شعبہ تعلیم کو اکھاڑہ مت بنائیں!


ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے فیڈرل ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2002 ترمیمی بل وفاقی کابینہ سے منظور کروا لیا ہے۔ اب اس مسودہ قانون کو منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ایک بار پھر یہ خدشہ سر اٹھانے لگا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور اس کے چیئر مین کے اختیارات نہایت محدود ہو جائیں گے۔ مجھے اس تازہ ترمیمی بل کا مسودہ دستیاب نہیں ہو سکا۔ میڈیا کے توسط سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ بل کی منظوری کے بعد صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز غیر فعال ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ نئی جامعات کے قیام کا اختیار کلی طور پر فیڈرل ایچ۔ ای۔ سی کو مل جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن گزشتہ کئی سالوں سے مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں صورتحال نسبتاً بہتر تھی۔ فنڈز بھی دستیاب تھے اور کمیشن چیئرمین کے پاس اختیارات بھی تھے۔ تنازعات نے اس وقت سر اٹھایا جب عمران خان دور حکومت میں کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری اور ڈاکٹر عطا الرحمن کے مابین اختیارات کی کھینچا تانی شروع ہوئی۔ ڈاکٹر بنوری نے وزیر اعظم ہاؤس کی مداخلت پر اعتراض اٹھایا تو راتوں رات ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کمیشن چیئرمین کی مدت ملازمت چار سال سے کم کر کے دو سال کر دی گئی۔ پھر معاملات عدالت میں جا پہنچے اور پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی۔

شہباز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو ان کی توجہ بھی کمیشن کی جانب مبذول کروائی گئی۔ حکومت نے کمیشن ایکٹ میں ترامیم کے لئے ایک مسودہ تیار کیا۔ مجھے اس مسودے کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیمی بل کے کچھ نکات قابل جواز تھے۔ مثال کے طور پر حکومت چاہتی تھی کہ کمیشن کو دیے جانے والے کروڑوں اربوں روپے کے فنڈز کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ اور یہ کہ کمیشن کے مالیاتی معاملات آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے طے کردہ قواعد و ضوابط کے تابع ہوں۔ کمیشن میں مشیروں وغیرہ کی بھرتی کے لئے باقاعدہ قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں۔ یہ اور اس طرح کے نکات پر بھلا کسے اعتراض ہو سکتا ہے؟ لیکن وہ نکات جو کمیشن چیئرمین کے اختیارات سلب یا محدود کرنے کے لئے مسودہ قانون میں شامل تھے ان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت کمیشن کا چیئرمین براہ راست وزیر اعظم پاکستان کو رپورٹ کرتا ہے اور اس کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ چیئرمین کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔ تجویز ہوا تھا کہ کمیشن چیئرمین سے وفاقی وزیر کا درجہ واپس لے لیا جائے۔ یہ تجویز بھی تھی کہ وزیر اعظم اپنے اختیارات وزیر تعلیم کو تفویض کر سکے گا۔ اس طرح کمیشن کا چیئرمین وزیر تعلیم اور وزارت تعلیم کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ بجا طور پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس طرح چیئرمین کی حیثیت بہت کم ہو جائے گی۔

کوئی حکومت سے پوچھے کہ اس تبدیلی کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہاں پر تو پہلے ہی وزیروں، مشیروں کی ایک لمبی قطار لگی ہے۔ اس قطار میں اگر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی شامل ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اصولی طور پر کمیشن چیئرمین کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہی ہونا چاہیے۔ کمیشن کا سربراہ مختلف معاہدوں کے لئے بیرون ملک جاتا ہے تو اسے وزیر کا پروٹوکول ملتا ہے۔ اس ملک کے وفاقی وزیروں اور اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں اور معاہدے کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ اس سلسلے میں میری مسلم لیگ (ن) کے ایک صاحب علم سیاستدان سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات کے وائس چانسلروں کو بھی وفاقی وزیر کا درجہ مل جائے تو کیا حرج ہے؟ ان کا خیال تھا کہ شعبہ تعلیم سے وابستہ لوگوں کی عزت افزائی ہونی چاہیے۔

