عدالت عظمیٰ کی آبادی اور وسائل بارے فکر مندی


لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان جس کا چئیرمیں چیف جسٹس آف پاکستان ہوتا ہے، کی طرف سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جسے مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کانفرنس کا عنوان ہے

Resilient Pakistan: Calibrating Population and Resources

اگراس کو میں اپنی قومی زبان میں بتانے کی کوشش کروں تو میرے نزدیک اسے "ابھرتےپاکستان میں آبادی اور وسائل میں تناسب کا تعین” کہا جاسکتا ہے ۔ ہماری قوم کو خواہ مخواہ ہی تنقید کی عادت لگ گئی ہے بلکہ اگر میں کہوں کہ تنقید کا نشہ لگ گیا ہے تو کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ اب اسے تو ان کی قابلیت سمجھنا چاہیے کہ انصاف سے آگے بڑھ کر سماجی انصاف کو انہوں نے اپنی ترجیح بنالیا ہے۔ انصاف کا بھی اصل مقصد تو سماجی انصاف ہی ہوتا ہے۔ انصاف اور سماجی انصاف میں فرق یہ ہوتا ہے کہ انصاف میں شفافیت اور غیرجانبداری کا تصور ہوتا ہے اور سماجی انصاف وہ منظرنامہ ہے جس طرح سے معاشرے میں انصاف نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس میں صحت کی دیکھ بھال، روزگار، رہائش ، آمدن میں عدم مساوات ، بھوک و افلاس وغیرہ بہت کچھ شامل ہے۔ سماجی انصاف میں انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور امتیازی سلوک کو پنپنے نہیں دیا جاتا۔

اب میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے اس کارنفرنس کا نام اپنی قومی زبان میں نہ رکھ کرسپریم کورٹ کے اردو زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کےفیصلے کی خلاف ورزی کردی ہے کیونکہ یہ تنقید ہوجائے گی جس کی میں شروع میں مخالفت کر چکا ہوں البتہ اگرسپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے نام میں کوئی اردو کا لفظ موجود نہیں تو یہ تو حکومت کی نااہلی ہے کیونکہ اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس نے جس بات پر زور دیا وہ بے روزگاری جیسے ملک کو درپیش مسائل تھالیکن معلوم نہیں پاکستان کی آبادی اور وسائل میں تناسب کے بارے سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کا کیا تصور ہے اور ان کو اپنے ادارے کی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر اس کی فکر کیوں لاحق ہے۔ مجھے تو ان دونوں اداروں کے ملازمیں بشمول ججز اور باقی ملک کی آبادی اور حتیٰ کہ پاکستان کے دوسرے محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں، وضائف اور مراعات میں بھی کوئی مناسب تناسب نظر نہیں آتا اور میری عقل اس معیار کوبھی سمجھنے سے قاصر ہے جس کی بنیاد پر یہ امتیاز ی سلوک جاری ہے۔ ملک کی آبادی (عوام) کی نمائندہ پارلیمان چیخ چیخ کر تھک گئی ہے مگر ان کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی بلکہ وہ اپنی تنخواہیں مزید بڑھاتے جارہے ہیں ۔اگر انہوں نے اپنے کام انصاف کی فراہمی سے آگے بڑھ کر سماجی انصاف کا بیڑا اٹھایا ہے تو کم از کم اپنے قول و فعل میں تضاد تو ختم کردیں۔

