غربت کی لکیر


آپ نے کبھی غربت دیکھی ہے؟

وہ گہری آنکھوں سے مجھ پہ نظر جماتے ہوئے بولی اور سچی بات تو یہ اس کی نظر غضب کی تھی اور میری نظر اس کے سوال سے زیادہ اس کی نظر پر تھی۔

کوئی جواب نہ پا کر وہ ایک توقف کے بعد بولی
نہیں ناں۔
مجھ پہ گزری ہے۔
اس کے اس جواب کا بھی میری پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس نے ایک گہری سانس لی لیکن اس کی نظریں اب عجیب خالی سی لگ رہی تھیں جیسے کچھ کھو سا گیا ہو۔ اس نے ادھ جلا سگریٹ ایش ٹرے میں رکھ دیا۔

میں اس کی کہانی میں مصنوعی دلچسپی کا اظہار کر رہا تھا کیونکہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا بظاہر اتنی پر آسائش زندگی گزارنے والی ایک خوبصورت اور بلا کی پر اعتماد عورت کا غربت سے کوئی تعلق رہا ہو گا۔ ویسے بھی اس کی کہانی سننے میں مجھے بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی تھی۔ میں تو بس ایک آسودہ خواہش کی تکمیل دل میں لیے فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میری اس سے ملاقات ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔ جہاں ہمارے سیکرٹری صاحب کو بحیثیت چیف گیسٹ بلایا گیا تھا اور انہوں نے اپنی کسی مصروفیت کے سبب سینئر ہونے کے ناتے مجھے بھیج دیا۔ میرے سیمینار ہال میں داخل ہونے پر اس کی پریزینٹیشن چل رہی تھی۔ پر اعتماد لہجے میں انگریزی بولتی بالوں کی جدید تراش خراش اور عمدہ لباس میں ملبوس وہ خاصی دلکش لگ رہی تھی۔ اس جیسی حسین اور پرکشش ذہین عورتیں پہلی نظر میں ہی دل کو بھا جاتی ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر ہم نے موبائل نمبر ایکسچینج کیے۔ اس کے بعد دو چار بعد اس سے فون پر بات چیت ہوئی۔ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتی تھی جو سرکاری محکموں کے ساتھ ڈویلپمنٹ سیکٹر کے پراجیکٹ کر رہی تھی۔ میں نے اسے اپنے دفتر میں کافی کی دعوت دے چکا تھا جسے وہ خوبصورتی سے رد کر چکی تھی۔

آج دفتر میں کوئی خاص کام نہیں تھا تو میں بھی دوپہر ڈھلے ہی یو این ڈی پی کے ایک نئے پراجیکٹ کی ڈسکشن کا بہانہ کر اس سے ملنے چلا آیا۔ یہ بین الاقوامی ادارے بھی کمال ہیں، ہر دو تین سال بعد غربت اور معاشی حالت کے نئے پیمانے لے کر ایک نئی رپورٹ چھاپ دیتے ہیں جس کا چرچا چند روز سرکاری ایوانوں اور گیلریوں میں رہتا ہے۔ باقی کے بچھے کچھے دن یہ رپورٹیں میڈیا کی زینت بنتی ہیں اور پھر یہ پرائیویٹ سیکٹر والے ان رپورٹوں کا پوسٹ مارٹم کر کے پریزینٹیشنوں میں ڈال ڈال کر نئی رپورٹ کے آنے تک یہ چورن بیچتے رہتے ہیں اور نئے پراجیکٹس حاصل کرتے ہیں۔

اس طرح سب کا دھندا چل رہا ہے۔ ہم سرکاری آفیسروں کا بھی، این جی اوز کا بھی اور بین الاقوامی اداروں کا بھی۔ میری پوسٹنگ اس منٹسری میں کچھ ماہ پہلے ہی ہوئی تھی اور یو این ڈی پی کے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے پرائیویٹ فرم کو کنٹریکٹ دینے کی سلیکشن کا عمل چل رہا تھا۔ لیکن ابھی فی الحال یہ کنٹریکٹ کسی بھی کمپنی کو دینے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن پراجیکٹ تو بس بہانہ تھا۔ میں تو اس سے راہ و رسم بڑھا کر اپنا کام چلانا چاہ رہا تھا۔

