شانتی نگر
’ دیکھیں، آپ لوگوں کے پیروں میں کتنے چھالے پڑ گئے ہیں۔ ‘ یہ سرائے کے ملازم کی آواز تھی۔
’ ہوں، تم نے ہمارے چہروں پہ مسکراہٹ کو نہیں دیکھا۔ ‘ چوبیس سالہ ناصر بستر سے آٹھ کر بیٹھ گیا۔
’ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی! یہ چھالے تو کافی بھر گئے ہیں۔ ‘
ناصر کچھ دیر خاموشی سے ملازم کو دیکھتا رہا۔ ’منزل پانے کا جنون ہے تو یہ آبلے تنگ نہیں کرتے۔ ‘
’ صاحب، آپ کی منزل کیا ہے؟ ‘
’ میں نے سنا ہے کہ کوسوں دور ایک بستی ہے جہاں امن ہی امن ہے، انصاف ہی انصاف ہے۔ وہاں روز محبتوں کی بارش ہوتی ہے۔ خلوص کا سورج روز طلوع ہوتا ہے۔ نہ دن کی روشنی، نہ رات کی تاریکی میں ظلمت کا بھوت نظر آتا ہے۔ تمام لوگ خلوص کا پیکر ہیں۔ ‘
ملازم بیچ میں بول پڑا۔ ’جی میں نے سن رکھا ہے۔ یہ بستی تو کوسوں دور ہے مشرق کی طرف۔ ‘
دو دن بعد سرائے کے ملازم ناصر اور اس کے نو ساتھیوں کے سامان کو ان کے خچروں پہ باندھ کر رخصت کر رہے تھے۔
ناصر اور اس کے ساتھی سات گھنٹے کا سفر طے کر کے اگلی سرائے پہ پہنچ گئے تھے۔
’ آپ تقریباً دس گھنٹے بعد اٹھے ہیں، آپ کے غسل لے لئے حمام تیار ہے اور کھانا بھی گرم ہے۔ بتائیں، کیا حکم ہے۔
آپ کے دوسرے ساتھی بھی اٹھ چکے ہیں۔ ’
ناصر نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکا۔
’ صاحب آپ کدھر جا رہے ہیں؟ ‘
ناصر نے ہاتھوں کو اپنے منہ پہ ملتے ہوئے کہا، ’شانتی نگر۔ ہمارا دس لوگوں کا قافلہ ہے، دو تین آگے جانے سے کترا رہے ہیں۔ شاید واپس چلے جائیں۔ ‘
’ آپ کا سفر تو بہت لمبا ہے، کسی کارواں کا انتظار کریں جو اس طرف جا رہا ہو۔ آگے بہت سنگلاخ پہاڑ ہیں۔ ڈھلان اور چڑھائی کافی عمودی ہیں، گر جانے کا کافی خطرہ ہے۔ ‘
’ بھئی، تم ہماری ہمت نہ توڑو۔ اب فیصلہ کیا ہے تو اس پہ عمل کرنا ہے۔ ہاں بہت احتیاط سے کام لینا پڑے گا۔ یہ ہمارا اپنا سفر ہے۔ ہم کسی کارواں کے ساتھ نہیں جانا چاہتے۔ ‘ ناصر پھر کچھ سوچ کر بولا۔ ’یہ ہماری ذات کا بھی سفر ہے۔ جیسے جیسے ہم ان سنگلاخ پہاڑوں کو عبور کریں گے اتنا ہی ہم اپنی ذات کی گہرائیوں کو چھوئیں گے۔ ‘ یہ کہہ کر ناصر حمام کی طرف چلا گیا۔
ایک دن آرام کرنے کے بعد سات افراد کا قافلہ پہاڑی راستوں سے ہوتا ہوا اگلی سرائے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سرائے کو دیکھ سب کے دل دھڑکنے لگ گئے تھے۔ آخری ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ سرائے کے اندر پہنچتے ہی سب بستروں پہ گر پڑے۔ ملازمین نے سامان کو ٹھکانے لگایا، کچھ خچروں کی دیکھ بھال میں لگ گئے، اور باقی کھانے پینے کے انتظام میں مصروف یو گئے۔
ایک دن آرام کرنے کے بعد پھر سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔
