جنگ 71ء: بھارتی بحریہ کی ناکہ بندی توڑنے والی راجشاہی کی کہانی
1965 کی جنگ میں دشمن کو گھر جاکر مارنے والی پاک بحریہ جنگ 71 میں بالکل مختلف بحریہ تھی 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد لگنے والی فوجی پابندیوں نے جہاں پاکستان کی بری اور فضائی افواج کو متاثر کیا وہیں پاک بحریہ بھی ان پابندیوں کا شکار ہوئی، ایک مارشل لاء کے بعد دوسرے مارشل لاء سے ملکی حالات مزید خراب ہو گئے مشرقی پاکستان میں آنے والے ”بھولا“ طوفان نے تباہی مچا دی، جس سے بد اعتمادی بڑھنا شروع ہوئی، قیادت داخلی معاملت میں الجھی ہوئی تھی، سیاسی جوڑ توڑ کا بازار گرم تھا، الیکشن ہوئے، مجیب اکثریت لے گئے، لیکن اقتدار ان کو دینے سے یحییٰ خان گریزاں رہے، بھٹو کو اپنی سیاست چلنی تھی، لیکن چوتھا فریق بھارت ایک چال کے بعد دوسری چال چل کر پاکستان کو مفلوج کرنے کے لئے متحرک تھا مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے لئے مسافر طیارے گنگا کا اغواء بھارت کی سازش میں شامل ہونے کی پہلی حرکت تھی، اس کے بعد فضائی نقل و حمل کے لئے پی آئی اے کے طیارے سری لنکا کے راستے مشرقی پاکستان جانے لگے، بھارت روس دوستی معاہدے کے بعد تو بھارت کو مغربی ذرائع سے لگنے والی پابندی کی فکر سے آزادی مل گئی، اس نے مکتی باہنی کو منظم کیا، اپنی افواج کو بہتر اسلحہ سے مسلح کر لیا، یہاں
ڈھاکہ کے اسمبلی اجلاس کے التوا ء نے بد اعتمادی میں اضافہ کیا، آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا، مجیب کی پارٹی کی قیادت کلکتہ فرار ہو گئی، پھر ایک خانہ جنگی شروع ہو گئی، مشرقی پاکستان میں پھیلی بد دلی نے نیوی کے افسر اور سیلرز کو بھی متاثر کیا، مشرقی پاکستان میں نیوی کی حالت اور بھی زیادہ خراب تھی، اگر داخلی معاملہ رہتا تو بات مختلف تھی، مکتی باہنی کے ساتھ طویل گوریلا جنگ جاری تھی کے بعد بھارت نے 22 نومبر کے دن مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا، سپلائی پہلے ہی کٹ چکی تھی، مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے، لیکن دلیر سرفروش وہاں بھی تھے، جو سپلائی کے بغیر لڑتے رہے، سرنڈر نہیں کیا، اپنے آزادی کی قدر کی اور ایک مختلف راہ کا انتخاب کیا، شاید آج فرار کے لفظ کو غلط پیرائے میں سمجھا جائے، لیکن اپنی جان بچانا تو فطرت انسانی ہے، اور عالمی اصولوں کے مطابق یہ حق تسلیم شدہ ہے، نہ ہوتا تو جنیوا کنوینشن میں اصول تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایسے ہی سرفروشوں کی، جنہوں نے دشمن کے ہاتھ قیدی بنے کے بجائے آزادی کو ترجیح دی، یہ ایک خطرناک فرار کی کہانی ہے، جوگن بوٹ راجشاہی اور اس کے سرفروش عملے نے رقم کی۔
مشرقی پاکستان میں نیوی کو بہتر کرنے کے لئے برطانیہ کی ایک کمپنی کو چار ٹاؤن کلاس کشتیوں کا آرڈر 5 اکتوبر 1963 ء کو دیا گیا تھا، اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ یہ کشتیاں دریائی گزرگاہوں کے ساتھ ساتھ سمندر میں بھی بوقت ضرورت استعمال ہو سکیں، تاکہ ممکنہ دراندازی اور اسمگلنگ کے تدارک ہو سکے، یہ کام برطانیہ کی مشہور کشتی ساز کمپنی بروک میرین نے قصبے لواسٹوفٹ میں مکمل کیا، راجشاہی اور سہلٹ سب سے پہلے اپریل 1965 ء میں برطانیہ میں واقع کمپنی کی پاٹ اسماتھ کی اپنی جیٹی پر پاک بحریہ کے سپرد کی گئیں، جبکہ 8 مارچ 1966 ء کے دن چٹاگانگ پورٹ پر اس سلسلے کے پہلی کشتی پی این ایس راج شاہی سیریل نمبر پی۔
