پاکستان۔ کبھی خود مختار بھی ہو گا؟


 پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تقریباً 22 مرتبہ بیل آؤٹ پیکج کا معاہدہ ہو چکا ہے اور ایسے میں ایک خبر حال ہی میں سننے کو ملتی ہے کہ آئی ایم ایف نے آخر کار پاکستان کا 3 بلین ڈالر کا قرض منظور کر لیا ہے، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف کا پیکج معیشت کی ضرورت تھا۔ اس خبر پر وزیراعظم اور وزیر خزانہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پروگرام کی بحالی معیشت کے لئے اچھی خبر ہے اور وہ اس کا کریڈٹ لیتے نظر آتے ہیں۔

ایک وقت ہوتا تھا جب آئی ایم ایف سے قرض لینے پر سیاست ہوتی تھی اور اگلی بار آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا عہد کیا جاتا تھا لیکن اب پروگرام کی بحالی کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ قرض کے لئے حکومت کو بھاگ دوڑ بھی کرنی پڑی، سخت شرائط بھی ماننا پڑی اور ساتھی ممالک سے بھی زرمبادلہ کو سہارا دینے لئے امداد کی درخواست کرنا پڑی جس کے نتیجے میں پاکستان کو سعودی عرب اور یو اے ای کی طرف سے بھی رقم موصول ہو گئی ہے۔ ماضی میں امریکہ کے پاکستان کے ساتھ مفاد کی وجہ سے وہ قرض منظور کرانے میں مدد کر دیتا تھا لیکن اس بار امریکہ کو کوئی مفاد نہیں تو اس نے بھی مدد سے انکار کیا۔

لہذا قرض منظور ہو گیا، اور اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا ہے۔ ایک سوال جو ہر شعور رکھنے والا پاکستانی کرتا ہے کہ کیا کبھی ہم خود مختار بھی ہوں گے؟ کیا ہماری معیشت بھی ترقی یافتہ ملکوں کی طرح مضبوط ہوگی؟ اگر ہم اس کا جواب ڈھونڈنے ماضی کی طرف جائیں تو ہمیں ہماری پالیسیز میں فالٹ ملتا ہے، ہم نے ہمیشہ لانگ ٹرم پلاننگ کے بجائے جگاڑ لگانا بہتر سمجھا۔ ہمارا دوسروں پر انحصار تب ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان بننے کے بعد ہی ہم نے امریکہ سے 2 ارب ڈالر کی امداد مانگی تھی، پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور ہم دوسروں کے دیے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گئے۔

ایوب خان کا دور معیشت کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے، 6.7 کی رفتار سے معیشت نے ترقی کی لیکن پوری سٹوری پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ تب بھی بیرونی امداد کا ہی نتیجہ تھا کہ ترقی کی رفتار تیز ہوئی، پھر افغانستان میں سویت یونین اور طالبان کی جنگ شروع ہوئی ایسے میں امریکہ بھی چاہتا تھا کہ سویت یونین کو شکست دی جا سکے تب اس نے پھر سے پاکستان کا سہارا لیا اور بدلے میں اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی۔ جب امریکہ نے ساتھ چھوڑا تو ہم نے چائنہ اور سعودی عرب کی طرف دیکھنا شروع کیا، وہاں سے امداد ملنے کے باوجود ہماری ضروریات پوری نہ ہوتی تو پھر سے امریکہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے۔ ایسے میں باقی ممالک ہم سے قرض کے بدلے مفاد کا معاہدہ کرتے رہے اور ہر کوئی پاکستان سے مفاد اٹھاتا رہا۔ دفاع کو مضبوط کرنے کے لئے مختلف معاہدے کیے جاتے رہے، امداد کا پیسہ دفاع پر لگتا رہا۔ اور یہ سلسلہ بس چلتا رہا۔

اب ہم بغور جائزہ لیں تو جب ہم ان جگاڑ کے چکروں میں تھے تب بھارت، چائنہ، بنگلہ دیش عوام دوست پالیسیز بنا رہے تھے، وہ پالیسیز جس سے عوام، ملک اور معیشت کو فائدہ ہو، جس سے برآمدات بڑھیں اور زرمبادلہ کو بڑھانے کی طرف توجہ دے رہے تھے۔ جبکہ ہماری پالیسیز نہ ہونے کے برابر رہی ہیں، ہمارے پاس اپنی برآمدات کو بڑھانے کا، ٹیکس انکم کولیکشن بڑھانے کا، معیشت کو مضبوط کرنے کا کوئی روڈ میپ نہیں تھا، ہماری تمام تر توجہ عوامی فلاح کے بجائے دفاع پر رہی تب ہی آج ہم سب سے پیچھے رہ گئے، نہ تعلیم کو فروغ کے لئے کچھ کیا گیا نہ ہی بیروزگاری پر توجہ دی گئی نہ ہی آبادی کو کنٹرول کرنے کا پلان تیار کیا گیا۔ ایسے میں سب چیز بے ہنگم ہو گئے، شہر کے شہر بے ترتیب ہو گئے اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ کرائم ریٹ بڑھنے لگا۔ ہماری پالیسیز ہی ہمارے آج یہاں پہ اکیلے کھڑے رہ جانے کی وجہ ہیں

آج بھی اگر ہم پالیسیز کو بہتر بنائیں، یہاں سے معیشت کو ترقی کی طرف لے جانے کا، انکم ٹیکس کولیکشن بڑھانے کا، برآمدات بڑھانے کا روڈ میپ بنائیں اور اس پر سنجیدگی سے عمل کریں، حکومت دفاع کے بجائے فلاح کی طرف فوکس کرے، عوام کے لئے پالیسیز بنیں تو آج بھی ہم خود مختار بننے کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں!

Facebook Comments HS