سوشل میڈیا سے بدلتے صنفی رجحانات

سوشل میڈیا کے صنفی رویوں میں تبدیلی کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے صنف اور جنس کی وضاحت ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنس عورت اور مرد کی حیاتیاتی تخصیص جبکہ صنف مرد اور عورت کے متعلق معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جنس اور صنف کو بیان کرنے میں مذہبی اور معاشرتی بیانیے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن درحقیقت جنس اور صنف کے متعلق معاشرتی بیانیہ مذہب کی نسبت کہیں زیادہ غالب ہے۔ اس معاشرتی بیانیے میں عورت کو گھر میں محدود کرنا، تعلیم سے پیشہ وارانہ تربیت سے دور رکھنا، اسے مردوں کی نسبت کم سمجھنا، کمزور جاننا، اور بہت سے ایسے اور رویے شامل ہیں جو مذہبی تعلیم سے متضاد ہیں۔
پھر بھی انہیں دینی تعلیم پر ترجیح دی جاتی ہے۔ مذہبی تعلیمات کے مطابق مرد اور عورت مساوی ہیں اور صنفی رویوں کی تقسیم کسی برتری اور کم تر حیثیت کی بجائے مشیت الٰہی کی غمازی کرتی ہے۔ سوشل میڈیا مابعد جدیدیت کے صنفی تصور پر بنیاد رکھتا ہے۔ اس کے تحت صنف انسان کا ذاتی معاملہ ہے جس میں معاشرے کی بجائے زبان کا عمل دخل زیادہ ہے۔ ہماری زبان جنس کے متعلق رویے تعین کرتی ہے اس لئے یہ ہمہ گیر نہیں ہیں۔
سوشل میڈیا کی آمد سے صنف اور جنس کے متعلق مذہبی اور معاشرتی رجحانات دونوں میں تبدیلی آئی ہے۔ سوشل میڈیا مغربی معاشرے کے مطابق جنس اور صنف کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں صنف کے تعین کا اختیار مذہب، معاشرے اور کسی بھی اداریے کی بجائے فرد واحد کو منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے تحت کوئی بھی اپنی صنف مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے اور اسے قانونی تخفظ حاصل ہے۔ چند سال پہلے پاکستانی معاشرے میں ایسا تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔
لیکن اب سرجری کے ذریعے تبدیلی جنس کے بہت سے واقعات سامنے آئے ہیں جس کو میڈیا میں مثبت انداز میں پیش کیا گیا اور ان کو معاشرے میں بھی قبول کر لیا گیا۔ یہ صنفی رجحانات میں تبدیلی کے طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی آمد سے پاکستان میں مردوں اور خواتین کے رویوں میں رسائی، روایتی کردار اور شناخت کے متعلق تبدیلی آئی ہے۔
سوشل میڈیا سے پہلے خواتین اور کسی بھی مرد سے دوستی کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا جو کہ عام حالات میں اب بھی ہے۔ مگر فیس بک (میٹا) ، انسٹا گرام اور دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور ایپ پر خواتین کی فرینڈ لسٹ میں مرد حضرات بھی نظر آتے ہیں۔ جو خواتین کی تصویر کو لائک اور کمنٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار حال احوال بھی پوچھ لیتے۔ ایسے دوستوں کی بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کو وہ اکثر مکمل طور پر جانتی تک بھی نہیں ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین معاشرے کے تمام حصوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں چاہے وہ گھر کے اندر محدود ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا سب سے بڑا اثر پروفائل تصویر کی صورت میں ہے۔ چند سال پہلے کسی لڑکی کی تصویر ایک مشکل امر تھا جو کہ اب بالکل آسان ہوتا جا رہا ہے۔ چہرہ دکھانا ماضی کی طرح معیوب نہیں رہا۔ اسی طرح گفتگو کرنا بھی کوئی مشکل نہیں۔ سب سے بڑھ کر جنس مخالف سے دوستی کرنا رومانی حصار سے باہر آتا جا رہا ہے۔ جو کہ آنے والے سالوں میں مزید تبدیل ہو گا۔
صنف کے متعلق روایتی کردار میں بھی بدل گیا ہے۔ ماضی میں بناؤ سنگھار کرنا صرف خواتین تک محدود تھا۔ اب بہت سے بلاگ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں مردوں کو نئی سٹائل سے متعارف کروایا جا رہا ہے۔ کراچی کے بنائے گئے ایک ویڈیو لاگ میں مردوں کے غیر ضروری بالوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے پربھی بات کی گئی۔ کھانا پکانے کو ہی لیں، ماضی میں مرد کا کھانا بنانا معیوب تصور کیا جاتا ہے اب کھانے بنانے والے مردوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ کس قدر معمول کی بات بن گئی ہے۔
صنفی روایتی کردار کے حوالے سے دیکھا جائے تو خواتین کے ٹیکسی چلانے، ریسٹورنٹ میں کام کرنے اور دیگر ایسے کام کرنے کو ایسی پذیرائی ملی ہے جس سے یہ خیال کرنا مشکل ہے کہ صرف ایک دہائی پہلے ایسا ممکن نہیں تھا۔ صنفی کردار کے متعلق یہ تبدیلی مابعد جدیدیت کے تصور صنف سے عین مطابقت رکھتی ہے جس میں جنس اور صنف انسان خود متعین کرتا ہے۔ فی الحال پاکستان میں ایسا نظر نہیں آ رہا لیکن سوشل میڈیا سے خیالات میں انقلابی تبدیلی آ رہی ہے۔
وہ دن دور نہیں جب شناخت کے متعلق رویوں میں مزید تبدیلی آ جائے گی۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران کوئی بھی فرد کسی بھی صنفی کردار کو اختیار کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے کا مقصد جو بھی ہو یہ بات صاف ہے کہ صنفی شناخت سوشل میڈیا پر حتمی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں تنقیدی سوچ کے فقدان کے باعث سوشل میڈیا سے ابھرتے صنف کے متعلق سوالات کو مدبر انداز میں موضوع بحث نہیں بنایا جا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آنے والے سالوں میں سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے صنفی شناخت کے متعلق معاشرتی رویوں کو مغربی سوجھ بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے الجھن میں اضافہ ہو گا۔
مغربی فکر کو مسائل کا حل سمجھنے والے طبقے کو معاشرتی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھنا ہو گا کہ مغربی معاشرے میں مسائل کا حل کیسے دریافت کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کے بدولت صنفی شناخت کی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ تاریخی حوالے سے گزشتہ بیس سالوں کا مشاہدہ یہی ہے کہ وہ سب کچھ جس کو معاشرتی اقدار کے مخالف سمجھا گیا سوشل میڈیا کی مدد سے بعینہ قبول کر لیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ صنفی رویوں کے متعلق سوشل میڈیا کس قدر انقلاب برپا کر پاتا ہے۔