لیکن اس سے مل کر میرا تجسس بڑھتا جا ریا تھا۔ وہ خاموش نظروں سے اب نیا سگریٹ سلگا چکی تھی۔

آخر میں نے خاموشی کو توڑنے کی غرض سے نئی رپورٹ کے مطابق غربت کی لکیر میں مزید لوگوں کے شامل ہو جانے کی وجوہات کے مختلف انڈیکیٹرز پہ بات شروع کر دی۔

میری بات ختم ہو جانے پر کہنے لگی
نہیں! یہ سب کتابوں میں چھپنے والی باتیں ہیں۔ محض باتیں

اس کے لہجے میں اب دکھ کے ساتھ ساتھ ایک چبھن کا احساس بھی نمایاں تھا۔ میں آپ کو بتاتی ہوں غربت کیا ہے

میں بارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اور میرے لیے گھر میں کبھی کوئی نیا کپڑا نہیں خریدا گیا تھا میں نے یونیورسٹی تک اپنی بڑی بہنوں کی اترن پہنی ہے اور بڑے بھائیوں کی پرانی کتابیں استعمال کی ہیں۔ ہائی سکول کے پانچ سالوں میں میرے پاس ایک ہی سویٹر رہا ہے جو میری ماں نے لنڈے سے سویٹر لا ادھیڑ کر سلائیوں پر بڑی بہن کے لیے بنایا تھا۔ اس کے سکول ختم ہونے کے بعد اس سے چھوٹی دو بہنوں نے وہی سویٹر پہنا اور پھر میں نے بھی پانچ سال وہی استعمال کیا۔

آٹھویں کلاس میں وظیفے کے امتحان میں پہلی پوزیشن آنے پر ماں نے وعدہ کیا کہ میں تمہیں نیا یونیفارم بنا دوں گی۔ نیا یونیفارم میرے لیے ایک قیمتی تحفہ تھا جس کا ذکر میں نے خوشی خوشی میں اپنی کلاس میں سہیلیوں سے کر دیا جس پہ سب نے میرا مذاق اڑایا کہ نیا یونیفارم؟ وہ تو ہر سال بننا ہی ہوتا ہے اس میں خاص کیا ہے؟ تب بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ غربت کیا ہوتی ہے۔

جیسے تیسے یونیورسٹی تک پہنچ گئی تو یونیورسٹی میں داخلے کے بعد گرمیوں کے پانچ مہینے، میں نے ایک سفید دوپٹے اور سفید شلوار کے ساتھ دو لان کی قمیضوں میں گزارے تھے۔ صرف ایک ہی خواب ایک ہی دھن سوار تھی کہ کچھ کرنا ہے تاکہ بڑے بہن بھائیوں پر سے گھر کا خرچہ چلانے کا بوجھ کچھ کم ہو اور ان کی شادیاں ہوں۔ ایسے میں لفظ محبت میرے لیے شجر ممنوعہ تھا۔ کسی نے اظہار کی ناکام کوشش بھی کبھی کی تو آنکھوں کے سامنے خود سے بڑی چھ بہنوں کے چہرے آ گئے جن کی شادیوں کے طویل سفر کے بعد کہیں میرا نمبر تھا اور اس خیال کے آتے ہی میں سارے جذبوں کے سر وہیں کچل دیتی اور اپنی طرف بڑھنے والا ہر قدم سختی سے موڑ دیتی۔ محرومی اور غربت کا احساس تب تب شدت سے ہوا جب ایک ایک کر کے میری ساری کلاس فیلوز اور سہیلیوں کی اچھے گھروں میں شادیاں ہوتی چلی گئیں اور میں ماں باپ کا سہارا بننے کی کوشش میں دفتروں کے دھکے کھاتی، اپنے لیے نوکریاں تلاش کرتی رہی۔

