ٔاداروں کو اداروں سے بچاو
کوئی لگی لپٹی اور تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں، میرا ہر قاری دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا پاکستان کے اکثر ادارے خود ہی اپنے بوجھ تلے دب نہیں رہے ہیں۔ کسی بھی محکمے یا ادارے کی تباہی کے ذمہ دار اگر خود اس کے افسران اور ملازمین ہو تو دوسروں پر الزام تراشی اور عوام سے گلے شکوے کیوں؟
شروع کرتے ہیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے۔ پیسکو ٹیسکو لیسکو وغیرہ۔ کیا ہم سب کو معلوم نہیں کہ بے تحاشا بجلی چوری کی سزا عوام یعنی ان لوگوں کو دی جا رہی ہے جو ہر مہینے بروقت بل ادا کرتے ہیں۔ نیپرا کی جانب سے مئی دو ہزار تئیس کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق صرف پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو ایک سال کے دوران چونسٹھ ارب روپے کی لائن لاسز کا سامنا ہے۔ نیپرا نے پیسکو کو لائن لاسز اکیس فیصد تک لانے کا ٹارگٹ دیا تھا مگر پیسکو میں لائن لاسز پاکستان بھر میں سب سے زیادہ سینتیس فیصد ہے۔ اور وہ اسے کم کرنے میں ناکام رہا۔
اگر ہم باقی تمام کمپنیوں کی اوسط نکالیں تو رپورٹ کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار کی بیس فیصد یعنی پانچواں حصہ چوری اور لائن لاسز کی نذر ہوجاتا ہے۔ چوری کون کر تا ہے کس کی مرضی اور اکسانے سے کرتا ہے اس کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ میٹر ریڈر سے لے کر ایگزیکٹیو انجینئر اور چیف انجینئر تک ہر ایک کو حصہ بقدر جثہ جاتا ہے۔ ان ملازمین میں جو نسبتاً خداترس ہوتے ہیں وہ صرف چائے پانی پر بھی مال مفت دل بے رحم کے مصداق سرکار کی بجلی چوری کرنے سے آنکھ چراتے ہیں۔
بلکہ گاؤں محلے میں ماہانہ پیسے لے کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ محفوظ طریقے سے چوری کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سکیل ایک سے بائیس تک ملازمین کی مفت بجلی اس سے الگ ہے۔ اگرچہ ان میں سے ہر گریڈ کے لئے یونٹس کی ماہانہ مقدار مقرر ہے مگر جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ جب بجلی خرچ کرنے والا اور میٹر چیک کرنے والا ایک دوسرے سے چشم پوشی کریں گے تو چوری کیسے کم ہوگی۔ اگرچہ اس چوری کی روک تھام کے کئی حل موجود ہے جس میں زیر زمین کیبلنگ، پری پیڈ سسٹم، ٹرانسفر مر کی سطح پر ڈیجیٹل ریڈنگ اور سب سے بڑھ کر ان کمپنیوں کی پرائیوٹائزیشن شامل ہیں مگر گزشتہ بیس سال سے آنے والی ہر حکومت ان اداروں میں قائم یونین کے سامنے بے بس نظر آئی۔ اور درجہ بالا فیصلوں کی بجائے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا آسان فیصلہ کر کے چوری اور سینی زوری دونوں کا بوجھ عوام پر ڈال کر سمجھتا ہے کہ انہوں نے بڑا تیر مار لیا ہے۔
اب آتے ہیں محکمہ جنگلات کی طرف۔ گزشتہ ہفتے مجھے ایک بار پھر چند دن دیر اور سوات کی جنگلات میں گھومنے پھرنے اور اس کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہر کچے پکے سڑک پر جگہ جگہ کاٹے گئے قیمتی چیڑ اور دیودار کے درختوں کے ڈھیر پڑے ہوئے ملے۔ مقامی لوگوں نے پوچھنے پر طریقہ کار بتایا۔ کہ جس شخص کو گھر یا حجرہ بنانے کے لئے لکڑیوں کی ضرورت ہو تو پہلے وہ مقامی کمیٹی سے منظوری لے کر محکمہ جنگلات چلا جاتا ہے وہاں رشوت اور سفارش دونوں چلتی ہے اور خوب چلتی ہے۔
مثال کے طور پر کسی بھی مقامی شخص کو تین درخت کاٹنے کا پرمٹ دیا جاتا ہے ۔ وہ جاکر چھ کاٹ کے لاتا ہے اگر محکمے کے اہلکاروں کی نظر پڑی تو پرمٹ دکھایا نہیں پڑی تو دوبارہ جاکر دس درخت اور کاٹ لیتا ہے۔ دس لاکھ کے درخت کاٹے تو دس بیس ہزار مقامی پولیس اور محکمے کے اہلکاروں کو دے دیے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ جنگلات کٹائی اور تباہی کا یہ سلسلہ پورے مالاکنڈ ڈویژن میں پورے زور و شور سے جاری ہے۔ اپنے دورے کے آخری روز میں نے ڈویژن کے سب سے بڑے انتظامی افسر سے یہ سارا قصہ بیان کر کے پوچھا کہ وہ اس میں کارروائی کیوں نہیں کرتے۔
انھوں نے اپنی بے بسی کا رونا رویا اور بتایا کہ کئی لوگوں کو جیلوں میں ڈالا مگر دوسرے ہی دن وہ رہا ہو جاتے ہیں۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقامی پولیس لکڑی سمگلروں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی ہے۔ کچھ لوگ لالچ میں اور کچھ لوگ ڈر کے مارے خاموش ہو جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے تسلیم کیا کہ جب تک جنگلات سرکار کی بجائے قوم کی ملکیت میں تھیں او کٹائی پر قومی باندہ (پابندی) لاگو تھی مجال ہے جو کوئی ایک تنکا بھی چوری کر کے لے جاتا مگر جب سے محکمہ جنگلات کو اختیار دیا گیا ہے جنگلات کی بے دریغ کٹائی تسلسل سے جاری ہے حکومتیں بدلتی ہے مگر جنگلات کی کٹائی کی قسمت نہیں بدلتی۔ اور سابقہ حکومت کی بیلین ٹری اور ٹن بیلین ٹریز جیسے منصوبے بھی سراب ثابت ہوئے۔
پولیس کی مثال لیجیے کہ ایک طرف ملک و قوم اور عوام کی خاطر بے تحاشا قربانیاں دے رہی ہے مگر دوسری جانب محکمے میں موجود چند کرپٹ اور کام چور اہلکار اس کی بدنامی میں روز بروز اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ناکے پر کھڑا سپاہی اور چوکی یا تھانے میں بیٹھا محرر عوام کے لئے پولیس کا چہرہ ہوا کرتا ہے۔ کیو نکہ ایس پی ڈی ایس پی تو درکنار ایس ایچ او جسے عرف عام میں خان کہا جاتا ہے ان سے ملنے کے عوام صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اب اگر پولیس کا یہی چہرہ ڈراونا اور داغدار ہو تو اس کے اعلی افسران اپنی ساکھ بہتر کرنے کے لاکھ جتن کرے مگر حقیقت میں پولیس وہی فلمی پولیس ہی رہے گی کیونکہ یہاں تبدیلی اوپر سے نہیں نیچے سے لانے کی ضرورت ہے۔
کراچی سٹیل مل، پی آئی اے اور پاکستان ریلوے جیسے ادارے بھی اگر ایک طرف حکمرانوں کی جانب سے روزگار سنٹر کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے بے تحاشا ملازمین کی بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں تو دوسری طرف یہی ملازمین اپنے حقوق کے نام پر قائم یونین سازی کی وجہ سے اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ لوگ طاقت کے نشے میں خود کو اپنے اپنے فرائض منصبی سے ماوری سمجھتے ہیں۔ سینکڑوں اہلکاروں کی گھر بیٹھ کر تنخواہیں اور مراعات لینے نے ان اداروں کو عوام کے لئے سفید ہاتھی بنا دیا ہے۔
عدلیہ فوج اور نام نہاد جمہوری اداروں جیسے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور اب ڈسٹرکٹ اور تحصیل اسمبلیوں کی صورتحال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ فوج کی کرپشن پر اس کے اندرونی نظم و نسق کا غلاف چڑھا ہوا ہے۔ جس نے اسے دنیا والوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اس کا ڈنڈا چھوٹے موٹے آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے کافی ہے۔
عدلیہ کے پاس سوموٹو اور توہین عدالت کا اختیار ہے۔ جس نے میڈیا سمیت عوام کے ہونٹ سی لئے ہیں۔ رہ گئے بے چارے سیاست دان حکمران۔ وہ بہتی گنگا میں خوب منہ ہاتھ دھو رہے ہیں بلکہ اس میں اپنے یار دوستوں اور رشتہ داروں سمیت غسل فرما رہے ہوتے ہیں مگر وہ باقی مقدس گائیوں کی طرح پوتر ہونے کا ڈھونگ نہیں رچاتے بلکہ ان میں سے بعض تو کھل کر اعتراف بھی کرتے ہیں کہ کھاتے ہیں تو کھلاتے بھی تو ہے۔ مجھے یہاں سجاد حیدر یلدرم کا افسانہ (مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ) یاد آ گیا اس لیے عرض کیا کہ ہمارے اداروں کو اداروں والوں سے بچاؤ۔ ورنہ روشن مستقبل کے خواب دیکھنا چھوڑ دیجئے۔
—


