کچھ ذکر اپنے شہر مظفر آباد کا

اس شہر کو یاد کرنے کے کتنے ہی حوالے ہیں۔ لڑکپن میں گزرے ہوئے دن، نوجوانی میں گزرا ہوا تقریباً ایک عشرہ، ملازمت میں ملنے والے لوگوں کی شکلیں اور پھر شعر و ادب کے حوالے سے ملنے والے یاران بے مثل۔ سب سے پرانی یاد شاید ان دنوں کی ہے جب ہم ایک پہاڑی قصبے میں رہتے تھے اور سردیوں میں کانپتے، برف سے بھاگتے اس نسبتاً کم سرد شہر میں چلے آتے تھے۔ تب شہر میں اکا دکا

Read more

حاجی بھائی پانی والا۔ ایک تاثر

تقریباً چھبیس ستائیس برس قبل جب ساقی فاروقی صاحب نے اپنی نظم ’حاجی بھائی پانی والا ”ہمارے دوستوں یامین، الیاس ملک اور زکریا شاذ کو لندن سے بذریعہ ڈاک ارسال کی تو یہ ابھی احمد ندیم قاسمی صاحب کے جریدے“ فنون ”میں نہیں چھپی تھی۔ اس ارسالگی کی وجہ ہمارے ان دوستوں کا ساقیؔ صاحب سے وہ تعلق تھا جو ان لوگوں نے برسوں کی خط و کتابت اور لاہور میں کشور ناہید صاحبہ کے گھر ساقی صاحب سے ایک

Read more

کابل کے بازاروں پر ایک نظر

کابل کے تاریخی ورثے کا ذکر تو ہو گیا اس کے بازاروں اور عام زندگی کا بیان ابھی باقی ہے۔ وہ تمام افراتفری، انتشار اور بے ترتیبی جو پہلی چار دہائیوں میں اس شہر میں رہی، اس کے اثرات جابجا نظر آتے ہیں۔ شہر اس خلفشار سے نکلنے کی کوششوں میں ہے لیکن عالمی پابندیاں اور معاشی دشواریاں راہ میں حائل ہیں۔ افغانستان کو صرف امداد مل رہی ہے۔ چین اور روس کی دلچسپی اور سرمایہ کاری موجود ہے لیکن

Read more

بالا حصار کے حصار میں

کابل میں اگلے دو دن بڑے ہی مصروف گزرے۔ مشین خانہ پراجیکٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ سوویت دور کے اور اس سے بھی پہلے برطانوی تسلط کے مختصر عرصے میں شہر کے بیچوں بیچ اسلحے اور دیگر جنگی سامان کو ذخیرہ کرنے کے کئی گودام بنائے گئے تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ عدم استعمال کی وجہ سے ویران ہو گئے۔ جرمن حکومت کے تعاون سے ہمارے ادارے کے افغانستان آفس نے ان گوداموں کے دوبارہ استعمال (Adaptive reuse) کا

Read more

دریائے گم شدہ کے کنارے

اسلام آباد سے اقوام متحدہ کے طیارے نے چالیس منٹ میں کابل ائرپورٹ تک پہنچا دیا۔ اس ائرپورٹ کی ہنگامہ خیزی اور اس پر حملے کے خطرات کا ہمیں بخوبی علم تھا۔ اگست 2021ء میں اس ائرپورٹ کے ذریعے جان بچا کر نکلنے والے کئی مسافروں سے اسلام آباد اور لاہور میں ملاقات ہوئی تھی۔ بعض نے ایسی کہانیاں سنائی تھیں کہ ان پر کوئی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ خیر 14 اگست کو کہ جب ہم اس ائرپورٹ پر

Read more

سنتا ماریا تک براستہ التت فورٹ

عید کی چھٹیوں میں جو سفر لاہور سے شروع ہوا تھا وہ ٹھیک ایک مہینے کے بعد حسین کوٹ، ہنزہ اور فرانس سے گزرتا ہوا وینس میں سنتا ماریا کے گرجا گھر میں ختم ہوا اور پھر واپسی کی راہ لی۔ پورے تیس دن۔ سکون آور دوائیوں کے پیکٹس کے ساتھ چلے تھے اور راستے میں بھول ہی گیا کہ دوائیں کہاں رکھی ہیں اور انھیں کھانا بھی ہے۔ گرمی، تھکاوٹ اور کام کے دباؤ سے نکل کر ایک عجیب

Read more

وینس کی جانب

چارلس ڈیگال ائرپورٹ سے وینس (Venice) کی فلائیٹ پکڑنی تھی۔ لابی میں فیس بک پر اچانک ہمارے دوست اور گوجری کے شاعر جاوید سحر ؔ کی ویڈیو چل گئی تو دل رک سا گیا۔ بابائے گوجری، رانا فضل حسین کی شاعری ایسے خوب صورت ترنم سے پڑھ رہے تھے کہ یوں لگا کہ کوئی لوک گیت چل رہا ہے ؂ ”سوہنڑا دیس ہے کشمیر میرو۔ جس گی ڈوگیاں میں زعفران پھلے“ ۔ گوجری سے ہمارا تعارف اپنے آبائی گاؤں (گر

Read more

دریائے سین کے ساتھ ساتھ

ٹیرس پر لال چھتری کے نیچے دھوپ سینکتی، سستاتی ہوئی صبح۔ ایک نسبتاً خالی دن کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم سفر دوپہر تک پہنچیں گے اور کچھ شام کو ۔ اس شہر میں پچھلا سفر ٹھیک ایک سال پہلے کیا تھا۔ یومِ جمہوریہ کی چھٹیوں کے یہی دن جب سین دریا کے علاوہ پورا شہر سستا رہا ہے کہاں جائیں؟ پیرس کی جو تصویر میرے ذہن میں تھی وہ اُردو سفر ناموں، انگریزی فلموں اور اخباری خبروں سے کشید کی

Read more

حسین کوٹ کی رات

نصف شب کے چاند نے حسین کوٹ میں ہمارا استقبال کیا۔ ایک خاموش اور ساکن رات۔ جنگل میں درختوں پر اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے۔ ہوا میں میٹھی سی خنکی اور پیڑوں کی مدھم خوشبو کی حکمرانی تھی۔ خاموشی نے اپنی چادر پھیلا رکھی تھی۔ جسے کیڑے مکوڑوں کی سرسراہٹ اور جھینگر کی آوازیں اور پراسرار بنا رہی تھی۔ گرمی اور کام کی تھکاؤٹ سے بوجھل دل اور جسم اس فضا میں گویا ان لمحوں کو اپنے اندر جذب کرنا

Read more