شعبہ صحت میں اصلاحات کی ضرورت
پاکستان میں جملہ شعبوں میں اصلاحات ضرورت و گنجائش ہے اسی طرح طب کے شعبہ میں بھی انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال کے کسی شعبہ کو دیکھیں نہ ختم ہونے والا رش نظر آئے گا، ایک طرف ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کا فقدان ہے دوسری طرف ڈاکٹرز کی بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ مجبوراً ڈاکٹرز اپنی استعداد سے زیادہ اور عالمی معیار سے کم وقت میں سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کرنے پر مجبور ہیں، سرجنز عالمی معیار سے زیادہ اپریشنز کر رہے ہیں۔ لیبز میں ٹیسٹس کا معاملہ ہو، ایکسرے یا الٹراساونڈ کروانا ہو ہر جگہ رش لگا رہتا ہے، اس کی رش کی وجہ سے مریض کی تشخیص اور تجویز میں کئی مسائل پیش آتے ہیں۔
نظام مجموعی طور پر اپنی استعداد سے زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے جب نئی بھرتی کی بات ہوتی ہے تو گورنمنٹ ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے کہ مزید ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے حکومت کے پاس پیسے نہیں۔ نئے ملازمین کے لیے حکومتوں کے پاس پیسہ نہیں، صحت سے متعلق مختلف شعبوں کے ماہرین بے روزگار پھر رہے ہیں۔ نظام سے بوجھ کم کرنے کے لیے، صحت سے متعلقہ ماہرین کو باروزگار بنانے اور فنڈز پیدا کرنے کے لیے ایسا حل نکالا جاسکتا ہے کہ حکومت کو کوئی اضافی پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، صرف ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے شعبہ صحت میں انقلاب آ جائے تاکہ عوام کو صحت کی وافر سہولیات میسر ہوں۔
اس مقصد کے لیے مجوزہ ماڈل کا خاکہ یہ ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کو ڈبل شفٹ میں فعال کر دیا جائے، پہلی شفٹ جنرل شفٹ ہو جس میں تمام افراد کو علاج کی مفت سہولیات دستیاب ہوں، دوسری شفٹ میں رعایتی (سبسڈائزڈ) فیس لی جائے مثلاً جنرل شفٹ میں معائنہ مفت ہے تو سیکنڈ شفٹ میں معائنہ کے لیے 100، 200 یا 300 فیس مقرر کر دی جائے۔ اسی طرح لیبارٹری اور ریڈیالوجی کے شعبے بھی دو شفٹوں میں کام کریں۔ پہلی شفٹ میں یہ سہولیات سرکاری فیس پر دستیاب ہوں دوسری شفٹ میں سبسڈائزڈ چارجز وصول کیے جائیں۔
اس ماڈل کو نافذ کرنے اور چلانے کے لیے سرمایہ کی ضرورت نہیں کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں مشینری اور نظام موجود ہے بس ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف بھرتی کرنا ہے۔ اس اقدام سے سٹاف کو روزگار ملے گا، ہسپتالوں کی آمدنی بڑھے گی، جو سبسدائزڈ چارجز وصول کیے جائیں گے ان سے سیکنڈ شفٹ کے عملہ کو تنخواہیں دی جاسکیں گی، نظام سے بوجھ کم ہو جائے گا۔ معاشرہ کے وہ طبقات جو صاحب ثروت ہیں ان کے لیے سبسڈائزڈ فیس ادا کرنا کوئی مسئلہ نہیں، علاوہ ازیں جو لوگ سرکاری یا نجی اداروں کے ملازم ہیں اور ان کے لیے مارننگ شفٹ میں ہسپتال جانا اور علاج کروانا آسان نہیں ہوتا وہ بھی دوسری شفٹ کی وجہ سے صحت کی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ماضی قریب میں لاہور کے کچھ ہسپتال ڈبل شفٹ کا تجربہ کرچکے ہیں، ان اصلاحات کے لیے شعبہ صحت کے ماہرین کو چاہیے کہ مفصل سفارشات ارباب اختیار کے سامنے رکھیں تاکہ عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں۔


