تنظیمی رومانس سے باہر آئیں حقیقت پسند بنے
جب تک ہم سماجی علوم پر دسترس حاصل نہیں کریں گے اور صرف تصوراتی سوچوں میں کھوئے رہے گے۔ ہم کسی سطح کی کامیابی حاصل نہیں کر پائے گے ذاتی اور نہ ہی سیاسی یا معاشی۔ اگر ہم وطن کی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر سب سے پہلے اپنی ذات کا گلہ دبا دو پھر عمیق گہرائیوں سے سماجی علوم، فلسفہ اور تاریخ کا علم حاصل کرو۔ اپنے ہر عمل کو خود احتسابی سے گزارو۔ چاہے ذاتی ہے یا سیاسی، 22 اکتوبر 1947 سے آج تک کے ہر سیاسی عمل کو اس بنیاد پر پرکھے کہ اس عمل سے ریاست جموں کشمیر کے عوام کو کتنا فائدہ پہنچا اور غاصبوں کا کتنا نقصان ہوا۔ اگر ہم 75 سالہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے تقریباً تمام سیاسی عمل کنٹرول تھا۔ جو کنٹرول نہیں تھا وہ علم کی کمی کی وجہ سے جذباتی تھا۔ جو مہم جوئی کے زمرے میں آتا ہے۔ جس کا سو فیصد فائدہ غاصبوں کو ہوتا رہا۔ مختلف تنظیموں اور پارٹیوں کی جدوجہد سے انکار نہیں کیونکہ ہم ان کا تسلسل ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ ابھی تک کوئی سیاسی تنظیم یا پارٹی آزادی کے واضح راستے کا تعین کیوں نہیں کر سکی۔ ہم ماضی کے ہر سیاسی عمل کو غاصبوں کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں اور سیاسی انقلابی قیادت اپنے نوجوانوں کو کوئی واضح نصاب پڑھانے کے بجائے صرف جذبات ہی ابھار رہی ہے۔ ہم اس خطہ کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم ہیں، ہماری قربانیاں فلاں سے زیادہ ہیں، فلاں فلاں کا ایجنٹ ہے۔ لیکن جب نوجوان سوال اٹھائے کہ ہماری اچیومنٹ کیا ہے؟ ہم غاصبوں سے آزادی کیسے لے گے؟ تو خاموشی۔
اگر کوئی تنظیم یا پارٹی بڑی ہے یا چھوٹی، پرانی ہے یا نئی اگر وہ تاریخ کی درست سمتوں میں اپنے لوگوں کو ان کے گلی محلہ کے مسائل سے لے کر قومی و بین الاقوامی معاشی سطح کے مسائل اور ان کا حل بتا رہی ہے۔ تو لوگ اس سے جڑ جائیں گے اور وہ کامیاب ہو گی۔ اگر کوئی تنظیم یا پارٹی جتنی مرضی بڑی ہو، جتنی پرانی تاریخ رکھتی ہو اگر وہ تاریخ کی درست سمتوں میں لوکل سطح کے مسائل کا حل اور پھر قومی و بین الاقوامی معاشی حل پیش نہیں کر رہی تو یہ طے ہے کہ وہ تاریخ کا حصہ تو ہو گی لیکن مستقبل میں وہ موجود نہیں ہو گی۔ یہاں پر واضح کرنا چاہتا ہوں مادیت کی روح سے نظریات، افکار اور درست عمل اہم ہے۔ جب کہ پارٹیاں اور تنظیمیں نظریات، افکار اور درست عمل کے تابع ہیں۔
نوجوانوں سے اپیل کرو گا کہ وہ مختلف تنظیموں کے رومانس سے باہر آئیں پہلے اس بات کی صداقت تک اپنی رسائی یقینی بنائیں کہ اس دنیا میں کتنے سیاسی نظریات ہیں اور وہ کن نظریات میں اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود دیکھ رہا ہے۔ پھر ان نظریات کا پرچار کرے۔ پھر دیکھے کہ کیا ان نظریات میں ریاست جموں کشمیر کی تمام قومیتوں کی وحدت ممکن ہے؟ کیا ان پر عمل پیرا ہو کر تاریخ کی درست سمتوں میں سماجی تاریخ کے سفر کو جاری رکھا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں تو پھر ان نظریات کی بنیاد پر ریاستی ثقافتی بالادستی کو نظریاتی و انقلابی ثقافتی بالادستی سے شکست دینے کا عمل شروع کیا جائے یقین محکم سے کہتا ہوں کامیابی ہو گی۔
میرے نزدیک ایسا تاریخی مادیت کو سمجھ کر پھر اس بنیاد پر ریاست جموں کشمیر کی قومیتوں کے قومی و طبقاتی تضادات کو سمجھا جائے۔ مادیت کی بنیاد پر ان کا حل تلاش کیا جائے یہی حل ہے۔ اگر ہم خواہشات کی تکمیل اور جذباتی و رومانوی نعرے لگانا چاہتے ہیں تو وہ 60 کی دہائی سے لگ رہے ہیں، لگاتے رہے اور اپنے آپ کو مطمئن کرتے رہے کہ ہم نے بڑی جدوجہد کی ہے۔ دوستو! آزادیاں شعور سے کشید ہوتی ہیں آؤ اس میں گہرائی لائیں اور سب کو برداشت کریں، اس حقیقت کو تسلیم کریں، ابھی کچھ حاصل نہیں ہوا اور پانے کو بہت کچھ باقی ہے۔
.