140 پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل کی گئی، یہ ٹاؤن کلاس بڑی گشتی کشتیاں (Large Patrol crafts ) تھیں یہ شاندار کشتی مشرقی پاکستان کے حساب سے ایک اچھا اضافہ تھی، لیکن یہ جنگی لحاظ سے کوئی جارحانہ ہتھیار ہرگز نہ تھی، ان کشتیوں پر اس وقت صرف دو عدد طیارہ شکن توپیں ( بوفور 40 ملی میٹر) نصب تھیں جو تیز رفتار طیاروں کے خلاف موثر نہیں تھیں۔
مشرقی پاکستان میں پاک بحریہ کے پاس یہی چار کشتیاں تھیں، بھارت نے جب مداخلت کار بھیجنا شروع کیے دریائی اور زمینی رسد کے راستوں پر چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی تو مزید چھوٹی کشتیوں اور لانچوں پر مشین گنز لگا کر مسلح کیا گیاتاکہ مکتی باہنی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف افواج پاکستان کی بھر پور مدد کی جا سکے، مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے سڑکیں محفوظ پہلے ہی نہیں تھیں، بھارتی فروگ مین ٹریننگ ملنے کے بعد کشتیوں، لانچوں اور بعد میں چھوٹے بحری جہازوں پر بھی حملے شروع ہو گئے، جن کی حفاظت کے لئے یہ گن بوٹس نہایت اہم کردار ادا کرنے لگیں، مشرقی پاکستان کی سوئز کنال سمجھی جانے والے گب خان کنال کو مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں بطور اسٹیج استعمال کرنا شروع کر دیا، یہ خطرناک صورتحال تھی، شورش کا دائرہ کافی بڑا تھا، مکتی باہنی نے اپریل میں ایک اہم قصبے باڑھی سیال پر قبضہ کر لیا، جس کو واگزار کرانے کے لئے آپریشن باڑھی سیال شروع ہوا، جس میں پاکستان کی بری افواج کو انھی ٹاؤن کلاس بوٹس کے ذریعے ان علاقوں میں پہچانے کا ذمہ پاک بحریہ نے لیا، مکتی باہنی والوں نے ایک دریائی اسٹیمر ایم وی آسٹرچ کو اپنی کمین گاہ بنایا ہوا تھا اور اس بطور مورچہ استعمال کر رہے تھے، 25 اپریل 1971 نیم شب پاک افواج کے ہمراہ اپنے ہدف کی جانب روانہ ہوئے، 26 اپریل کی صبح 8 : 45 پر آپریشن کا آغاز ہو گیا جس میں بری افواج کی جانب سے بائیسویں فرنٹیئر فورس رجمنٹ اور چھٹی پنجاب رجمنٹ نے حصہ لیا، پی این ایس راج شاہی اس آپریشن میں سب سے آگے تھی، جس پر ایم وی آسٹرچ کی جانب راجشاہی کے برج پر فائر نگ شروع ہو گئی، جس پر موقع پر موجود کمانڈر لیفٹیننٹ اے کیوخان کے سینے پر لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے، اسی دوران راجشاہی کی جانب سے بھی ایم وی آسٹرچ پر کاری فائر نگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کی وجہ سے مکتی باہنی کے گوریلے اس اسٹیمر کو چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، دشمن پر حملے میں پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں نے بھی حصہ لیا، بری فوج کی جانب سے اس آپریشن کی قیادت کرنے والے چھٹی پنجاب رجمنٹ کے راجہ نادر پرویز (جو کافی بعد میں مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں وزیر بھی بنے ) سے درخواست کی گئی کہ کمانڈر راجشاہی کے لئے مدد طلب کریں، اور اسی وجہ سے سے کمانڈر اے کیو خان کو آرمی کے ایک ایم آئی۔سترہ یلی کاپٹر سے ڈھاکہ میں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ پاکستانی سپاہ کو کشتی کے ذریعے مطلوبہ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ فرار ہوتی مکتی باہنی کی جانب سے ایم وی آسٹرچ سے دوبارہ فائر کھول دیا، پی این ایس جیسور اور پی این ایس راج شاہی سے ہدف کی صحیح نشاندہی کی وجہ سے پاک فضائیہ کی 14 th اسکواڈرن کے پائلٹس کو زیادہ دقت نہیں ہوئی جو اسکواڈرن لیڈر پرویز مہدی قریشی (جو بھارت کی جنگی قید میں بھی رہے اور بعد میں پاک فضائیہ کے سربراہ میں بنے ) کی قیادت میں اس آپریشن میں شامل تھے۔