’ شانتی نگر کتنا دور ہے یہاں سے؟ ‘
’ کوئی چار پانچ دن کا سفر ہے۔ ‘ سرائے کے منتظم نے اپنی چھوٹی چھوٹی مونچھوں کو کناروں سے کھینچتے ہوئے کہا۔
’ آپ کبھی پہلے اس طرف نہیں گئے؟ ‘
ناصر کے ایک ساتھی نے جواب دیا۔ ’نہیں۔ ‘
منتظم نے پھر اپنی مونچھوں کو کھینچا۔ ’میں نے سنا ہے کہ راستہ بہت خطرناک ہے، جنگلی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ گم ہو جاتے ہیں جنگلی جانوروں کا شکار بن جاتے ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہاں تو مجھے کوئی کارواں نظر نہیں آ رہا۔ ‘
’ جی، ہم اکیلے ہی سفر کر رہے ہیں۔ ‘ ناصر ذرا اکڑ کر بولا۔
’ اکیلے، یہ کیسے ممکن ہے؟ ‘
’ اگر منزل پہ پہنچنے کا عزم ہو تو خضر بھولے بھٹکوں کی رہنمائی کر دیتے ہیں۔ ‘ ناصر نے جواب دیا۔
’ بھئی، یہ تمہاری ہمت ہے۔ خدا آپ سب کی حفاظت کرے۔ ‘
سرائے کے منتظم نے سفر کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ جنگل کے جانوروں سے نمٹنے کے گر بتائے۔
اگلے دن تڑکے ہی قافلہ پھر چل پڑا۔ لیکن اب اس میں صرف پانچ لوگ رہ گئے تھے۔
جنگل میں سے ہوتا ہوا یہ قافلہ شام کے وقت ایک اور سرائے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص تھکن اور سفر کی صعوبتوں سے چور چور ہو چکا تھا۔
اس سرائے کے ایک ملازم نے قافلے کو صحرا کے بارے میں بتایا کہ صحرا کا سفر کتنا دشوار ہو گا اور راستہ کھو دینا کتنا آسان ہے۔ پانی کی اہمیت پہ بہت زور دیا۔ اب یہ چار لوگوں پہ مشتمل قافلہ بچتا بچاتا ایک گاؤں میں پہنچ گیا جہاں کے ایک زمیندار نے مسافروں کے لئے ڈیرہ بنایا ہوا تھا۔
’ آپ کدھر جا رہے ہیں؟ ‘ ملازم نے ناصر کے زخموں پہ پٹی باندھتے ہوئے کہا۔ ’آپ یہاں آرام کریں۔ آپ ابھی مزید سفر نہ کریں۔ ‘
’ میں زخم بہتر ہوتے ہی نکل پڑوں گا۔ شانتی نگر ہماری منزل ہے، ہمارا خواب ہے، ہماری دیرینہ خواہش ہے۔ ‘
’ بہت لوگ کوشش کرتے ہیں، لیکن شاید ہی کوئی پہنچ پاتا ہو۔ زیادہ تر تو واپس چلے جاتے ہیں ان میں مزید سفر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ‘ یہ ملازم تقریباً پچاس کے پیٹے میں تھا مگر اس کی چال ڈھال اس کی عمر کو چھپا رہی تھی۔
دن بھر گرم ریت کے تھپیڑوں اور رات کی یخ بستہ ریگستانی ہواؤں کو برداشت کرتا ہوا یہ مختصر قافلہ اگلے روز ایک اور سرائے میں پہنچ گیا۔ ایک دن آرام کرنے کے بعد ان چار لوگوں نے بقیہ سفر کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دیں۔ سرائے کے منتظم نے بتایا کہ شانتی نگر ایک دن کے فاصلے پہ ہے لیکن یہ سفر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ’
’ ہم گہری وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، جنگل اور ریگستان میں سے ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں۔ اب ہم ایک دن کا سفر اور برداشت کر سکتے ہیں۔ آپ بس سفر کی تیاری میں ہماری مدد کریں۔ ‘
’ یہاں سے شانتی نگر کا راستہ بالکل دلدل ہے دلدل۔ اور اس میں جو پھنس گیا وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ اس کے اندر ہی پورا دھنس جائے گا۔ ویسے اس علاقے میں سارا سال تھوڑی بہت دلدل رہتی ہے لیکن اس دفعہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے پورا راستہ ہی نا قابل عبور ہو گیا ہے۔ ‘
’ یہ راستہ کب تک سوکھ جائے گا؟ اگر کچھ دن کی بات ہے تو ہم یہیں پڑاؤ کیے رہتے ہیں۔ ‘
’ اتنا پانی خشک ہونے میں ایک دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ویسے ابھی تو بارشوں کا موسم ہے۔ ‘
ناصر آسمان کی طرف دیکھنے لگ گیا جیسے یہ سب ہونے کا وہ ذمہ دار تھا۔
’ ہمیں کچھ سوچنے کا موقعہ دیں۔ ‘
تھوڑی دیر بعد چاروں ساتھی حقے کے گرد بیٹھے ہوئے تھے۔ چلم کی آگ سے آتی ہوئی حرارت، تمباکو کے کش اور جھینگروں کا شور ماحول کو دلکش اور پراسرار بنا رہا تھا مگر دماغ دلدلی سوچوں میں پھنسا ہوا تھا۔ آخر ایک ساتھی ہمت کر کے بولا۔ ’اتنی زیادہ سوچنے کی بات ہی نہیں ہے۔ دلدل میں پھنس کر کس کا مرنے کو دل چاہتا ہے۔ ‘ دوسرے ساتھی نے فوراً گردن ہلا کر ہاں میں ہاں ملائی۔ ناصر نے دو تین گہرے کش لئے پھر دھوئیں کو دیکھتا ہوا بولا۔ ’کل فیصلہ کرتے ہیں شاید کسی رہبر کا انتظام ہو جائے۔ ‘
اگلے دن ناصر نے ناشتے کے دوران رہبر کے بارے میں پوچھا تو منتظم نے جواب دیا۔ ’کوئی رہبر بھی ان حالات میں یہ علاقہ پار نہیں کروائے گا۔ ‘
’ پھر میں خود ہی اکیلا چل پڑتا ہوں اگر کوئی میرے ساتھ نہیں آتا۔ اتنی دور تک آ گیا ہوں تو شانتی نگر ضرور جاؤں گا چاہے سفر کے دوران جان خطرے میں ہو۔ ‘
’ بیٹا! میری بات سنو۔ تم شانتی نگر کیوں جانا چاہتے ہو؟‘ یہ ساتھ والی چارپائی پہ لیٹے ہوئے ایک بزرگ کی آواز تھی۔
ناصر نے شانتی نگر کی تعریفیں گنوانا شروع کر دیں۔
اگلی صبح ناصر چارپائی پہ بیٹھا سوچ و بچار میں مصروف تھا۔ سفر کی تیاری، مشکلات، مایوسیاں، کامیابیاں، ہر سرائے پہ پہنچ کر کچھ ساتھیوں کا مزید سفر سے انکار، منزل تو اب بہت پاس آ گئی تھی لیکن پھر بھی بہت دور تھی۔ ایک اور امتحان، ایک اور چیلنج، اس کہ پتا ہی نہیں چلا کہ کب دھوپ اپنی پوری تمازت کے ساتھ اس کے چہرے کو گرمائی بخش رہی تھی۔ اسے اپنے ارد گرد کچھ ہل چل سی محسوس ہوئی، مڑ کر دیکھا تو ایک باریش بزرگ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔ ’کل تم نے بتایا کہ تم لوگ شانتی نگر جا رہے ہو۔ ‘
