ہے۔ جب اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے۔ اپنا آپ مٹا کر دوسروں کی خدمت و اطاعت سے دل جیتنا پڑتا ہے۔ تبھی میکے یا سسرال میں جگہ بن پاتی ہے۔ مولانا حالی نے کس درد دل سے چپ کی داد میں بیوگی کے مشکل سفر اور حالت زار پر بات کی ہے۔
لیجیے ہم شاہ پور کی ٹھنڈی ندی پار کرتے کرتے یاد کے کن جزیروں میں جا نکلے۔ زندگی ایک سفر ہی تو ہے۔ کچھ کے لئے سہانا تو کچھ کے لئے دشوار گزار شاہراہ حیات، جو بہرحال طے کرنا پڑتی ہے۔
نوٹ اپنے اولین سفر یاد کرتے کرتے پھپھو اماں کی یاد اور ان کے سفر میں الجھ گئی۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین


