لہو کے ریشم سے
”ایسے ہی مشکل مقام پر ادب آدمی کا ہاتھ تھامتا ہے کہ امید اور نا امیدی کے درمیان کا پیچاک ہی دراصل جدید ادب، خاص طور پر فکشن کا موضوع ہے اور اس پیچاک ہی کے کسی پڑاؤ پر ایک برج عاج ہے، جس میں بیٹھا ادیب خواب و خیال کے لچھوں سے جوجھتا رہتا ہے۔ کچھ سلجھا لیتا ہے، کچھ میں ریشم کے کیڑے کی طرح الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اور انجام کار مر جاتا ہے مگر دنیا کو تخلیقیت کا ریشم دے جاتا ہے۔“
یہ اقتباس جو میں نے پیش کیا، فکشن نگار اسلم سراج الدین کی آخری مطبوعہ تحریر سے ہے۔ لگ بھگ ساڑھے نو، پونے دس سال پہلے کی تحریر۔ اتنے برس گزر جانے کے بعد یہ یاد کر رہا ہوں تو اس کا سبب شہزاد اظہر کی غزلیات کے پہلے مجموعے کا نام ہے جس پر میں بات کرنے جا رہا ہوں۔ مجھے کتاب ملی تو اس کے نام پر میری نظر ٹھہر گئی اور کتنی ہی دیر میں اسے دیکھتا رہا؛ ”لہو کے ریشم سے“ ۔ پھر اسلم سراج الدین کی آخری تحریر کے جملے یاد آئے جن میں تخلیقیت کا ریشم آیا تھا۔
ہمارے شاعر شہزاد اظہر کے ہاں ”لہو کا ریشم“ آیا ہے۔ ”تخلیقیت“ اور ”لہو“ میں بہ ظاہر کوئی مماثلت نہیں ہے مگر جب میں نے کتاب کے کچھ اوراق الٹ پلٹ کر دیکھے تو شاعر کی مصرع سازی پر اس کے لہو کو صرف ہوتے پایا۔ ماننا پڑتا ہے کہ فن کار کا اپنا وجود غزل جیسی تہذیبی صنف کے آہنگ میں تب ہی آتا ہے جب تخلیق کار کے لہو سے تاثیر نچڑ نچڑ کا فن پارے کا بافتی ریشہ ہونے لگتی ہے۔ اس غزل کے دو شعر جس سے کتاب کا نام اخذ ہوا ہے۔ ”
خواب کے مراحل میں جاگ جاگ جاتے ہیں
پانیوں میں کاغذ کی کشتیاں چلاتے ہیں
تم ہراس جذبوں پر دل کی راہ مت کھولو
یہ لہو کے ریشم سے سرخیاں چراتے ہیں
شہزاد اظہر کے ہاں شعر کی ساخت میں لفظوں کی نشست و برخاست کچھ یوں قرینے کی ہوتی ہے کہ مصرع محض خوش آہنگ لفظی ترتیب نہیں رہتا آئینے کا سا ہوجاتا ہے جس پر کہیں تو نحیف سا خیال کسی ریشم کے تھان کی طرح سرسراتا ہوا اور پھسلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کہیں مثال سنگ آتا ہے، وجود چٹختا ہے اور آئینے میں بال آنے لگتا ہے۔ خیال کو فن کی سطح پر تہذیب دیتے ہوئے یہ شاعر جس طرح اس صنف کے جمالیاتی قرینوں کا دھیان رکھتا ہے وہ اپنی جگہ قاری کو ایک خواب جیسی فضا میں لے آتا ہے ایسی فضا جس میں ایک دھند سی رہتی ہے اور اس کے اندر سے آپ سارے مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
وہ سارے مناظر جو شاعر ہمیں ذرا فاصلے پر رکھ کر دکھانا چاہتا ہے کہ ایک مناسب فاصلہ بھی تو حسن پیدا کرتا ہے۔ کہنے کو یہ شہزاد اظہر کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ مگر وہ ہمارے لیے نیا نہیں ہے۔ نہ ہی وہ ان نئے شاعروں جیسا ہے جن کا شعر چونکاتا تو ضرور ہے مگر کچھ وقت ساتھ گزاریں تو وہ ایسے سمائی نہ رکھنے والے پرانے ظرف سا ہو جاتا ہے جس کی قلعی اچٹنے لگی ہو۔ شہزاد اظہر چونکانے کے لیے غزل کہتا ہی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ خیال، احساس اور اس کے لیے لچکدار لسانی سانچے کے ساتھ تخلیقی لمحات کے بعد بھی بہت سا وقت گزارتا ہو گا؛ یوں جیسے کوئی مصور تصویر بنا چکنے کے بعد اسے پیچھے ہٹ ہٹ کر اور زاویے بدل بدل کر دیکھتا اور یہاں وہاں برش لگا تا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیلنس قائم ہوجاتا ہے اور سارے رنگ ایک آہنگ میں آ جاتے ہیں۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ بہ قول خود اس کے ”سطر آرائی، متنی تنوع اور تمثالی موافقت کی تخلیق میں ان کی چالیس برس کی ریاضت کے بعد یہ کتاب آ پائی ہے۔“
مجھے شہزاد اظہر کو پڑھتے ہوئے ایسا کم کم ہوتا نظر آتا ہے کہ اس نے کسی خیال کے رد میں یا اپنے دفاع میں ایک فکری فضا بنائی ہو جس کے اندر رہنے اور کڑھنے سے تخلیقی عمل کو تحریک مل گئی ہو۔ درست نادرست یہ میرا تخمینہ ہے کہ اس شاعر کے ہاں بھی دوسروں کی طرح خیال، احساس اور زندگی سے جڑے ہوئے کسی سوال سے نئے مصرع کی کونپل پھوٹتی ہوگی۔ سب تخلیق کاروں کے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر وہ اس مصرعے کے جمالیاتی دائرے کے اندر گھومتا رہتا ہو گا یہاں تک کہ وہ ایک تھیسس کی شکل میں ڈھل جائے اور دوسرے مصرعے کو خود ہی تخلیقی راہ سجھانے لگے ؛ پہلے مصرعے کی آنول نال سے رشتہ قائم رکھنے والا دوسرا مصرع۔ جو محض مصرع نہیں ہوتا شعر کی تکمیلیت کا سبب بھی ہوتا ہے۔
وہ رنگ وحشت اسلوب شعر ہے میرا
غزل کہوں تو غزال آئنے میں آتا ہے
۔
معانی ہیکل مستور ہے لیکن کہاں ہے
کسی کو ان کہے لفظوں کے معبد کی خبر کیا
۔
اس کا اترانا سر شاخ الگ ہے سب سے
پھول نے دیکھ لیا باغ کی حیرانی کو
۔
ایک یخ بستہ کہانی کی یہی منزل تھی
شب کو چوپال میں بھوبل کے قریں بیٹھ گئی
۔
یوں ہوا پھر والہانہ میں نے بانہیں کھول دیں
جانے والا پل مجھے اپنی طرف آتا لگا
۔
کنارے پر جھکا یہ پیڑ پہلے جاگ جاتا ہے
پھر اک پتا گرا کر جھیل کو بیدار کرتا ہے
۔
ایک آنسو کی حراست میں ہوں شہزاد اظہر
اور سمجھتا ہوں گرفتار سمندر نے کیا
کچھ دن پہلے میں نے شہزاد اظہر کو ایک مدت کے بعد دیکھا تو چھاتی پر ایک گھونسا سا پڑا تھا۔ میں نے اسے پہلے اچھا بھلا دیکھ رکھا ہے، اس کی بگڑی ہوئی صحت میرے لیے تکلیف دہ تھی۔ خیر، کتاب آئی ہے تو اس کے وجود کو لگے ہوئے روگ سے جیسے دھیان ہٹ سا گیا ہے۔ اتنی تازہ اور توانا شاعری کرنے والا پڑھنے والے کے اندر بھی توانائی بھر دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی جلسوں میں کسی فن پارے پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ہمیشہ فن اور اس کی جمالیات کو اس کے مواد پر ترجیح دیا کرتا؛ آپ شہزاد اظہر کی کتاب پڑھ کر ایک طرف رکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ یہی معاملہ تخلیقی سطح پر اس کا اپنا بھی رہا ہے تبھی تو ذہن میں خیالات اٹھنے کی بہ جائے، خوب صورت تصویروں کا ایک البم کھل جاتا ہے۔ ان تصویروں میں کہیں حسن دل کی طرح دھڑکتا ہے اور کہیں زمانہ اسی دل کے سائے میں پڑا سستا رہا ہوتا ہے، یہ اشک ریاضت اور تخلیقی اخلاص سے اپنے فن کے ساتھ زندگی اور موت کا سا رشتہ قائم کر لینے کا اعجاز ہے کہ شاعر کا کلام کاغذ سمیت چمکنے لگتا ہے :
میں یہاں دل سے گرہ گیر ہوں دیکھا تم نے
میں نے اک عمر میاں کی ہے بسر کاغذ پر
میں نے اک سطر کو خود دیکھا ہے گلشن ہوتے
پھر پرندوں کو چہکتے بھی سنا کاغذ پر
یہ مرے اشک ریاضت کا ثمر ہے شہزاد
چمک اٹھتا ہوں اگر آئینہ بھر کاغذ پر
شہزاد اظہر نے لہو کے ریشم لچھوں سے تخلیقیت کا جو اعجاز دکھایا ہے اس نے اسے واقعی ایک عمر دی ہے، اس کے ساتھی ہم عصروں کے کب کے کئی کئی مجموعے چھپ کر گم ہو چکے ہیں مگر اس پہلے ہی مجموعے نے اسے لائق توجہ غزل گو ہم عصروں میں نمایاں کر کے لا کھڑا کیا ہے۔ اس کی صحت و سلامتی اور تخلیقی طور پر یوں ہی توانا و رواں رہنے کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے۔ وہ اور لکھے کہ ایسا کلام تو لکھنے والے کی زندگی اور توقیر بڑھاتا ہے اور ادب کے سنجیدہ قاری کا فنی اقدار پراعتماد بھی بحال کر دیا کرتا ہے۔
تیشہ عرض ہنر سے توڑ دے چپ کا پہاڑ
لکھ غزل شہزاد اظہر اور مصیبت سے نکل