اب اسےتنقید نہیں تعریف ہی سمجھ لیجئے گا کہ یہ کانفرنس بھی سپریم کورٹ کی ان ترجیحات میں سے ہی ایک کڑی ہے جس میں سابقہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے آباد ی اورپانی کی سیکورٹی جیسے موضوعات پر منعقد کی گئی کانفرنسز اور پچھلے دس سالوں میں دیا گیا انصاف ہے۔ موصوف ثاقب نثار کے علم اور ان کی ترجیحات کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ پانی کی سیکورٹی کے موضوع پر منعقد کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پانی کے فارمولے H₂O کوایچ ٹو زیرو پڑھا تو ان کی ترجیحات اور اس طرح کے مسائل پرعلم اور معلومات پر دسترس وہیں بے نقاب ہوگئے اور ساتھ ہی بیٹھے ان کے کسی مہربان نے ان کی تصیح کروائی کہ یہ ایچ ٹو زیرہ نہیں ایچ ٹو او ہے ۔ وہ پانی کے فارمولے میں او کو زیرو پڑھ رہے تھے حالانکہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیموں کے پانیوں کی رکھوالی کا اعادہ کیا ہوا تھا لیکن اب سیاسی بندوں کو باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جب ادارے اپنا کام چھوڑ کر دوسرے امور پر توجہ دینا شروع کردیں تو پھر ریاست کا یہی حال ہوتا ہے جو دیکھنے میں آرہا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں جو انصاف مہیا کیا گیا اس سے مستفید ہونے والے خود ہی اس کو بے نقاب کر رہے ہیں جس کی مثال وہ اعترافات ہیں جیسا کہ عمران خان نے بتایا کہ ان کو جسٹس کھوسہ نہ خود پیغام بھیجا کہ معاملہ میرے پاس لائیں میں حل کر دیتا ہوں اور انہوں نے ایسا حل دیا کہ اب تک اس کو پوری قوم بھگت رہی ہے ۔اب ان آبادی کے وسائل کے نام پر ادارے کی ساکھ ، وقت اور وسائل جو ضائع ہورہے ہیں ان کا ذمہ دار کون ہے۔ کانفرنس کے سیشنز کے موضوعات کو دیکھیں تو اس میں ریفریشمنٹ اور ڈنر کے وقفے کے علاوہ تو کچھ بھی سپریم کورٹ یا لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے کام کی چیز نظر نہیں آتی یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ان کو اس طرح کی کانفرنسز پر لگا کر ان کو بے نقاب کیا ہے اور ان لوگوں کی ذہنی استعداد کا یہ حال ہے کہ ان کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوا اور پوری دنیا میں اپنے ادارے اور ملک کا مذاق بنا دیا ہے۔

پوری قوم کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ کسی بھی محکمے میں تعیناتیوں سے قبل ان لوگوں کے نفسیاتی ٹیسٹ کروائے جانے چاہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں اور پھر ان لوگوں کو ان کی ترجیحات کی مطابقت سے تعینات کیا جانا چاہیے۔ اب اس کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے تمام کارفرما ذہنوں کو ڈیپوٹیشن پر متعلقہ محکوموں میں بھیج دینا چاہیے تاکہ وہ وہاں آبادی کے متعلقہ امور پر کام کرکے اپنی دلچسپیوں اور مہارتوں سے ملک کو فائدہ پہنچائیں اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن و سپریم کورٹ میں انصاف سے متعلق ترجیحات رکھنے والے لوگوں کو تعنیات کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ادارے کی حقیقی ذمہ داریوں کو سنبھالیں۔
پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی سب سے بڑی ترجیح انصاف ہونی چاہیے اور انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ شفافیت اور غیرجانبداری کی بنیاد پر برابری کو یقینی بنایا جائے جس میں کسی کے ساتھ کوئی امیتازی سلوک نہ ہو اور اگر انصاف کا ادارہ خود ہی امتیازی سلوک کا سب سے بڑا نشان ہو تو پھر اس طرح کی کانفرنسز کا انعقاد کوئی معنی نہیں رکھتا اور اس کامفہوم آبادی کے اس سے مستفید ہونے کو ادارے پرتنقید کومزید مواد فراہم کرنے سے زیادہ نہیں لیا جاسکتا۔ جس ملک کے اندر شفاف اورغیر جانبدار انصاف مل رہا ہو وہاں باقی معاملات خود بخود ہی بہتری کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

Facebook Comments HS