کہاں کہاں اپلائی نہ کیا کس کس جگہ انٹرویو نہ دیا، کیا کیا گھٹیا لوگوں کی بکواس نہ سنی۔ پھر ایک دن مجھے اسلام آباد میں ایک پراجیکٹ میں معمولی سی ایک جاب مل گئی جس سے بمشکل ہوسٹل میں رہنے کا خرچ اور میس چل سکتا تھا۔ پہلی تنخواہ ملنے پر زندگی میں پہلی بار غور سے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا تو احساس ہوا کہ آنکھوں میں خوابوں کے جابجا دیے روشن ہیں۔ کچھ خواب گھر والوں کے لیے تھے اور ایک آدھ اپنے لیے ۔ جسے میں نے بہت خوبصورتی سے ٹال دیا۔

اللہ نے شکل صورت اچھی دی تھی۔ دفتر میں پسندیدگی سے دیکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن مجھے ابھی غربت سے لڑنا تھا۔ ہاسٹل کی لڑکیوں سے دوستی بڑھی تو باہر کی دنیا کے رنگ ڈھنگ دیکھنے کو ملے۔ سجی سنوری ماڈرن لباس پہنے عالیشان گاڑیوں میں آتی جاتی لڑکیاں پریوں کی طرح لگتی تھیں۔ ان کا لائف سٹائل دیکھ کر بس آہ بھر کر رہ جاتی۔ یہیں میری ملاقات شہر کے معروف بزنس مین اور سیاسی لیڈر سے ہوئی اور پھر دو چار ملاقاتوں کے بعد اس نے اپنی تنہا شاموں میں رنگ بھرنے کے عوض میرا سارا خرچا اٹھا لیا۔ اب گھر والوں کو بھیجنے کے بھی ایک معقول رقم کا بندوبست ہو جاتا۔ تین سالوں میں مجھ سے بڑی تین بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ گھر والے میری بہترین نوکری پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور میری ماں سب کو فخر سے میری ذہانت، قابلیت اور کامیابی کے قصے سناتی ہیں

ایک کے بعد ایک شخص میری زندگی میں آتا گیا اور میرے خوابوں کا بوجھ اٹھاتا رہا۔ میں ہر کسی کی طرف شادی کی خواہش دل میں لیے ہاتھ بڑھاتی مگر یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور میں اپنے گھر والوں کی خواہشیں اور خواب پورے کرنے کی اے ٹی ایم مشین بن چکی ہوں۔ میرے گھر والوں کے نزدیک غربت کے دن کٹ چکے ہیں اور اب وہ معاشرے میں عزت دار خاندان کے طور پر جانے جاتے ہیں جو سطح غربت سے کہیں اوپر ہے۔

ایک مہربان دوست کی سفارش سے آج میں ایک بہت بڑی کمپنی میں نوکری کر رہی ہوں لیکن یہ نوکری محض دکھاوا ہے۔ میرا لائف اسٹائل اور خرچے اس سے کہیں بڑھ کر ہیں اور کوئی نہ کوئی خرچے اٹھانے والا مل ہی جاتا ہے۔ جیسے آپ

اس کے ساتھ ہی اس نے ایک غضب ناک قہقہہ لگایا اور میرے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اس کی آنکھوں کے ہلکے ہلکے پانی نے کاجل کی لکیر کو مزید نمایاں اور دلنشیں کر دیا تھا۔ اس کے قہقہے میں بہت دور کہیں چیخ کا گماں ہو رہا تھا جیسے ٹوٹی پھوٹی جھگیوں میں بھوک سے نڈھال بچے پہلی روٹی ہاتھ میں آ جانے پر ایک دوسرے پر جھپٹ کر چیخے ہوں۔

Facebook Comments HS