کالونیل عہد کا کمپنی قانون: پاکستان میں 31 خاندانوں کی اقتصادی حاکمیت
نوآبادیاتی عہد میں، برصغیر میں صنعتی ترقی جامد کرنے کے لیے برطانوی مقتدرہ نے قوانین کا سہارا لیا اور ان قوانین کی بنیاد پر ہندستان میں انگریزوں کی حاکمیت اور ایلیٹ خاندان کے باہمی تعلقات کو مضبوط کیا گیا۔ یورپی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے سے سیاسی حاکمیت قائم کرنے کا تجربہ سب سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا۔ قومی مالیاتی نظام پر کمپنیوں کے ذریعے سے اقتصادی بالادستی اور سیاسی کنٹرول کی جڑوں کو مضبوط کرنے لیے سٹاک مارکیٹ کا حربہ اختیار کیا گیا، یوں کمپنیوں کی بنیاد پر خاندانوں کی اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ معیشت کو دوام بخشا گیا۔ برصغیر میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے نافذ کیا گیا کمپنی ایکٹ 1913 ء اس کی کلاسیکی مثال ہے۔ مذکورہ ایکٹ کے تیسرے حصے میں کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو لامحدود اختیارات سونپے گئے اور اس کے ساتھ انھیں لامحدود کمپنیوں میں ڈائریکٹرز کے عہدوں پر تقرری کی قانونی اجازت دی گئی۔
کمپنی ایکٹ میں یہ شق رکھنے کا بنیادی مقصد، کمپنیوں میں تعینات یورپی ڈائریکٹرز کی طاقت کو پھیلانا تھا۔ 1911 ء تک، ہندستان میں 373 جوائنٹ سٹاک کمپنیاں آپریٹ کر رہی تھیں تاہم ان کمپنیوں کے مرکزی دفاتر یورپی ممالک تھے، انھی کمپنیوں کے تحفظ کے لئے کمپنی ایکٹ نافذ کیا گیا۔ تقسیم ہند کے بعد ، پاکستان جب برطانیہ کی ڈومینین (ماتحت) ریاست بنا تو اسی کمپنی ایکٹ کو ملک میں نافذ کیا گیا۔ کمپنی ایکٹ کی بناء پر ہی جنرل ایوب خان کی آمریت کے دوران 1968 ء تک 22 خاندان قومی معیشت کے اجارہ دار بن کر ابھرے۔ ان خاندانوں کی سب سے پہلے نشاندہی محبوب الحق نے 1973 ء میں لندن ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کی تھی۔
پاکستان میں نافذ کیا گیا یہ کمپنی ایکٹ، ایسے ایلیٹ خاندان کی نشوونما اور تحفظ کا ضامن بنا جنھوں نے قومی سیاسیات و اقتصادیات کو اپنے مفادات کے تابع کر لیا اور قومی سوال، ان کے ذاتی مفاد کے گرد ہی گھومنے لگا۔ پاکستان کے ایلیٹ خاندانوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انھی قوانین کے تحت اپنا تسلط قائم کر کے ملکی معیشت کو زبوں حالی کا شکار کیا، ابھی حال ہی میں عمران خان کی حکومت نے پاکستان کے سرمایہ دار طبقات کو نوازنے کے لیے تین بار ٹیکس ایمنیسٹی سکیم نافذ کی جس سے کالے دھن کو سفید کرنے والی اشرافیہ نے خوب فائدہ اٹھایا، اس سے پہلے نواز شریف بھی ایسی سکیمیں نافذ کر کے ایلیٹ طبقات کو ٹیکس چھوٹ دے کر معاشی فوائد پہنچاتے رہے ہیں، ان اسکیموں کا قومی اقتصادیات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
پہلے آئی ایم ایف سے سود پر نیا قرض ملنے پر شادیانے بجے اور جیسے ہی 9 مہینوں کی مدت کے لیے 3 ارب ڈالرز کا قرض منظور ہوا تو جناب وزیر اعظم سمیت، پاکستان کے اکنامک ہٹ مین جناب اسحاق ڈار نے معاشی بہتری کے اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے، سٹاک مارکیٹ کے چڑھاؤ کو اچھا شگن قرار دیا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر قومی میڈیا لچھے دار خبریں پیش کر کے قومی اذہان کو مزید گمراہ کرنے میں سہولت کار بن جاتا ہے ۔ کارپوریٹ میڈیا میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پوائنٹس کی بہتری کے چرچے ہیں، عام آدمی کو تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ہیئت حاکمہ کی نگرانی میں قائم پی ڈی ایم حکومت اور اکنامک ہٹ مین کی تاریخی کوششوں کے باعث قومی معیشت میں مثبت رجحان پیدا ہو گیا ہے جبکہ حقائق منافی ہیں۔
