ایدھی صاحب کی برسی پر چند باتیں
آج عبدالستار ایدھی صاحب کی ساتویں برسی ہے۔ اس موقع پر ان کے بستر مرگ کے دنوں کی چند باتیں ذیل میں تحریر ہیں۔ محمد خان جونیجو کی حکومت میں ایک زورآور وفاقی وزیر تھے۔ وہ جونیجو کابینہ کے رکن تھے لیکن انہیں اصل طاقت براہ راست جنرل ضیاء الحق سے ملتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ موصوف وزیر اپنے آبائی گھر کے برآمدے میں کچھ لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ اسی وقت کوٹھی کے مرکزی گیٹ سے ایک بوڑھا داخل ہوا۔ اس کی کمر حالات کے بوجھ سے پوری طرح جھک چکی تھی۔
اس کی لاٹھی کی ٹک ٹک نے سب حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ بوڑھا جب وزیر موصوف کے عین سامنے پہنچا تو وزیر صاحب نے مقامی زبان میں اسے خوش آمدید کہتے ہوئے آنے کی وجہ پوچھی۔ بوڑھے شخص نے وفاقی وزیر کو اپنے جدی پشتی تعلقات یاد کروا کر کہا کہ ”میں اور میرے ساتھ رہنے والی میری دو نسلیں بری طرح مفلسی کا شکار ہیں۔ آپ مہربانی کر کے مجھے کچھ سرکاری امداد دلوا دیں“ ۔ جونہی اس بوڑھے کی التجا مکمل ہوئی وفاقی وزیر نے بڑی حاضر دماغی سے اس غریب بوڑھے کو جواب دیا کہ ”یار تم امداد کی بات کر رہے ہو، میں تو تمہیں اس علاقے کی زکوٰۃ کمیٹی کا چیئرمین بنانا چاہتا ہوں“ ۔
غریب بوڑھے نے جیسے ہی وفاقی وزیر کے یہ الفاظ سنے اسے اپنے اندر طاقت آتی محسوس ہوئی۔ لوگوں نے دیکھا کہ چند سیکنڈ پہلے کا افسردہ اور لاغر بوڑھا اب کھلا کھلا اور توانا لگ رہا تھا۔ بوڑھے نے بڑی شفقت سے اپنے یار وفاقی وزیر کو جھک کر سلام کیا اور اسی مرکزی گیٹ سے واپس چلا گیا جہاں سے وہ آیا تھا۔ بوڑھے کے گیٹ کراس کرتے ہی سامعین میں سے ایک بولا ”سر! آپ نے اس بوڑھے کو کمال طریقے سے ہینڈل کیا۔ یہ آپ سے امداد مانگنے آیا تھا، اب چیئرمین زکوٰۃ کمیٹی کے لارے میں ہی رہے گا“ ۔
وفاقی وزیر نے یہ بات سن کر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ یہ واقعہ اس وقت بڑی شدت سے یاد آیا جب ایدھی صاحب بستر مرگ پر تھے اور اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات نے ان کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے بات کی۔ ایک صحافی نے محترم وزیر سے سوال کیا کہ ”ایدھی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے حکومت ان کے نام کا ڈاک ٹکٹ کیوں نہیں جاری کرتی؟“ وفاقی وزیر نے جونیجو حکومت کے ماضی کے وہ وزیر جن کا ابتدائی سطروں میں ذکر کیا گیا ہے کے جیسی حاضر دماغی سے جواب دیا کہ ”ایدھی صاحب کو کسی اعزاز کی ضرورت نہیں ہے، سب اعزاز ان سے چھوٹے ہیں“ ۔
وزیر موصوف کا یہ کہنا ٹھیک تھا کہ ”ایدھی صاحب کے لئے سب اعزاز چھوٹے ہیں“ لیکن اس کا کیا یہ مطلب ہونا چاہیے کہ ایدھی صاحب کی خدمات کا سرکاری سطح پر بھرپور اعتراف ہی نہ کیا جائے؟ وزیر صاحب کے بیان کی تشریح ایسے بھی کی جا سکتی ہے کہ اولاد ماں باپ کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی لہٰذا اولاد اپنی فرمانبرداری کو ماں باپ کے احسانات کے آگے کمتر سمجھتے ہوئے والدین کے لئے اپنے فرائض ہی ادا نہ کرے۔ ایدھی صاحب 19 برس کی عمر میں 1947 ء میں کراچی آئے۔
