ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں!
ملک اس وقت انتہائی نازک حالات ہیں ملکی معیشت عدم استحکام سے اس قدر دوچار ہے کہ ملک کے مستقبل کا تعین نہیں ہو پا رہا اور اس صورتحال نے عوام میں جو بے یقینی کو جنم دیا ہے موجودہ حکومت اپنے اقدامات سے عوام کے سروں پر منڈلاتے بے یقینی کے سایوں کو کم کرنے میں عملاً ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ملک کے معاشی و سیاسی حالات عدم استحکام کی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں تا حال ملک کے مستقبل کا تعین کرنا مشکل ہے سیاسی و معاشی ماہرین کے اشاریے خطرناک دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں عوام تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے ان ناکردہ گناہوں کے بوجھ تلے دبی عوام تو دعا ہی کر سکتی ہے۔
اس بات پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ پاکستان اس مقام تک کیسے پہنچا ایک ایسا ملک جسے مملکت خداداد کہا جاتا ہے جسے قدرت نے ہر نعمت سے مالا مال کیا ہوا ہے بہترین آبپاشی نظام ’پانچ دریا‘ چار موسم ’آٹھ اونچے ترین پہاڑ‘ زرخیز زمین ’بہترین جغرافیائی خد و خال کا حامل ملک اور قدرتی وسائل سے مالا مال اس کے باوجود ہم قرض کے لئے دربدر ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اہل قلم‘ دانشور اور ادیب کو سیاسی پلڑے میں نہیں تلنا چاہیے کیوں کہ قلم کا جھکاؤ نسل نو کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے حکومت کے غلط اقدامات کی اصلاحی طور پر نشاندہی کریں اور حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں جو عوام دوست ہوں۔
تن آسانی ’عیش کوشی اور عیش پسندی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام بکھر گیا ہے تاریخ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں درباروں میں خوشامدیوں‘ مراثیوں ’طبلہ نوازوں اور وظیفہ خوار شاعروں کا جھرمٹ ہے یا نہیں یاد رکھیے تاریخ کو صرف فتوحات اور کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ کوئی عذر قبول نہیں کرتی۔ تاریخ کا دھارا اپنے سینے میں بہت کچھ سموئے ہوئے ہے جس میں ہمارے لئے بہت کچھ عیاں ہیں ذرا غور کریں دنیا ترقی کی ان بلندیوں پر پہنچ چکی ہے جہاں یورپ چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقی مراکز قائم کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے وہیں ہم جیسے ملک سائنس و ٹیکنالوجی‘ علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لا حاصل بحثوں کا شکار ہو کر زوال کے گرداب میں پور پور ڈوب چکے ہیں۔
قدرتی وسائل سے مالا مال بہترین جغرافیائی خد و خال رکھنے والے ملک کو ہم نے کس نہج پر پہنچا دیا ہے تبدیلی اور ترقی اس کائنات کا مستقل عمل ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ قومی قیادت ان تبدیلیوں کے رونما ہونے سے قبل ان کو بھانپتی اور اس کے مطابق ایکشن پلان ترتیب دیتی لیکن حا لات ایسے ہیں کہ حکمرانوں کے اعلانات کے باوجود بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں کاروبار نہیں کرنا چاہتی جس سے جدید پراڈکٹس لوکل لیول پر بننا شروع ہو جائیں لیکن ملک کے معاشی اور سیاسی حالات ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ ملک میں موجود کمپنیاں بھی اپنا بوریا بستر گول کر رہی ہیں اور لاکھوں بے روزگار نوجوان بیرون ممالک چلے گئے ہیں۔
مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے عوام کی نسیں پھول چکی ہیں دو وقت کی روٹی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے ہماری معاشی پس ماندگی کا اصل سبب برطانوی دور کا یہ نظام ہے جس کا مقصد اس خطے کے عوام کو پس ماندہ رکھ کر انسانی بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے اور انہیں ذہنی غلام بنا کر ملک کے وسائل کو ہڑپ کرنا ہے اور ہمارے حکمران انہی مقاصد کو پایہ تکمیل پہنچانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ آج کا تقاضا یہ ہے کہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی تبدیلی کی بجائے اس فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لئے شعوری جدوجہد کا راستہ اختیار کریں کیوں کہ مسائل کی اصل جڑ اور ملکی ترقی میں حائل اصل رکاوٹ یہ فرسودہ نظام ہے۔
بد قسمتی سے ملک کو ایسی سیاسی قیادت میسر نہیں آئی جو صحیح معنوں میں ملک و ملت کے مفادات کے تحت اقدامات اٹھاتی بلکہ اس ملک میں مفاداتی سیاست نے ایسے پنجے گاڑے کہ یہ ملک ترقی کی بجائے پستی میں دھنستا چلا گیا جس کے باعث آج یہ ملک غربت و بے روزگاری ’مہنگائی‘ کرپشن ’معاشی پستی اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک چند خاندان ایسے ہیں جو ملکی سیاست کے داتا بنے ہوئے ہیں سو کے قریب ایسے بڑے خاندان ہیں جن کے خاندان کے لوگ بلاواسطہ یا بالواسطہ ہر دور میں پارلیمان میں موجود ہوتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست مین تعلیم یافتہ‘ اہل اور دیانتدار لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے دوسرا وسائل کا بے جا استعمال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی اہل اور ایماندار آدمی سیاست میں آ کر انتخاب لڑ سکے۔ چند ممبران آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں یہ لوگ بھی اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک ہوتے ہیں اور یہ بھی اس ظالم ’منافقانہ‘ سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کے محافظ ہوتے ہیں اور ایسے خود ساختہ نظام کو یہ جمہوریت کا نام دیتے ہیں اور یہ کرپٹ جمہوری نظام ان لوگوں کا محافظ ہے اس نظام کو یہ یورپ اور امریکہ سے تو جوڑتے ہیں لیکن یورپی ممبران پارلیمنٹ کے کردار اور وفاداری کی تقلید نہیں کرتے ہیں۔
پاکستان کے جمہوری نظام میں عوام کو کس حد تک جمہوری لوازمات میسر ہیں یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے روٹی ’کپڑا‘ مکان ’تعلیم اور صحت کی سہولیات بہم پہنچانا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن یہ سب باتیں انتخابی نعروں تک محدود ہیں جو جمہوری نظام کی نفی ہے۔ جہاں ہم پہنچ چکے ہیں یہ ہماری منزل نہیں تھی جہاں ہم نے جانا ہے یہ وہ راستہ نہیں ہے۔ ہماری فلاح اسی میں تھی کہ ہم محنت‘ خود انحصاری اور لمبی منصوبہ بندی کو شعار بناتے ہمارا آج کل سے جڑا ہوتا تاکہ ہماری کل کی نسل ہمارے آج کے مسائل سے آزاد نئے جہانوں کی تسخیر اور تعمیر میں سرگرداں ہوتی۔ لیکن یہ خواب و خیال کی باتیں ہیں جمہوریت کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں اور عوام ایسی بھولی بادشاہ ہے کہ وہ پھر سے انہی کو اقتدار سونپنے کی ٹھان لیتی ہے بقول شاعر اس نظام پر یہ بات تو صادق آتی ہے
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں


