چک نمبر 50 مریم ٹاؤن: اہانت مذہب کے حقائق کی غلط اور نامکمل رپورٹنگ سے بڑے سانحہ کا خطرہ


( سرگودھا، پنجاب ) مورخہ 16 جولائی 2023 صبح 5 بجے چک نمبر 50 شمالی کینٹ سے ملحقہ اور تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا کی حدود میں واقع گرین ٹاؤن کی دیوار پر مذہبی مقدسات کی بے حرمتی پر مبنی پینا فلیکسز آویزاں کرنے کا واقعہ رونما ہوا۔ گرین ٹاؤن میں زیادہ آبادی مسلم ہے اور چند ایک گھر مسیحی ہیں، چونکہ مسیحی برادری کی بہت بڑی تعداد 49 ٹیل مریم ٹاؤن میں آباد ہے اس لیے توہین رسالت کے اس واقع کو 49 ٹیل مریم ٹاؤن اور نامعلوم (مسیحی شخص) سے جوڑ کر رپورٹ کیا گیا جبکہ پولیس انویسٹیگیشن اور ایف آئی آر میں ملزم نامعلوم ہے۔ جو کہ مسیحی آبادی پر حملے کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔ مسلم کیمونٹی کا کہنا یہ تھا کہ پینا فلیکسز آویزاں کرنے والا شخص مریم ٹاؤن کا رہائشی ہے۔

49 ٹیل مریم ٹاؤن ضلع سرگودھا میں مسیحی آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا علاقہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 کے کنٹونمنٹ کے الیکشن میں یہاں سے امجد غوری نامی مسیحی شخص نے آزاد الیکشن لڑا اور بہت بڑی تعداد میں ووٹ بھی حاصل کیے۔ عینی شاہد سے جب میری بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ صبح 6 بجے کے قریب چند مساجد میں اعلانات کیے گئے کہ سب مسلم لوگ جمع ہو جائیں مریم ٹاؤن کے ایک مسیحی شخص نے توہین مذہب کی ہے آج ہم نے مریم ٹاؤن پر حملہ کرنا ہے، لوگ وہاں جمع ہونے شروع ہو گئے، یہ خبر جب مریم ٹاؤن کی مسیحی برادری تک پہنچی تو علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا اور مسیحی نوجوان بھی جمع ہونے شروع ہو گئے۔ اسی اثنا میں پولیس بھی تقریباً 8 بجے کے قریب مریم ٹاؤن کی سڑکوں پر جمع ہونے لگ گئی اور علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور جگہ جگہ ناکے لگا دیے اتوار کے روز ہونے کی وجہ سے ویسے بھی کچھ گرجا گھروں کے باہر پولیس کی نفری تعینات تھی۔

عینی شاہد کے مطابق جب میں 10 بجے گھر پہنچا تو رستے میں چوک میں بہت بڑی تعداد میں علما کرام کی سربراہی میں لوگ جمع تھے فیصل آباد روڈ چاروں طرف سے بلاک تھا، احتجاج جاری تھا اور لاؤڈ سپیکروں کی مدد سے تقریریں اور نعرے بازی کی جار ہی تھی جبکہ پولیس نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

عینی شاہد کے مطابق گھر سے ساز و سامان کی غرض سے باہر جانے والے اور باہر سے گھر ( مریم ٹاؤن) آنے والے چند افراد کو سب انسپیکٹر عرفان صاحب نے اس وقت گرفتار کیا جب پولیس 49 ٹیل مریم ٹاؤن میں ناکہ پر موجود تھی جس کی سربراہی ایس ایچ او تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کر رہے تھے، مزید بتایا کہ پولیس نے ہمیں روک کر شناختی کارڈ چیک کیا اور جن افراد کا شناختی کارڈ پر پتہ مریم ٹاؤن کا تھا ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں میرے دوست ماجد گل، جانسن مسیح اور ایک موٹر سائیکل مکینک سمیت ایک درجن کے قریب مسیحی افراد کو گرفتار کر کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں بند کر دیا گیا جو تا حال ابھی پولیس کی حراست میں ہی ہیں۔ رات گئے پولیس کی نفری میں مزید اضافہ کر دیا گیا اور مسیحی برادری کو یقین دہانی کرائی گئی کہ حالات کنٹرول میں ہیں اور کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔

خبر پھیلتے ہی کثیر تعداد میں لوگ مریم ٹاؤن کے قریب جمع ہو گئی مین فیصل آباد روڈ بلاک کر دیا گیا ہر طراح کی ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی گئی اور احتجاج شروع کر دیا احتجاج میں زیادہ لوگ اس لیے بھی جلد شامل ہو گئے کیونکہ اسی چوک میں حرمت قرآن کی ریلی پہلے سے ہی پلان تھی۔ اس احتجاج سے مسیحی آبادی کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے گھروں سے بھاگنا شروع کر دیا، ہجوم کے جمع ہونے اور نعرے بازی کے دوران ہی پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی اور ضلع کے ایس پی انویسٹیگیشن فرحان اسلم پولیس کے ہمراہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مسیحی آبادی والے علاقے کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق محمد عبدالغفار ولد منظور حسین جو کہ گرین ٹاؤن چک نمبر 50 شمالی سرگودھا کا رہائشی ہے نے مورخہ 16 جولائی 2023 بوقت صبح 10 بجکر 25 منٹ پر تھانہ ایس ٹاؤن سرگودھا میں ایک ایف آئی آر درج کروائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ میں گرین ٹاؤن کا سکونتی ہوں اور محکمہ پی اے ایف سے ریٹائرڈ ہوں مورخہ 16 جولائی 2023 بوقت صبح 5 بجے کے قریب میں معہ قاری محمد آصف سعید ولد الغریز قوم چوہان سکنہ گرین ٹاؤن ( امام مسجد گلزار حبیب گرین ٹاؤن) اشفاق احمد ولد محمد رمضان قوم ہاشمی سکنہ گرین ٹاؤن سرگودھا کے بعد از ادائیگی نماز فجر اپنے گھر کے سامنے پہنچا تو اپنے گھر کی بیرونی دیوار گیٹ کے بائیں طرف ایک سفید کاغذ پر نیلی روشنائی سے تحریر لکھی ہوئی تھی جس میں حضرت محمدﷺ کی شان میں انتہائی گستاخانہ الفاظ درج تھے۔ قربانی جیسے پاکیزہ عمل کو حرام لکھا گیا۔ قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے اور سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والوں کو شاباش دی گئی۔ متذکرہ پوسٹر شفاف ٹیپ کے ساتھ دیوار پر چسپاں کیا گیا۔ نامعلوم ملزمان نے دانستہ گستاخی کر کے اور اسلامی شعائر کی تضحیک کر کے تمام مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

العارض محمد عبدالغفار مذکور دستخط با حروف انگریزی کارروائی پولیس اس وقت ایک تحریری درخوات با مضمون بالا موصول ہوئی جو حرف بحرف درج ہوئی مضمون درخواست و حالات واقعات سے سردست صورت جرم 295 سی، 298 اے، 295 بی اور 295 اے، ت پ پائی جا کر رپورٹ ابتدائی اطلائی ہذا بجرم مذکور مرتب ہوئی نقل مثل پولیس بمراد تفتیش بدست محمد مختار ایچ سی/ 1430 عقب آئی این وی/ ایس پی صاحب سرگودھا کو بھجوائی جا رہی ہے۔ محرر کو ہدایت ہوئی کہ سپیشل رپورٹ مرتب کر کے افسران بالا کو بھجوائے۔

متعلقہ ایس پی انویسٹیگیشن فرحان اسلم نے مشتعل ہجوم و علماء کرام کو بتایا کہ ایف آئی آر میں جو جو آپ نے دفعات کہی تھیں وہ ہم نے شامل کر دی ہیں اور علمائے گرام کو یقین دلوایا کہ وہ اگلے 48 گھنٹوں میں ملزم کو آئی ٹی اور جیو فینسینگ کے ذریعے سے تلاش کر لیں گے اور اس تلا ش میں آپ سب پولیس کی مدد کریں۔

اس ضمن میں پولیس میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام پر مشتمل 5 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنا دی گئی جو اس واقعے کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ کوارڈینیشن میں رہے گی۔

یاد رہے کہ مشتعل ہجوم و علماء کرام نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے کہ اگر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو جو بھی نتائج ہوئے اس کے ذمہ دار ہم نہ ہوں گے۔ اس الٹی میٹم کو لے کر سول سوسائٹی آرگنائزیشن اور مسیحی لوگوں بالخصوص مریم ٹاؤن کے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

Facebook Comments HS