حسین کوٹ کی رات



نصف شب کے چاند نے حسین کوٹ میں ہمارا استقبال کیا۔ ایک خاموش اور ساکن رات۔ جنگل میں درختوں پر اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے۔ ہوا میں میٹھی سی خنکی اور پیڑوں کی مدھم خوشبو کی حکمرانی تھی۔ خاموشی نے اپنی چادر پھیلا رکھی تھی۔ جسے کیڑے مکوڑوں کی سرسراہٹ اور جھینگر کی آوازیں اور پراسرار بنا رہی تھی۔

گرمی اور کام کی تھکاؤٹ سے بوجھل دل اور جسم اس فضا میں گویا ان لمحوں کو اپنے اندر جذب کرنا چاہتے تھے۔

راولا کوٹ شہر سے ذرا سی دوری پر اور لاہور سے 9 گھنٹے کی مسافت پر حسین کوٹ کا یہ گاؤں اس وقت ایک گوشہ عافیت معلوم ہو رہا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد زمین پر سونا میسر آیا تو ماں کی گود میں سونے جیسا لگا۔ سکون آور دوائی کے بغیر ایک عرصے بعد گہری نیند آئی۔

صبح باہر نکل کر جنگل کی جانب دیکھا تو دل گویا ساکت ہو گیا۔ جنگل کا ایک ٹکڑا عمودی ڈھلوان پر اپنا گہرا سبز رنگ پھیلائے جیسے ہمارا ہی منتظر تھا پرندوں کی آوازیں اور چہل پہل اس روشن صبح کی رونق بڑھا رہی تھیں۔ کتنی زیادہ اور کس قدر متنوع آوازیں ہیں، کیسی ترتیب جیسی بے ترتیبی ہے۔ گویا آرکسٹرا بج رہا ہے۔

میرے ذہن میں مصری اور ہسپانوی موسیقی کا Fusion اور شیخ احمد طونی کی آوازیں گونجنے لگی ہیں۔ احمد شجریان کی رومی کی گلوکاری یاد آنے لگی۔ بیج بیج میں ’جھولے لال‘ کی تان پڑتی تھی لیکن ٹھہرو ’ذرا ٹھہرو! ان آوازوں اور اس تال میل کو تبدیل کرنے کے لئے ہی تو یہاں آئے ہیں۔ کوئی نئی آواز سننے اور کوئی نیا نغمہ تلاش کرنے‘ کسی نئی فریکونسی کے ساتھ مل جانے کے لئے۔

آواز اور نغمے کی تلاش کا سفر آخرکار شروع ہوا۔

درختوں سے ملاقات اور پرندوں سے مکالمہ

”یہ بن کھوڑ ہے اور وہ داخوں کا درخت“

کائل سے تو پہلے سے ہی تعارف ہے۔ خوبانی اور سیب کے درختوں کے جھنڈ سامنے تھے۔ سفیدہ بھی ایک شان سے کھڑا تھا۔ ”اس کیکر نے زمین کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سفیدے نے یہاں کا سارا پانی چوس لیا ہے لیکن لوگوں نے اس سے خوب پیسے کمائے“ ۔ اس پہاڑی قصبے میں پیسے کمانے کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک ملازمت، فوج میں نوکری، چھوٹی موٹی دکانداری اور کلرکی۔

” یہ لڑکا کو ہمارے گھر کام کرتا ہے اور آج قربانی کی وجہ سے صبح پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک کام کرے گا۔ جھنگ سے آیا ہے۔ پورے چودہ ہزار لیتا ہے۔ لیکن اپنے پاس ایک روپیہ نہیں رکھتا۔ سب پچھلوں کو بھیج دیتا ہے۔ اس کے چار اور بھائی ہیں۔ مل کر ساٹھ ستر ہزار بنا لیتے ہیں۔ آیا تو بازار میں مزدوری کے لئے تھا لیکن بارہ سے چودہ گھنٹے کی سخت مشقت ’دن میں ایک بار چائے رس اور ایک وقت کا کھانا اور ہر صبح دوبارہ سات بجے کام پر حاضری۔ پھر کئی کئی دن کام بھی نہیں ملتا۔ یہاں اس کی پوری تنخواہ بچ جاتی ہے‘ ۔

جھنگ کے سپوت کو عید مبارک!

پرندوں کی جانب چلتے ہیں۔ آج صبح سے بارش جاری تھی۔ رات بھر اہوا سرد رہی اور ہلکی پھلکی بارش بھی۔ پرندے کہیں چھپ گئے تھے۔ Flamenco سے صبح کا آغاز کیا۔ چائے پی اور سگریٹ کا ڈبہ کھولا۔ اب کہیں سورج کی چھب نظر آئی، اور اب پھر غائب۔ صبح سفید ہے لیکن کرنیں پتوں پر کہیں کہیں چمک رہی تھی۔ لیں جی گٹاری اور چڑیوں نے بولنا شروع کیا۔

می رقصم اور الن فقیر

”جب پھول کھلیں گے تو میں اپنے محبوب سے ملوں گا“ ۔ الن فقیر کی آواز میرے موبائل سے نکل کر درختوں میں جذب ہو رہی تھی۔ آج ایک پر سکون صبح کا آغاز ہے اور پرندوں کی آوازوں کی بہتات، چڑیاں، جھینگر، گٹاریاں اور کئی اجنبی لیکن خوب صورت آوازوں نے پہاڑ پر حکمرانی جمائی ہوئی ہے۔ پتوں سے کھیلتی ہوئی ہوا ’سفید اور ملگجے بادل اور آسمانی رنگ کا آسمان۔

کل سکون آور دوائی نے صبح غارت کر دی اور بیٹھنے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ساری صبح گم سم لوگوں اور چیزوں سے ٹکراتے ہوئے گزری۔ چائے کے ڈھیروں کپ پینے سے کچھ غبار دھلا۔ چیروٹی کے قصبے کی جانب سفر تھا۔ جہاں نصرت کے ننیھال اپنا گھر اور گھر میں رکھی ہوئی چیزوں کو فرش راہ کیے بیٹھے تھے۔ یونانی اور ہسپانوی نقوش لئے نوجوان، کرکٹ جن کا اوڑھنا بچھونا ہے اور پی ایس ایل کھیلنا ایک خواب۔ انھوں نے اپنی ویڈیوز دکھائیں۔ تو حیرت ہوئی کہ ٹیم میں جانے کے لئے اور کیا چاہیے۔

حاصل سفر سردار صدیق صاحب سے ملاقات تھی۔ اسی برس کی عمر میں پہاڑوں پر ڈیڑھ سو کلو میٹر گاڑی چلا کر آئے تھے۔ دیکھنے میں یورپین اور گفتگو ایسے پر تکلف آداب کہ دیکھتے رہ جائیں کہ سد ہن قبیلے کے یہ بزرگ اپنے پہاڑی لب لہجے کیسی عمدہ گفتگو کرتے ہیں۔

احمد شاہ درانی، جموں وال قبیلے کی درانی شاخ، شاہ ہمدان کی شوگر میں تعمیر کردہ امبوریق مسجد، مقبوضہ کشمیر کے روایتی فن تعمیر اور شمالی علاقہ جات بشمول کشمیر کے وسطی ایشیائی کلچر سے جڑت۔ بات چلتی رہی، سگریٹوں کا دھواں اڑتا رہا۔

” میں نے اپنی سوانح عمری مکمل کرلی ہے۔ اس کا نام“ می رقصم ”رکھوں گا۔ میری تو گویا نازک رگ کو چھیڑ دیا۔

کہیں پڑھا تھا کہ سائنس دان زندگی بھر صرف رقص کرتا ہے۔ وہ اپنے خیالات اور تجربات کو لیبارٹری اور وقت کی بھٹی میں ڈال دیتا ہے۔ اور انتظار کرتا رہتا ہے۔ اور انتظار کرنے کا رقص کرتے رہنے سے بہتر طریقہ کیا ہو گا۔ وقت نے تجربے کو کندن بنا دیا تو قسمت جاگ جاتی ہے ورنہ خاک کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ خاک مقدر ہو تو دوبارہ بھٹی سلگاؤ اور دوبارہ رقص شروع۔

زندگی شاید رقص کرنے کا ہی دوسرا نام ہے۔ خود ناچتے رہیں ورنہ وقت تو تگنی کا ناچ نچاتا ہے۔
’کیوں صدا آ رہی ہے چھنن چھنن‘
شام رات سے گلے مل رہی تھی جب واپس حسین کوٹ پہنچے۔

مجھے دریائے پونچھ کے پانی سے غسل دینا

خوبانی کے درخت اور پھولوں سے لدے ہوئے انار کے پودے، کائل میں گھرے اس خوب صورت مکان کی گویا نگرانی کر رہے ہیں اور آتے جاتے کو مسکرا کر دیکھتے ہیں۔

کیپٹن حسین شہید کے مزار کو جاتی ہوئی سڑک سے ذرا ہٹیں تو گاؤں کا یہ حصہ سامنے آتا ہے۔ کرسی پر بیٹھنے ایک باہمت شخص کی لڑکھڑاتی ہوئی آواز، جس کے پھیپھڑے کرونا نے نصف کر دیے ہیں۔ لیکن آنکھوں میں چمک اور آواز سے عزم جھلکتا ہے۔

دن کی یادگار ڈاکٹر صغیر خان سے ملاقات تھی۔ چودہ کتابوں کے مصنف، پہاڑی زبان کے محقق، مترجم اور شاعر، فرش نشین شخصیت۔ بات بات پران کی آنکھیں گیلی ہوجاتی تھیں۔ ان کے ساتھ قمر رحیم بھی ملے۔ جنھوں نے کرشن چندر کے افسانوں کا پہاڑی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ دیسی سبزی، کڑھی اور مکئی کے پراٹھوں کے ساتھ چٹنی اور دہی نے کھانے کا لطف دوبالا کر دیا۔ قمر صاحب نے اس پونچھی عورت کی کہانی سنائی جو تقسیم کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ ہاڑی گیل میں آباد ہوئی اور بیاہ کر راولاکوٹ آئی۔ مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے دریائے پونچھ سے غسل دینا۔

شام حسین کوٹ کی پہاڑی سڑک پر درختوں سے باتیں کرتے، پرندوں کو ڈھونڈتے اور LEO Twins بینڈ کی دھنیں سنتے ہوئے گزری۔ آج الوداعی شام ہے۔ یہ چار دن کبھی نہیں بھولیں گے۔ بہادر شاہ ظفر نے شاہد ایسے ہی چار دنوں کی عمر دراز مانگی تھی۔

چوں بگوید نازنین من مبارکباد عید
جان شکریزی کند، دیدہ گلاب افشاں بود۔ ( امیر خسرو )

Facebook Comments HS