صابر ظفر کے زرد غزال
سر قفس چلے یوں ماتمی ہوا جیسے
بلوچ ماؤں کے بیٹے ہوں لاپتا جیسے
شہزاد ناصر کے ہمراہ اسلام آباد آرٹس کونسل میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا کہ یک دم کچھ غزالوں کے جھرمٹ میں صابر ظفر نظر آئے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں ان کے 1996 ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے لکھے نغمے ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ کا اس قدر چاہنے والا ہوں کہ یہ نغمہ سنتے ہی میرے اعصاب ہمت و حوصلے کے ساتھ کچھ کرنے کی لگن میں آسمان کو چھونے لگتے ہیں، مجھے کبھی کسی موٹیویشنل سپیکر کو نہیں سننا پڑتا، بس یہ نغمہ لگاتا ہوں اور شاد باد ہو جاتا ہوں، ساری مایوسی اور بے ہمتی ہوا ہو جاتی ہے۔
پھر کافی عرصہ سے یہ خواہش بھی ہو چلی تھی کہ اپنے پسندیدہ نغمہ نگار سے تو ضرور ملنا ہے سو انھیں یوں اچانک دیکھتے ہی خوشی اور جذبات سے بے قابو ہو جانا فطری عمل تھا مگر ایک غیر فطری عمل یہ ہوا کہ اسی سرشاری میں ان کا نام دماغ سے محو ہو گیا، بڑی خجالت ہوئی، فیس بک پر بھی ان کا نام نہ ڈھونڈ سکا، خیر سوچا موقع ہاتھ سے نکل جائے اس سے پہلے ان سے معانقہ کر لوں۔ جب ان کی جانب بڑھا تو حیرت کا ایک اور دھچکا میرے اوسان خطا کرنے کو کافی ہوا۔
صابر ظفر صاحب مجھے دیکھ کر بانہیں پھیلا چکے تھے اور تو اور مجھے میرے نام سے مخاطب کر کے خوش آمدید کہنے لگے۔ یوں سمجھیے کہ یہ لمحہ میری زندگی کے چند یادگار ترین لمحوں میں سے ایک تھا اور اپنے پسندیدہ نغمہ نگار سے محبت کی ایک اور سیڑھی چڑھنے میں معاون ثابت ہوا۔ اس کے باوجود مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ راہ و رسم آگے بھی چلے گی۔
ایک اجلی خوشگوار صبح صابر ظفر صاحب نے مراسلہ بھیجا کہ میاں اپنا اتا پتہ بھیجو کہ اپنی انچاسویں کتاب ”دو زرد غزال دوپہر کے“ بھجوانی ہے۔ میں شرم سے پانی پانی ہوا اور کہا کہ حضور میں یہ کتاب خرید کر پڑھوں گا تو گویا ہوئے کہ 48 کتابیں اور بھی لکھی ہیں، ان میں سے کوئی خرید لینا یہ تو تحفہ ہے، مفت میں بھیجوں گا۔ ساتھ اپنے آٹوگراف بھی عطا کیے۔ ممنون محبت ٹھہرا۔ دو غزلہ کے تجربات سے بھرپور یہ نئی کتاب دور حاضر کی شاعری میں نئے خیال و مضامین متعارف کروانے والی ایک شاہکار ہے۔ مجھے پوری کتاب کا ایک ہی نشست میں مطالعہ کرنے میں گویا تین گھنٹے لگے مگر ان تین گھنٹوں کی طلب میں قریباً ڈیڑھ ماہ کا کشٹ کاٹنا پڑا۔
شاعری پر تبصرہ کرنا بہت ساری دوسری نعمتوں کی طرح احقر کی اوقات میں شامل نہیں کیا گیا جیسے اگلے دن میلان کنڈیرا جنت نشیں ہوئے تو میرا بڑا دل چاہا کہ میں اس مرد حر کی نقل مکانی کا جشن مناؤں کہ بھئی ہم اس کے دور میں کئی سال جیے مگر ایسا میری بساط میں نہ تھا۔ کاش میں اس کے زندہ ہوتے اسے سمجھ سکتا، اسے پڑھ سکتا۔ اسی طرح صابر ظفر کے دو غزلہ کی کتاب پڑھنا، سمجھنا، ہضم کرنا اور پھر اس پر تبصرہ کرنا بڑا جاں گسل ثابت ہوا۔ ابھی بھی یہ تبصرہ نہیں خلاصہ کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔
”آنکھیں، ہجر، بدن، وصال، پیرہن، عریانی، عشق، خلوت، جنوں، خیال، رت جگا، آہ و بکا، دعائیں، شجر، جنگل، دشت، نقش کف پا، دعائیں اور خوف خدا“ وہ مضامین ہیں جو ان دو غزلوں میں جا بجا باندھے گئے ہیں۔ یوں کہیے کہ میں نے ان مضامین کو پوری کتاب سے کشید کیا ہے اور ان مضامین کی آڑ میں شاعر نے سماجی زندگی اور انسانی اوصاف کے بندھن کا خوب ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ بعض اوقات تو تحیر اس قدر طاری ہوتا ہے کہ قاری ایسے گم صم ہو جاتا ہے کہ جیسے وہ خود ایک جگہ کہتے ہیں کہ:
جہاں دیکھا اسے کھویا ہوا دیکھا
کہ گم ہونے سے بھی وہ پیشتر گم تھا
اور
جو گم ہوتے ہیں اکثر مل بھی جاتے ہیں
مگر دیکھو کہ کوئی کس قدر گم تھا