’ جی، شروع میں دس لوگ تھے اب چار باقی رہ گئے ہیں، دو شاید مزید سفر نہ کریں۔ جیسے جیسے منزل کے قریب آتے گئے، لوگ کم ہوتے گئے۔ ‘
’ ہاں! بہت مشکل اور جان لیوا سفر ہے تم لوگوں کا، اور ابھی یہ ختم نہیں ہوا۔ ‘
’ جی، آپ نے صحیح کہا، لیکن منزل تک تو پہنچنا ہے۔ ‘
’ تم لوگ کون سی بستی سے آئے ہو؟‘
’ جی، ہم لوگ کھٹمنڈو کے باسی ہیں۔ ہم دس دوستوں نے وہاں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر شانتی نگر میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم دو لوگ آگے جانے کے لئے تیار ہیں۔ آپ بتائیں کہ کوئی دوسرا راستہ ہے شانتی نگر تک پہنچنے کے لئے؟ ‘
بزرگ شخص مسکرا کر خاموش ہو گیا جیسے بولنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔
’ آپ بتاتے کیوں نہیں؟ ‘ ناصر بے تابی سے بولا۔
بوڑھے شخص نے اپنی منحنی داڑھی کو ہتھیلی میں لیتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ ’تم دس نوجوان ہو۔ اپنی طاقت کو پہچانوں گے تو دوسرا راستہ مل جائے گا۔ ‘ یہ کہہ کر وہ خچروں کے باڑے کی طرف چلا گیا۔
ناصر خاموش کسی سوچ میں ڈوبا رہتا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کئی بار پوچھا لیکن اس کا جواب مختصر سا تھا۔ ’اتنے سفر کے بعد میرا دماغ کھل رہا ہے۔ مجھے سوچنے دو۔ ‘
اگلے دن ناصر نے سرائے کے ملازم سے کہا۔ ’ہمارا سامان اور خچر تیار کر دو۔ ہمیں کل صبح صبح ہی نکل جانا ہے۔ ‘
دبلا پتلا ملازم جھٹ بول پڑا۔ ’رہبر کے بغیر آپ آگے نہیں جا سکتے۔ میں آپ کو اکیلے نہیں جانے دوں گا۔ شانتی نگر یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے مگر راستہ کافی خطرناک ہے۔ ‘
’ تم فکر نہیں کرو۔ ہم ادھر نہیں جا رہے! ‘
’ پھر آپ کدھر جا رہے ہیں؟ ‘
ناصر نے گھور کر ملازم کو دیکھا۔ ’تمہیں بتا کر یہاں سے جاؤں گا۔ ‘
تاروں بھری رات کے نیچے ناصر اپنے تینوں ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہلکی ہلکی خنک ہوا چل رہی تھی۔ ناصر ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اگلے سفر کے بارے میں بات کیسے شروع کرے کہ اس کے ایک ساتھی نے سوال کر دیا۔ ’کچھ پتا چلا دوسرے راستے کا! میں نے ایک رہبر سے بھی پوچھا لیکن اس نے بھی کبھی کسی اور راستے کے بارے میں نہیں سنا۔ ‘
’ مجھے پتا لگ گیا ہے۔ ‘ ناصر کا چہرہ ایک پراسرار مسکراہٹ سے سج گیا۔
’ وہ کیسے پتا چلا۔ کس نے بتایا؟‘
’ ہمیں واپس اپنی بستی چلنا ہے۔ ‘ تینوں دوستوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
’ ہمیں اسی کو شانتی نگر بنانا ہے۔ ‘
حوالہ: یہ کہانی فرید الدین عطار کے ناول منطق الطیر سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔


