بوسنیا کی چشم دید کہانی -42
میں شام چار بجے روم ائرپورٹ پر اترا۔ مجھے اگلی رات 9 بجے تک انکونا پہنچنا تھا جہاں سے ایک بار پھر سمندری سفر کے ذریعے مجھے اپنی منزل کی طرف بڑھنا تھا۔ ائرپورٹ سے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر میں نے اگلے سہ پہر کو انکونا روانہ ہونے والی گاڑی پر اپنی نشست بک کروائی۔ اب شام ڈھلنے کو تھی چنانچہ میں نے اپنے پرانے میزبان کے گھر کی راہ لی۔
13 جنوری کی رات کو انکونا کے ساحل پر سپلٹ جانے کے لیے جاردینا کمپنی کا وہی جہاز ”میرا“ (Meera) اپنے پرانے عملے کے ساتھ لنگر انداز تھا۔ مقررہ وقت پر اس نے ساحل چھوڑ دیا۔ آج مسافروں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ ایک خاتون جس کا نام فاطمہ تھا ان سے تعارف ہوا۔ ترجمان کے فرائض ان کی سولہ سالہ بچی نے ادا کیے۔ وہ زینیسا کی رہنے والی تھیں اور شعبہ تعلیم سے منسلک تھیں۔ بوسنیا کے ہر مسلمان کی طرح دوران جنگ ان کی مدد پر وہ پاکستان کی ازحد شکرگزار تھیں۔
صبح سویرے سپلٹ کے ساحل پر اترنے کے بعد میں نے بس پکڑی اور دوپہر سے پہلے سٹولک پہنچ گیا۔
1997 ء بین الاقوامی پولیس کے ان تمام افسران کے لیے سال وداع تھا جو پچھلے سال یہاں پہنچے تھے۔ مغربی یورپ کے ہمارے ساتھیوں میں جرمنوں اور فرانسیسیوں کا قیام چھ ماہ کے عرصہ پر محیط ہوتا تھا۔ 16 جنوری کو ان دونوں کا مشن اختتام پذیر ہو رہا تھا۔ میرے سٹولک پہنچنے کے صرف ایک دن بعد جرمن اور فرانسیسی افسران کا اختتام مشن تھا۔ جرمن افسروں مائیکل اور ڈورنگ کے ساتھ ہمارے تعلقات زیادہ تر واجبی ہی رہے تھے جبکہ فرانسیسیوں کا معاملہ دوسرا تھا۔
15 جنوری کی شام کو ہم نے فرانسیسیوں کو اپنے گھر الوداعی کھانے پر بلایا۔ پیچھے رہ جانے والے ساتھیوں میں سے کسی کی طرف سے ان کی دعوت کی یہ اکلوتی مثال تھی۔ کھانا مکمل طور پر مشرقی تھا جو انھوں نے مزے لے لے کر کھایا۔ کھانے کے بعد تحائف کا تبادلہ ہوا۔ یہ تحائف سرحد پولیس اور جنڈر میری کے نشانات بازو تھے جو ایک دوسرے کو دیے گئے۔ بین الاقوامی پولیس کا سب سے مقبول تحفہ یہی تھا اور بعض گوروں کو تو یہ نشانات جمع کرنے کا ایسا ہی جنون تھا جیسا بقول کرنل محمد خان، شاہ فاروق کو محل میں صحت مند خواتین جمع کرنے کا۔
گوروں کی کوئی بھی محفل شراب کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔ چچا کے معیار مسلمانی کے مطابق میں اور اقبال دونوں میں سے کوئی بھی آدھا مسلمان نہ تھا اور فرانسیسی بھی اس سے بخوبی آگاہ تھے لہٰذا وہ ”اخپل بندوبست“ (ازخود انتظام) کے ساتھ ہمارے ہاں آئے تھے۔ مے نوشی کے معاملے میں باقی سب نے حسب معمول اعتدال قائم رکھا۔ لیکن فلپ کا معاملہ مختلف رہا۔ وہ سب کے ہمراہ ہم سے رخصت بھی نہ ہوا۔ بہت دیر تک ہمارے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا رہا اور ساتھ ساتھ پیتا بھی رہا۔ بعد میں ہم اسے گھر تک چھوڑنے گئے۔ بس یہ ہماری آخری ملاقات تھی، اس کے بعد سب کچھ یاد رفتگاں ہو گیا۔
سٹولک میں جو نئے فرانسیسی افسران ہمارے پرانے ساتھیوں کے متبادل کے طور پر آئے ان سے بھی ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے لیکن ویسی دل لگی کسی سے نہ رہی جو ژاں ژیک سے تھی، ویسی بے تکلفی کسی سے نہ ہوئی جو لوئی سے تھی اور ویسی دوستی کسی سے نہ رہی جو فلپ سے تھی۔ ان نئے افسران میں چونکہ کوئی بھی ”نیم لفٹین“ سے کم عہدے کا افسر نہ تھا لہٰذا ان کی انگریزی بھی بہتر تھی۔ بل کا حال ہی میں موسطار تبادلہ ہو گیا تھا۔ چنانچہ نئے فرانسیسیوں میں سے سب سے سینئر افسر ژاں فرانسو کو ڈی ایس سی لگا دیا گیا۔
اسٹیشن پر اس فیصلے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا کیوں کہ عام طور پر ایسی صورت حال میں کسی نئے افسر کی نسبت پرانے افسر کو ترجیح دی جاتی تھی۔ دیگر نئے فرانسیسی افسران برونو، ڈینس، جان لیوک اور ڈیڈے تھے۔ برونو کی ساری دل چسپی کا مرکز کتابیں تھیں۔ اس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ اسے ڈیوٹی افسر لگا دیا جائے تا کہ وہ شوق مطالعہ پورا کر سکے۔ اپنے اچھے مطالعے کی وجہ سے اسے پاک و ہند کے تلخ تعلقات اور ان کے پس منظر کی بھی مناسب آگاہی حاصل تھی۔ ڈینس کی دل چسپی پیشہ ورانہ امور میں تھی اور اس نے بہت کم عرصے میں اپنے آپ کو نمایاں بھی کر لیا تھا۔ جان لیوک اور ڈیڈے کے اطوار سے لگتا تھا کہ اگر انھیں اس دستے کے بجائے پچھلے دستے میں شامل کیا جاتا تو وہ اپنی ”صلاحیتوں“ کا مظاہرہ بہتر طور پر کر پاتے۔
فرانسیسیوں کی آمد کے چند ہی دنوں کے بعد تین نئے جرمنوں کی بھی آمد ہوئی۔ یہ آرتھر، ڈیٹر اور باخ تھے۔ ڈیٹر تو مائیکل اور ڈورنگ کی طرح نک چڑھا اور بد دماغ شخص تھا، آرتھر صلح پسند اور حفظ مراتب کا پاس دار تھا جبکہ باخ انتہائی پڑھا لکھا اور قابل پولیس افسر تھا۔ اسٹیشن میں جتنے کم عرصہ میں اس نے اپنے آپ کو نمایاں کیا ایسی مثال پہلے کوئی بھی نہ قائم کر سکا تھا۔ سٹولک میں اس کا قیام کافی مختصر رہا۔ اسے جلد ہی سرائیو میں واقع مرکزی ہیڈ کوارٹر میں تعینات کر دیا گیا۔ سٹولک میں مختصر قیام کے باوجود سرائیوو میں جب بھی اس سے ملاقات ہوئی اس نے ہمیشہ ایسی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا جس میں وضع داروں والا رکھ رکھاؤ شامل ہوتا تھا۔
ادھر سٹولک میں مسلمان تارکین کے گھروں کی تعمیر نو کا کام آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ ازونووچی ( جنگ سے مسلما نوں کا محلہ) میں گشت کے دوران ایک دن میں نے دیکھا کہ تعمیری کام کی غرض سے موسطار سے آنے والے مسلمانوں میں سے ایک شخص ایک دیوار کے سائے میں بیٹھا بڑے مزے سے سگریٹ پی رہا ہے۔ میں اس کے قریب گیا اور کہا
تم اچھے مسلمان ہو کہ رمضان کا بھی کچھ خیال نہیں۔
میں کہاں کا مسلمان ہوں۔ مجھے تو سرب اور کروایٹ مسلمان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ بولا
31 جنوری کو ان تعمیر کردہ گھروں میں آبادکاری کے پہلے مرحلے کے طور پر 9 مسلمان خاندانوں کی آبادکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ ان خاندانوں کو ایک جلوس کی شکل میں موسطار سے سٹولک لایا گیا۔ جلوس میں مہاجرین سے کہیں زیادہ یو این کے مختلف اداروں سے منسلک اہل کاروں کی تعداد شامل تھی۔ اس میں زیادہ نمایاں یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز اور بین الاقوامی پولیس (آئی پی ٹی ایف) کے اعلیٰ عہدے دار تھے۔ یہ جنج نما قافلہ جونہی موسطار سے آنے والی سڑک سے شہر کے مرکزی حصے کی طرف مڑا تو سامنے بریگاوا کے پل پر سٹولک کی تقریباً پوری آبادی سراپا احتجاج بنی کھڑی تھی۔
وہ سٹولک میں مسلمانوں کی آبادکاری کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ مقامی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس ہجوم کی طرف سے قافلے پر گندے انڈے برسائے جانے لگے۔ ریجنل کمانڈر فرینک سرور کی حالت دیدنی تھی۔ مقامی پولیس کا سربراہ اور اس کا نائب دونوں سرکاری مصروفیات کے بہانے سٹولک سے غائب تھے۔ موقعہ پر موجود سینئر افسران نے مظاہرین کے خلاف کسی کارروائی کو غیر دانش مندانہ قرار دیتے ہوئے آئی پی ٹی ایف سے تعاون کے حوالے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ صورت حال کچھ ایسی ہو گئی کہ قافلے کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ رہا۔ لہٰذا دونوں گروہ کوئی دو گھنٹے تک پل کے آر پار ایک دوسرے کا سامنا کرنے کے بعد باری باری پیچھے ہٹ گئے۔ اس سلسلے میں پہل یقینی طور پر قافلے کی طرف سے کی گئی تھی۔
اس واقعے کی یاد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے کئی ادوار آنے والے مہینوں میں جاری رہے لیکن ہمارے مشن کے اختتام تک مسلمانوں کی سٹولک میں آبادکاری کی کوئی صورت نہ بن پائی۔ سٹولک جو کبھی بوسنیا کے قدیم ترین مسلم اکثریتی قصبوں میں سے ایک تھا آج وہاں پانچ صدیوں پر محیط تہذیب کے صرف دو آثار ہی محفوظ تھے۔ یہ وہ قبرستان تھے جو دریائے بریگاوا کے کنارے بیگووینہ محل اور پووگرادا ( پرانے شہر ) کے سامنے اپنے مکینوں کے پیشوں یا سماجی مقام کو ظاہر کرتے کتبوں کے ساتھ آج بھی سلامت تھے۔
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل صفا کے ہیں، یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں۔


