9 مئی اور ایک لایعنی دلیل

”نرگسّیت (NARCISSISM) ایک موذی مرض ہے۔ اس مرض میں مُبتلا شخص خُود کو عقلِ کُل سمجھنے لگتا، دل ودماغ کے سارے دَر دریچے، نصیحت، صائب مشورے اور حرفِ خیر کے لئے بند کرلیتا اور اپنی ذات کی قصوری چکی میں قید ہوکے رہ جاتا ہے۔ وہ اپنے دل میں ایک مندر بناتا، اپنا بت تراش کر کسی چبوترے پہ رکھتا اور مسلسل اس کی پوجاپاٹ میں لگا رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس پہ ایمان لائیں، اس کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کو وحی کا درجہ دیں اور اس کے حضور دست بستہ سربہ زانو کھڑے رہیں۔ وہ گزرے کل کو بھول کر ہر روز ایک نیا بیانیہ اور نیا موقف بنانے کے ہُنر میں طاق ہوتا ہے اور اپنی غلطیوں کے مضحکہ خیز جواز کو بھی افلاطونی دلیل سمجھنے لگتا ہے۔ عمران خان کی پوری سیاست، اوّل وآخر اسی نرگسّیت کی عبرت آموز کہانی ہے۔
9 مئی، اس نرگسّیت کا نقطہِ کمال تھا۔ ”کوئی مجھے چھُو بھی نہیں سکتا۔ کوئی مجھے گرفتار نہیں کر سکتا۔ میں ناقابل تسخیر ہوں۔ کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو میں ’خطرے ناک‘ ہو جاؤں گا اور پورے ملک میں قیامت بپا کردوں گا۔“ وہ متکبرانہ جلال وجمال کے ساتھ اپنے مدّاحوں کے دل ودماغ میں بارود بھرتے رہے۔ اپنی گرفتاری سے پہلے ہی انہوں نے خود کو ”ریڈلائن“ قرار دے رکھا تھا۔ 9 مئی بظاہر کارکنوں کا بے ساختہ پن لیکن درحقیقت ایک منظم سازش کا شاخسانہ تھا۔ اس سازش میں، فوج کے اندر اور باہر کے حلقہ بگوشوں کا کردار متعین تھا۔ دفاعی تنصیبات، علامتوں اور شہداءکی یادگاروں پر حملوں کی حد تک یہ سازش کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ لاہور کور کمانڈر کی رہائش گاہ راکھ کر دی گئی اور فدائین راولپنڈی میں جی۔ ایچ۔ کیوکے پھاٹک تک جاپہنچے۔ بلوائیوں کی اس بڑی کامیابی کے باوجود وہ عناصر متحرک نہ ہو سکے جنہیں ”زنجیری ردّعمل“ (Chain Reaction) کے طور پر بلووں کی آگ کو ادارے کے اندر تک لے جانا اور الاؤ بھڑکا کر خان صاحب کی امنگوں میں رنگ بھرنا تھا۔ خان صاحب اُس شدیدردّعمل کا بھی اندازہ نہ لگا پائے جو 9 مئی کے بعد سامنے آیا اور جس نے نہ صرف قومی سیاست کا منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا بلکہ خان صاحب کی سیاست کو بھی رنگا رنگ بیانیوں کا کفن پہنا کر اُن کے دعووں کے آبنوسی تابوت میں ڈالا اور گہری قبر میں دفنا دیا۔ یہ وہ نوحہ ہے جو ہر بپھری ہوئی ”نرگسّیت“ کا مقدر ہوا کرتا ہے۔
ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دلیل تراشنے کے باوجود جب بات نہ بنی تو خان صاحب نے کہاکہ۔ ”یہ دیکھنا چاہیے کہ 9 مئی کا فائدہ کس کو ہوا؟ ہمیں تو نقصان پہنچا ہے۔ سو یہ کام انہی کا کا کیا دھرا ہے جنہیں اس کا فائدہ ہوا ہے۔“
خان صاحب کو کون بتائے کہ حضور! آپ نے سیاست کے میدان میں جس جمناسٹک کو متعارف کرایا اور جو جو ”دانش مندانہ“ اقدامات کیے ، اُن سب کا فائدہ دوسروں ہی کے حِصّے میں آیا اور خسارہ آپ کو سمیٹنا پڑا۔ چلتے چلاتے خان صاحب کی تاریخِ سیاست پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو اُن کی حکمت ودانش کے ایسے ایسے شاہکار دکھائی دیتے ہیں جو خان صاحب کی سیاست کو پیہم زخم لگاتے اور اُن کے حریفوں کو نہال کرتے رہے۔ کوئی پوچھے کہ اقتدار میں آنے اور چاروں طرف سے آتی ٹھنڈی معطّر ہواؤں کے بہار آفریں موسموں میں آپ کو کیا سوجھی کہ فوری طور پر جنرل عاصم منیر کو آئی۔ ایس۔ آئی چیف کے منصب سے ہٹانے کی ضد لے بیٹھے؟ اس کا خسارہ کسے ہوا اور فائدہ کسے؟ جنرل فیض حمید کو اپنے اقتدار کے لئے ناگزیر سمجھ لینے اور اُن کے سائبان تلے عشروں کی حکمرانی کا منصوبہ کس نے بنایا اور اس سے کیا حاصل ہوا؟ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے حکیمانہ فیصلے سے آپ کو کیا ملا؟ جب کوچ نقارہ بجنے لگا تو اُسی جنرل باجوہ کو توسیعِ مزید کی پیشکش کیا پھل لائی؟ سائفر کا نام دے کر کاغذ کے ایک پرزے سے کھیلنے، امریکہ کو مطعون کرنے اور پھر اُس کی خوشنودی کے جتن کرنے کا مشورہ کیا اپوزیشن نے دیا تھا؟ تحریک عدم اعتماد کی آئینی مشق پر آتش زیرپا ہونے، قاسم سوری سے ایک حیا سوز رولنگ دلوانے کا کیا فائدہ ہوا؟ راتوں رات قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے جمہوریت کُش اقدام سے کیا ہاتھ آیا؟ فرطِ طیش میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں سے آپ کمزور ہوئے یا آپ کے حریف؟ پھر عدالتوں کے ذریعے اُسی قومی اسمبلی میں واپس آنے کی مشقِ رائیگاں نے کن چہروں پر کالک تھوپی؟ جب مئی 2022 میں طے پاگیا کہ پی۔ ڈی۔ ایم حکومت مستعفی ہو کر اسمبلیاں توڑ رہی ہے اور اگست 2022 میں انتخابات ہوجائیں گے اور جنرل باجوہ نے خود آپ کو اس کی ضمانت بھی دے دی تو 25 مئی کو اسلام آباد پر چڑھائی کا مقصد کیا تھا؟ اس کا فائدہ یا نقصان کس کو ہوا؟ جنرل باجوہ کے دستِ معجز نما اور عدلیہ کی رسوائے زمانہ آئینی تشریح پر بننے والی پنجاب حکومت اور اسمبلی کو رُخصت کر کے کسے فائدہ ہوا؟ دس برس سے خیبرپختونخوا میں قائم اپنی حکومت اور اسمبلی پر کلہاڑا چلانے سے کون سا مقصد حاصل ہوا؟ نومبر 2022 میں جنرل سید عاصم منیر کا راستہ روکنے کے لئے راولپنڈی پر چڑھائی سے پی۔ ٹی۔ آئی کو کیا حاصل ہوا؟ اعلی فوجی عہدیداروں پر، نام لے لے کر، قتل کرنے کی سازش کا الزام لگانے سے آپ کے نامہ ¿ِ اعمال میں کتنا حُسن آیا؟ آئی۔ ایم۔ ایف سے معاہدہ روکنے کی کوششیں آپ کے کس کام آئیں؟
کالم کی تنگ دامانی آڑے آ رہی ہے ورنہ خان صاحب کے ایسے کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے جن سے اُن کی جھولی میں تو کچھ نہ آیا، البتہ ان کے حریفوں کو ناقابلِ تصوّر حد تک فوائد حاصل ہوئے۔ اگر نفع ونقصان والی دلیل مان لی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ تمام اقدامات خان صاحب کے نہیں، اُن کے مخالفین کے تھے یا پھر اُن کا کوئی ”ہمزاد“ یہ سب کچھ کیے جا رہا تھا۔ ایک نقطہ ¿ِ نظر یہ بھی ہے کہ خان صاحب نے جو کچھ کیا، چند غیرسیاسی مگر موثرمشیروں کی شہ پر کیا۔ سیاسی شعور اور حرکیات سے بے بہرہ ہونے کے سبب وہ آنکھیں بند کر کے چلتے رہے اور آج دہکتے ہوئے دشتِ بے اماں میں یکّہ و تنہا کھڑے ہیں۔
عمران خان کی سب سے بڑی غلطی، جسے ”اُمّ الاغلاط“ کہا جاسکتا ہے، یہ تھی کہ وہ صدقہ وخیرات اور عطاؤ وبخشش کے فراخ دلانہ بہاؤ کے بل پر فلاحی اور رفاہی منصوبوں کے دیار خیروبرکت سے سیاست کی طرف آنکلے جو سرے سے اُن کے خمیر میں نہ تھی۔ اُن کے پاس کرکٹ کا ہیرو ہونے کا چیک تھا۔ اس چیک کو کیش کراکے انہوں نے اچھے اداروں کی بنیاد ڈالی۔ پھر وہی چیک اٹھائے وہ سیاسی بنک کے کاؤنٹر پر آکھڑے ہوئے اور بھول گئے کہ ایک ہی چیک دوبار کیش نہیں ہو سکتا ۔ المیہ یہ کہ اب اُن کے پاس آبرومندانہ واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں بچا اور اس سے بھی بڑا سانحہ یہ کہ وہ اپنے عہد اقتدار اور عرصہ سیاست میں کوئی ایک بھی روشن روایت نہ ڈال سکے جس کی یاد محرومیوں کی طویل یخ بستہ سیاہ راتوں میں اُن کے لئے جگنو ستارہ بنے۔


حق نمک ادا کرنا کوئی ان سے سیکھے ۔عمران پہ تبرا بھیجنے سے اگر فرصت مل جائے تو سینٹ میں جو قومی خزانے پہ واردات ڈالی گئی ہے اس پہ بھی ذرا خامہ فرسائی فرما دیجئے گا ۔ اس غریب ملک کے خزانے کو شیر مادر سمجھ کر پینے والوں میں آپ بھی شامل ہیں۔