انہوں نے معمولی فنڈ سے ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی۔ ان کی ایمانداری اور خلوص نیت سے دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کے باعث ایدھی فاؤنڈیشن پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا گیا اور عطیات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا۔ اس وقت ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس رکھنے کا اعزاز بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس ہی ہے جس کے باعث 2000 ء میں ایدھی فاؤنڈیشن کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن ”جھولا پروگرام“ کے تحت اب تک ہزاروں نومولود لاوارث بچوں کی وارث بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں یتیموں کی سرپرستی کی، ہزاروں نرسوں کو انسانیت کی خدمت کے لئے تیار کیا اور پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں سینکڑوں فلاح و بہبود کے سینٹرز قائم کیے ۔ یہ لاتعداد سینٹرز فوڈ کچن، بحالی مرکز، بے آسرا خواتین اور بچوں کے لئے شیلٹر ہوم اور ذہنی معذوروں کے لئے کلینک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے انسانیت کی خدمت کو سرحدوں کا پابند نہیں بنایا۔
ان کی خدمت خلق کی سرگرمیاں افریقہ، مڈل ایسٹ، مشرقی یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی جاری رہتی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لئے سفر کے دوران ایدھی صاحب کو بے حد بوسیدہ لباس پہننے کے باعث کئی گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں 80 ء کی ابتدائی دہائی میں لبنان داخل ہوتے ہوئے اسرائیلیوں کے ہاتھوں گرفتاری، 2006 ء میں ٹورنٹو کینیڈا میں سولہ گھنٹے کی حراست اور جنوری 2008 ء میں امریکہ کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پر آٹھ گھنٹے تک امیگریشن حکام کی پوچھ گچھ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا مشن جاری رکھنے پر بین الاقوامی سطح پر بھی ایدھی صاحب کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اور انہیں لاتعداد اعزازات سے نوازا گیا جن میں لینن پیس پرائز، سوویت یونین کا امن انعام، یو اے ای کا ہمدان ایوارڈ، انٹرنیشنل بلزن پرائز اٹلی، امن اور ہم آہنگی کا ایوارڈ دہلی، امن ایوارڈ ممبئی، امن ایوارڈ حیدرآباد دکن، گاندھی امن ایوارڈ دہلی، امن ایوارڈ جنوبی کوریا اور یونیسکو مدن جیت سنگھ پرائز وغیرہ شامل ہیں۔
بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے انہیں 1989 ء میں ”نشان امتیاز“ سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں بے شمار تنظیموں کے اعزازات سمیت پاک فوج کی طرف سے شیلڈ آف آنر بھی دی گئی۔ ایدھی صاحب کو 2011 ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے نوبل انعام کے لئے ریکمنڈ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی اس وقت کی نوعمر رہنما آصفہ بھٹو قابل تحسین ہیں جنہوں نے ایدھی صاحب کی عیادت کی اور نیک تمناؤں کے ساتھ انہیں پھول پیش کیے ۔
ایدھی صاحب نے انسانیت کی خدمت کا سبق اپنے بچپن میں اپنی اپاہج ماں کی خدمت سے سیکھا لیکن انہوں نے کبھی بھی کسی دوسرے کی طرح ماں کے نام کی فلاحی سرگرمیوں کو سیاست میں کیش کروا کے اقتدار کی ہوس نہیں کی۔ ہماری سیاسی جماعتیں مختلف ایشوز پر پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن بلاتی ہیں اور صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کرتی ہیں۔ کیا ایدھی صاحب کے احترام میں پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلا کر انہیں بعد از مرگ خراج عقیدت پیش نہیں کیا جاسکتا؟ اگر پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ”نشان پاکستان“ ملکہ برطانیہ، امریکی صدور، چینی سربراہان اور نیلسن منڈیلا سمیت کئی بین الاقوامی شخصیات کو دیا جاسکتا ہے تو پاکستان کی غیر متنازع بین الاقوامی شخصیت عبدالستار ایدھی صاحب کو بعد از مرگ ”نشان پاکستان“ کیوں نہیں دیا جاسکتا؟