چلے تھے ساتھ، گرج برس، گھوم تانا، دل نہیں لگ رہا، جانے تو، جھولے لعل، لعل میری پت اور نجانے کتنے ہی دوسرے شاندار گیتوں کے علاوہ میری ذات ذرہ بے نشاں اور ہم کہاں کے سچے تھے جیسے بلاک بسٹر ڈراموں کے او ایس ٹی لکھنے والے صابر ظفر، جنھیں نازیہ حسن، زوہیب حسن، سجاد علی، علی عظمت اور راحت فتح علی خان جیسے کئی دوسرے نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی، نے دو غزلہ کے ان تجربات میں اپنی تہتر سالہ زندگی کا نچوڑ نکال رکھا ہے۔ ان کی یہ شاعری پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ جذبات جو انسانی خصلت اور خمیر کی بنیاد ہیں، صابر ظفر کی زندگی اور ما فی الضمیر میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ 2002 ء اور 2009 ء میں انھیں بہترین گیت نگار کے ایوارڈز سے نوازا گیا جب کہ 2010 ء میں صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز عطا کر کے اس تمغہ کی شان بڑھائی۔
کہوٹہ کے سرسبز و شاداب پہاڑیوں کی شادابی، شگفتگی اور ترو تازگی ان کے مزاج کا خاصہ ہے۔ اس کتاب میں شامل غزلوں کے مطالعے سے آپ کو ایک پل ایسا محسوس نہیں ہو گا کہ آپ کسی ایسے شاعر کو پڑھ رہے ہیں جو آپ کے لیے لکھنے کی بجائے اپنے خود ساختہ نظریات کا اسیر ہے۔ ان دو اشعار میں دیکھیے کہ وہ کیسے ایک نوزائیدہ اور معصوم عاشق کی طرح اظہار خیال کرتے ہیں کہ:
کسی پل بے اثر ہو کر، کسی پل بے صدا ہو کر
بہت سے لفظ کھو جاتے ہیں ہونٹوں سے ادا ہو کر
زیادہ دن زیادہ دور ہم سے رہ نہ پائے گا
چلا آئے گا اک دن دیکھنا وہ غم زدہ ہو کر
اور یہیں اسی دو غزلے کے پہلے حصے میں کہتے ہیں کہ:
اگر توفیق مل جائے کسی کی سرپرستی کی
رہو سر پر کسی کے ابر بن کر یا ردا ہو کر
دو غزلوں میں کئی جہان اور ان کئی جہانوں میں کئی جہات آباد ہیں جن کے مکیں صابر ظفر تو ہیں ہی مگر وہ اپنے ساتھ اپنے قارئین کو بھی ہم سفر بناتے ہیں۔
سنوارتا ہوں زمیں، رہ گزر بناتا ہوں
سفر کروں نہ کروں، ہم سفر بناتا ہوں
خیال آنے نہیں دیتا اس کو منزل کا
سفر کے واسطے جو ہم سفر بناتا ہوں
”آواز کے رنگ“ اور ”زرد غزال“ ایسی کئی دوسری شاندار تراکیب، ”کربلا میں حرملہ“ جیسی انوکھی تلمیحات اور صنعت حسن تعلیل و حسن تکرار اور صنعت تضاد کے جا بجا نمونوں نے ان غزلوں کو ایسا مزین کر رکھا ہے کہ قاری ان کی گرفت میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ:
تم ان کو بھلا نہیں سکو گے
وہ شعر جو یاد ہیں ظفر کے
ایک غزل سے چار اشعار بطور انتخاب پیش کرنے سے خود کو باز نہیں رکھ پا رہا سو دیکھیے کہ:
نجانے کب یہ خلوت کا خلا زرخیز ہو گا
ملیں گے اور چلنا دھڑکنوں کا تیز ہو گا
سنو تم بھی کہ ہم تو یہ ازل سے سن رہے ہیں
خمار عشق ہو گا تو نشاط انگیز ہو گا
گزر جائیں گے ہم دامن دریدہ اس گلی سے
ہمارا بھی جنوں اک دن قیامت خیز ہو گا
جہاں شور رقیباں صورت شور سگاں ہے
وہاں صابر ظفر ہو گا تو کم آمیز ہو گا
اور یہ اشعار دیکھیے گا کہ کس قدر خوبصورت اور دلگیر احساس سموئے ہوئے ہیں کہ:
کوئی تصویر پانی کی بنائیں
اسی تصویر میں پھر ڈوب جائیں
اگرچہ دل تو کب کے مل چکے ہیں
مگر ملنے نہیں دیتی انائیں
محبت جرم ہم دونوں کا یکساں
نجانے مختلف کیوں ہیں سزائیں
ظفر یہ ابتدا میں سوچنا تھا
کہاں لے جائیں گی یہ انتہائیں
آواز جیسے منفرد ردیف کے ساتھ ایک اور منفرد غزل سے کچھ اشعار ہیں کہ:
کتنی لہروں نے بڑھ کے چوم لیا
اس نے پانی پہ جب دھری آواز
ہوئی آواز بھی شریک وصال
یعنی آواز میں ملی آواز
اتنا غافل ہوں خود سے میں کہ لگے
اپنی آواز، اجنبی آواز
سننا چاہیں تو سن بھی سکتے ہیں
راکھ اندر بجھی ہوئی آواز
اور آخر میں ان کے وہ دو اشعار پیش خدمت ہیں کہ جنھیں پڑھ کر چراغوں میں روشنی نہ رہی کہ:
گزرا ہوں بار بار بیابان صبر سے
آتا رہا خیال مگر تیرا بار بار
بس تھی وہی ہماری ملاقات آخری
دونوں ہی ہم خموش تھے دونوں ہی اشکبار