مکتی باہنی والے مختلف اقسام کی مشین گنوں اور مارٹرز سے مسلح تھے، شام ڈھلنے سے ذرا پہلے پاک افواج نے باڑھی سیال پولیس اسٹیشن پر قبضہ چھڑایا، گن بوٹس کے ذریعے اس علاقے کی جیٹز کو کلیئر کیا گیا، یہ آپریشن آج بھی افواج پاکستان کی رابطہ کاری اور مل کر آپریشن ( Combine Ops ) میں ایک مثالی آپریشن تصور کیا جاتا ہے۔
جنگ کے خطرے کے پیش نظر پاکستان نیوی نے چٹاگانگ پورٹ کے گرد و نواح بارودی سرنگی بچھادیں تھیں، تاکے بحری حملے کی صورت میں دشمن کو کم از کم کسی حد تک محدود رکھا جا سکے، یہ کام بھی انھی گن بوٹس کے ذریعے مکمل کیا گیا، تقریباً سارا سال مکتی باہنی والوں سے جنگ جاری رہی پھر بائیس نومبر کو بھارت نے باقاعدہ اور براہ راست فوجی کارروائی شروع کردی، جس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے تین دسمبر کو باقاعدہ جوابی کارروائی شروع کی گئی، دونوں بازؤں اب جنگ میں شامل ہوچکے تھے۔
بھارت کی جانب سے اس کا طیارہ بردار جہاز آئی این ایس و کرانت خلیج بنگال میں متعین تھا، جس متعین سی ہاک طیارے، اور بھارت کے مختلف ہوائی اڈوں سے اڑ کر آنے والے لڑاکا اور بمبار طیاروں نے مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں پر آگ برسانا شروع کی تو چٹاگانگ کی بندرگاہ میں ان کے نشانے پر آئی، 4 دسمبر 1971 ء کو بھارتی فضائیہ کے نو ہنٹر طیاروں کے حملے میں پی این این ایس کو میلا سیریل نمبر پی۔ 142 ڈوب گئی، ایسے ہی ایک حملے میں سہلٹ سیریل نمبر پی۔
143 بھی غرقاب گئی، یہی کچھ تیسری کشتی پی این ایس جیسور سیریل نمبر پی۔ 141 پر گزری۔ چٹاگانگ میں ہی ہندوستانی طیاروں کی زد میں پی این ایس راج شاہی بھی آئی، ان حملوں میں اس کے عملے کا رکن اے بی محمد عبداللہ بٹ شہید جبکہ چھ زخمی ہوئے، زخمی ہونے والوں میں راجشاہی کی کمانڈر لیفٹیننٹ محمد احمد بھی شامل تھے، اس کے ہل میں تقریباً ستر سوراخ موجود تھے اس کے انجن روم میں آگ تک لگی، لیکن خوش قسمتی سے انجن سلامت تھا، اب اس کی قیادت لیفٹیننٹ سکندر حیات خان کے ہاتھ میں تھی۔
جنگ میں ہار جیت ایک الگ بات ہے، لیکن جنیوا کنوینشن کا اطلاق تو دو ملکوں کی افواج پر ہوا کرتا ہے، یہ مکتی باہنی تو باقاعدہ تسلیم شدہ فوج نہیں تھی، ان ذریعے قبضے کا فائدہ بھارت تو اٹھا سکتا تھا، لیکن ان کی قید میں جانے والوں کو کیسے جنیوا کنوینشن کا فائدہ ہو سکتا تھا، پھر بھارتی طیارہ بردار جہاز نے مشرقی پاکستان کی خلیج بنگال میں مکمل ناکہ بندی کر رکھی تھی، جان بچانا تقریباً نا ممکن تھا، سپلائی پہنچ نہیں سکتی تھی، پھر فرار ایک آپشن تھا، یہ کام مشکل تھا اور اس میں بھی جان کا خطرہ بہت تھا، دشمن کے حملے کی صورت میں ڈوبنا بالکل یقینی اور پھر قید ہو جانے کی فکر الگ، لیکن مکتی باہنی کے ہاتھ لگنے سے یقینا یہ مشکل آسان محسوس ہوتی ہے، پھر اس فرار میں امید تو تھی۔
بھارتی بحریہ کی سمندری ناکہ بندی کو توڑنا سب سے بڑا چیلنج تھا، بھارتی طیارہ بردار جہاز بدستور شمال کی جانب بڑھ رہا تھا، ان حالت میں یہ فرار کسی چیلنج سے کم نہیں تھا، کوئی آج کچھ بھی کہے، ان حالات میں یہی ایک فیصلہ صحیح تھا۔ سوال یہ نہیں تھافرار کیسے ہوا جائے بلکہ یہ بھی تھا کہ کہاں جایا جائے، برما سب سے قریب تھا، لیکن وہاں سے مدد ملنے کا امکان کم تھا، دوسرا آپشن انڈونیشیاء تھا، لیکن بھارت کے انڈومان جزائر کے قریب ہونے کی وجہ سے حملے کی زد میں آنے کا امکان وہاں موجود تھا جبکہ ملائشیا تیسرا آپشن ہو سکتا تھا، جو ایک محفوظ مقام معلوم ہوتا تھا بالآخر فیصلہ ملائشیا کے حق میں ہوا۔
یہ طے پایا کے 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی رات بھارتی بحریہ کی ناکہ بندی توڑ کر نکلا جائے، جیسے پہلے ذکر ہوا کہ کشتی پہلے بھی زد میں آ چکی تھی، اس کو اس قابل رکھ کر نیوی کے عملے نے کمال کیا ہوا تھا، اب اگلا امتحان کمانڈر سکندر حیات خان اور کشتی پر سوار دیگر عملے کا تھا، ظاہر ہے راستے میں بارودی سرنگیں بھی تھیں اور راستے میں ہندوستانی بحریہ کی نگاہ سے بچنے کے لئے پینترے بازی بھی کرنا تھی۔
ہم سب ہی جانتے ہیں 16 دسمبر 1971 ء ایک یوم سیاہ ہے، اسی دن ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں سرنڈر کی دستاویز پر دستخط ہوچکے تھے، لیکن چٹاگانگ میں بھارتی بحریہ ابھی تک قبضہ لینے نہیں آئی تھی، کپتان سکندر حیات کی قیادت میں 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی شب، تین کے بجے کے وقت راجشاہی چٹاگانگ پورٹ سے روانہ ہوئی، کشتی میں مجموعی طور پر مقررہ تعداد سے زائد افراد سوار تھے جن میں نیوی کے 43، دو افسران پاکستان ائر فورس کے اور ایک افسر قومی ائر لائن سے تعلق بتایا جاتا ہے، چٹاگانگ سے پیننگ پورٹ تک کا مجموعی فاصلہ 1496 سمندری میل کا ہے، رات کے وقت بارودی سرنگوں کے حصار کو عبور کیا گیا، دشمن کسی قسم کی ٹرانسمیشن کے ذریعے راجشاہی کو ڈھونڈ نہ پائی اس کے لئے مکمل ریڈیو سائلنس رکھا گیا، چار دن چار راتوں کا سفر کسی امتحان سے کم نہ تھا یہ کشتی کسی بھی لڑاکا طیارے کے لئے ایک آسان ہدف تھی، وکرانت سے اڑ کر آنے والے کسی بھی طیارے سے اس کو ڈھونڈا بھی جاسکتا تھا، مطلب راستہ کٹھن تو تھا ہی حملے کا خطرہ سارا وقت تھا۔
اکیس دسمبر 1971 پی این ایس راجشاہی اپنے افسران، سیلرز اور دیگر مسافروں کے ہمراہ ملائیشیا کی بندرگاہ پینانگ پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ ملائشیا کی حکومت اور ان کی بحریہ نے بہترین سلوک کا مظاہرہ کیا، ہر قسم کا تعاون ان کی جانب سے دیکھنے میں آیا۔ ملائشیا میں بسے پاکستانی بھی اس تعاون میں شامل تھے جن کی وجہ سے چوالیس افراد قومی ائر لائن کے ذریعے وطن واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ 10 فروری 1972 ء کے دن کمانڈر لیفٹیننٹ سکندر حیات خان راجشاہی کے 7 رکنی کریو کے ہمراہ واپس کراچی پہنچ گئے۔ لیفٹیننٹ سکندر حیات خان کو اس بہادری کے صلے میں ستارہ جرات سے نوازا گیا۔ پی این ایس راجشاہی آج 57 سال کے بعد بھی اپنی شاندار تاریخ کے ہمراہ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل ہے اور متحرک ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن نے 1998 میں اس حوالے سے ایک خصوصی طویل دو رنیہ کا کھیل ”فیصلہ“ بنایا جس میں ہدایات کاظم پاشا کی تھیں، نمایاں اداکاروں میں نبیل، اعجاز اسلم، فرحان علی آغا، طلعت اقبال، رضوان واسطی مرحوم اور عمران انصاری شامل تھے، اس کی بیک گراؤنڈ تھیم استاد جاوید اللہ دتہ نے بنائی تھی، یہ خصوصی کھیل یوم بحریہ پر نشر ہوا، اس کی خاص بات یہ بھی تھی یہ اصل پی این ایس راجشاہی پر ہی شوٹ ہوا۔