چند ماہ پہلے جو مسودہ میری نگاہ سے گزرا تھا اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کا اختیار کمیشن کے بجائے حکومت کے پاس ہو گا۔ ایک شق کمیشن کے اراکین کم کرنے سے متعلق تھی۔ اس سے خدشہ تھا کہ صوبوں کی نمائندگی پر زد پڑے گی۔ تجویز ہوا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن تمام تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے والا واحد ادارہ ہو گا۔ اس سے پاکستان میڈیکل کمیشن، انجینئرنگ کونسل، پاکستان بار کونسل جیسے اداروں کے اختیارات سلب یا محدود ہونے کا خطرہ تھا۔

معلوم نہیں کہ کابینہ سے منظور ہونے والے مسودے میں کیا کیا ترامیم شامل ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ وہی مسودہ قانون ہے جو چند ماہ پہلے تیار ہوا تھا اور جس کا ذکر میں نے اس کالم میں کیا ہے۔ اگر یہ وہی مسودہ قانون ہے تو میری رائے میں اس قانون کے نفاذ کے بعد کمیشن کے کچھ اختیارات یقیناً محدود ہو جائیں گے۔ تاہم صوبائی کمیشنوں، پاکستان بار کونسل، انجینئرنگ کونسل، میڈیکل کمیشن کے اختیارات ملنے سے ایچ۔ ای۔ سی پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ادارہ بن کر سامنے آئے گا۔

اس ساری بحث سے قطع نظر، کسی بھی قانون میں ترمیم کرنا حکومت کا قابل جواز حق ہے۔ لیکن کیا یہ اچھا نہ ہو کہ حکومت کوئی اقدام اٹھانے سے پہلے اور اپنا حق استعمال کرنے سے پہلے متعلقہ اسٹیک ہولڈروں سے مشاورت کو یقینی بنائے۔ اس ترمیمی بل کے حوالے سے سرکاری اور نجی جامعات، یا صوبائی کمیشنوں کے سربراہان سے مشاورت کر لی جاتی تو کیا حرج تھا؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نے شعبہ تعلیم کو ایک اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس کا بس چلتا ہے وہ اداروں پر طبع آزمائی شروع کر دیتا ہے۔

ایک اہم معاملہ یہ بھی دیکھیے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے پنجاب کی کئی جامعات مستقل وائس چانسلروں سے محروم ہیں۔ سارا کام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے۔ کسی نہ کسی کو وقتی نگران بنا کر جامعات کے معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ نگران حکومت نے وائس چانسلروں کی تعیناتی کا پروسس شروع کیا تھا۔ اس پر کچھ لوگ عدالتوں میں جا پہنچے۔ عدالت سے کبھی اسٹے ملتا ہے۔ کبھی تعیناتی کا حکم اور پھر اسٹے۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ نظام کس طرح چلے گا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوبائی حکومت رخصت ہونے سے قبل یہ معاملہ طے کر کے جاتی۔ وائس چانسلروں کی مدت ملازمت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے نئے وائس چانسلروں کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا جاتا۔ تاکہ بے یقینی کی صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی۔ مگر اس اہم معاملے پر تب نظر جاتی جب تعلیم اس حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی۔ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے صوبائی اسمبلی توڑ دی گئی۔ حکومت رخصت ہوئی۔ جامعات جائیں بھاڑ میں۔ یہ صورتحال اسلام آباد میں بھی ہے۔

اسلام آباد کی دو اہم جامعات ایڈہاک ازم پر چل رہی ہیں۔ سنتے ہیں کہ صدر مملکت عارف علوی صاحب کو جامعات کے سربراہان کے لئے بھجوائے گئے امیدوار پسند نہیں آئے تھے۔ لہذا فائلیں واپس کر دی گئیں۔ افسوس کہ جامعات میں وائس چانسلروں کی تعیناتی جیسا حساس معاملہ بھی سیاسی اور ذاتی پسند نا پسند کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں شعبہ تعلیم میں کیسے بہتری آ سکتی ہے؟

Facebook Comments HS