اک سفر اچھا لگا، اک ہم سفر اچھا لگا
ایک پیلنٹالوجسٹ* ہونے کے ناتے میری زندگی سفروں سے عبارت رہی۔ میں نے اپنے سرتاج کے ساتھ چکوال میں سوال کس پہاڑیوں کے بہت طواف کیے فوسلز کی تلاش میں اور الحمد للہ کامیاب بھی رہی اور ڈاکٹر کہلائی۔
یہ ہمارے پہلے سفر کی روداد ہے۔ سرگودھا سے علی الصبح نکلے اور جھال چکیاں سے پراٹھے دال اور اچار کا مزیدار ناشتہ تناول کر کے دوبارہ عازم سفر ہوئے۔
خوشاب جوہر آباد کے بعد موسم خوشگوار ہونے لگا۔ سون ویلی کا موسم یوں بھی بہت مثالی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ تا حد نگاہ دو رویہ درخت جو دور ایک دوسرے کے ساتھ ملتے دکھائی دیتے تھے بڑا خوبصورت احساس دلا رہے تھے۔ موٹر ویز اور بڑی بڑی سڑکوں پر سفر اچھا لگتا ہے مگر درختوں سے ڈھکی ہوئی بل کھاتی ہوئی ایک ٹھنڈی سڑک پر سفر کی کیا بات ہے جس کا مزا صرف وہی جانتا ہے جو اس تجربے سے گزرا ہو۔
ہماری منزل ڈھوک پٹھان تھی اور مسحورکن سفر میں احساس ہی نا ہوا ہم ڈھوک پٹھان کے موڑ سے آگے نکل گئے۔ دراصل پنجاب یونیورسٹی سے میرے سپروائزر استاد محترم ڈاکٹر محمد اختر، کو سپروائزر ڈاکٹر محمد اکبر اور ساتھی وہاں موجود تھے۔ ہم نے ان کو اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور انہوں نے بتایا کہ بائیں ہاتھ چھوٹی سڑک پر مڑ جائیں اور تھوڑا پیدل چل کے ہمارے پاس پہنچ جائیں مگر ہم اوپر پہنچتے پہنچتے بچے۔
بہت تنگ اور پرانی سی سڑک تھی جسے سڑکڑی کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ دو تین منٹ ہی گاڑی چلی ہو گی کہ آگے سڑک ندارد۔ ہوا میں معلق۔ پیروں تلے سے زمین نکل گئی سڑک کے ساتھ ساتھ۔ وہ جسے کہتے ہیں نا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ سڑک پانی کے بہاؤ سے کٹ پھٹ چکی تھی اور گاڑی بریک لگنے سے جہاں رکی وہ دل دہلا دینے والا منظر تھا۔ گاڑی کے صرف پچھلے ٹائر سڑک پر تھے اگلے ٹائر کے نیچے صرف تھوڑی سی ریت بجری ہی تھی اور نیچے اللہ والی کوئی شے نا تھی۔
بپھرے نالے کا پانی سڑک کی بنیاد بہا کے لے جا چکا تھا اگرچہ خود ابھی بھی وہیں ٹھاٹھیں مارتا اور رہی سہی سڑک سے سر ٹکراتا تھا تاکہ اسے بھی ملیامیٹ کر دے اور اس کٹی پھٹی ملیامیٹ ہوتی سڑک کے اوپر گاڑی میں علم کی متلاشی میں، میرے سرتاج اور پچھلی سیٹ پر ہماری دنیا ہمارا اکلوتا بیٹا عیسی اور ایک ملازم۔ اور ویرانہ دور دور تک۔ نا کوی بندہ نا بشر۔ زیر لب قرآنی آیات اور سورتوں کا ورد کرنے کے علاوہ میں تو کچھ نا کر سکتی تھی سو بھروسے سے اسی میں مصروف تھی۔
سرتاج نے اللہ کا نام لے کے گاڑی کو ریورس کرنا شروع کیا کیونکہ آگے صرف اسی صورت میں جا سکتے تھے اگر وہ پچھلے جنم میں نائٹ رائیڈر کے شاگرد رہے ہوتے یا سلطان گولڈن سے کوی گہرا رشتہ ہوتا۔ ہلکی سی لغزش بھی ہمیں نیچے بپھرے ہوئے نالے میں گرا سکتی تھی کیونکہ سڑک کٹی پھٹی ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد تنگ اور سنگل تھی۔ ان کی مہارت کام آئی اور ایک ایسی نہج پر پہنچے جہاں ملازم مشکل سے دروازہ کھول کے باہر نکلا تاکہ ریورس کرنے میں رہنمائی کر سکے ورنہ گاڑی بلا حیل و حجت نیچے نالے میں لینڈ کر سکتی تھی اور ساتھ ہم بھی۔ مگر اللہ کا شکر ہوا ہم بخیریت کچی پکی زمین پر لینڈ کر گئے۔ (در اصل نئی سڑک تو پیچھے رہ گئی تھی جہاں سے ہم آگے نکل گئے )
اسی اثنا میں میرے سپروائزر کا فون آ گیا کہ بھیٔ کہاں رہ گے؟ اور تب ہمیں اپنے یہاں ہونے کا مقصد یاد آیا اور شکر ہے کہ ہم تھے۔
ان کے بتائے گئے راستے پر چلنا شروع کیا اور دل جو دہلے ہوئے تھے ایک بار پھر راستے کی خوبصورتی میں کھو گئے۔ دور و نزدیک ہریالی ہی ہریالی کاشت شدہ اور خود رو پودوں سے دور سرمیٔ پہاڑ اور نیلا آسمان۔ تنگ پگڈنڈی پر چلتے ہوئے پتے ہمارے جسموں اور منہ سے مس کرتے اور ہریالی کی باس ہمارے نتھنوں سے ہوتی ہوئی پھیپھڑوں تک اترتی۔ پگڈنڈی ختم ہوئی تو آگے ایک اور حسین منظر۔ کم گہرا پانی اور اس کی تہہ میں گول گول پتھر اور اس میں اچھلتی کودتی رنگ برنگ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں۔ جوتے اتارے اور پانی میں سے گزر گئے۔ اسی طرح راستے میں دو تین بار پانی آیا اور آخری موڑ پر دونوں طرف چھوٹی پہاڑیاں نمودار ہوئیں اور جوں ہی ان کو پار کیا تو ہم ایک وادی میں تھے۔ چاروں طرف چھوٹے بڑے پہاڑ اور اوپر جھکا ہوا گہرا نیلا آ سمان اور دوپہر کا کھانا ہمارا منتظر۔
دوپہر کے کھانے کے بعد ڈھوک پٹھان کے پہاڑی سلسلے پر لیکچر ہوا اور فوسلز کی تلاش میں دور تک نکل گئے۔ کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ پہاڑوں سے گھری وادی میں جب شام کے سائے اترنے لگے تو وہاں سے واپسی ہوئی۔
اور یہ ایک مشکل راستہ تھا۔ پہاڑی کے اس پار اترنا تھا اور سانسوں کی زیر و بم پر قابو رکھتے ہوئے اپنے سپروائزر سے معلومات لیتے ہوئے اترنا تھا۔ کچھ احتراماً اور زیادہ اپنی فربہی کی وجہ سے میں سانسوں کو سنبھالتی اپنے استاد محترم سے دو تین قدم پیچھے چلتی تھی۔
(* پیلینٹالوجسٹ اس کو کہتے ہیں جو تہہ دار چٹانوں کے پہاڑی سلسلوں میں دن رات مارا مارا پھرتا ہے اور ہزاروں لاکھوں سال پرانے جانداروں کے دانتوں اور ہڈیوں کے فوسل تلاش کرتا ہے اور بعد ازاں ان پر ریسرچ کرتا ہے )