چوں کہ میڈیا کلی طور پر ، اجارہ دار طبقات کا سہولت کار بن کر قومی سوال کو پس پشت ڈال چکا ہے اس لیے ہمیں پاکستان کے اقتصادی مسائل کو سمجھنے کے لیے آزادانہ تحقیقی امور کار فرما لانا ہوں گے۔ سٹاک ایکسچینج مارکیٹ پر 31 ایلیٹ خاندانوں کے قبضہ کی واردات کو ”ایک چھوٹا کلب: پاکستان کی مالیاتی منڈیوں میں تقسیم، طاقت اور نیٹ ورک“ کے عنوان سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی رپورٹ میں عیاں کیا ہے۔ قومی میڈیا ان کمپنیوں کا طفیلی ادارہ ہونے کے باعث، اس رپورٹ پر عوامی ذہن سازی کرنے سے گریزاں رہا۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں کمپنیوں کے نام سے خاندانوں کی اقتصادی حاکمیت و بالادستی کو سمجھنے کے لیے یہ رپورٹ بلیو پرنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان کے پرولتاریہ دشمن سرمایہ داروں نے کارپوریٹ نیٹ ورک تشکیل دے کر کمپنی بورڈز کے ڈھانچوں میں اپنے رشتے داروں کو عہدوں پر تعینات کر رکھا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے ایسا ایلیٹ کلب استوار کیا گیا ہے جس میں تکون کے طور پر بیوروکریسی اور ریٹائرڈ جرنیل بورڈز میں تعینات ہیں۔ حالیہ پاکستان اکنامک سروے کی رپورٹ کے تناظر میں اگر پائیڈ ورکنگ پیپر کا مطالعہ کریں تو سرمایہ داروں کی ستم کاریاں عیاں ہوتی ہیں کہ پاکستان کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 6.8 کھرب روپے ہے جس میں سے تقریباً 5 کھرب روپے مالیت کے شیئرز کی ملکیت ان خاندانوں کے پاس ہے اور سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ 374 کمپنیوں پر ملک کے 31 خاندانوں کا قبضہ ہے۔
چنداں، یہ قارونیت زدہ ذہنیت کے حامل سرمایہ پرست بین الاقوامی کارٹل کا حصہ بن کر قومی معیشت پر مزید اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں۔ پائیڈ رپورٹ نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقامی کمپنیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بھی عیاں کیا، ملٹی نیشنل کمپنیاں، ان 31 خاندانوں کی زیر ملکیت کمپنیوں کے اشتراک سے پاکستان کے شیئر ہولڈرز کے سرمائے کو کنٹرول کرتی ہیں۔ پاکستان کی 100 بڑی کمپنیوں میں 880 عہدے ہیں، پاکستانی سرمایہ داروں نے کالونیل عہد کے کمپنی ایکٹ 1913 ء کا سہارا لے کر 880 میں سے 756 عہدوں پر ان 31 خاندانوں کے رشتہ دار اور تکونی طاقت کے سہولت کار فائز ہیں، قومی معیشت کو سٹاک ایکسچینج اور کمپنیوں کے کارٹل کے ذریعے سے کنٹرول کیا جا رہا ہے جس پر ان خاندانوں کا اجارہ ہے۔
داؤد، سہگل، منشا، حبیب، ترین، حسن مجید بٹ، مختار، احمد خان، صدیقی، شیرازی، سید خاندان وغیرہ شامل ہیں۔ سٹاک ایکسچینج پر کنٹرول کرنے والی کمپنیوں میں نیسلے پاکستان، اینگرو، ابراہیم ہولڈنگز، آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ، برٹش امریکن ٹوبیکو، فوجی فاؤنڈیشن، فلپ مورس انویسٹمنٹ، کراچی الیکٹرک سپلائی پاور لمیٹڈ، گلیکسو سمتھ کلائن، فیصل بینک، ملت ٹریکٹر، غنی گلاس، کوہ نور ٹیکسٹائل، آدم جی انشورنس، سوئی سدرن گیس، بینک الفلاح، یونائیٹڈ بینک، ایم سی بی بینک، میزان بینک، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، لکی سیمنٹ، کولگیٹ پامولیو، سسٹم لمیٹڈ، میپل لیو سیمنٹ اور ڈی جی خان سیمنٹ کمپنیاں نمایاں ہیں۔
پاکستان اکنامک سروے نے 7 جون 2023 ءکو جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 29 اقسام کے صنعتی ادارے اور کمپنیاں شامل ہیں اور حیران کن امر یہ ہے کہ ان میں سے 24 کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی گروتھ منفی دکھائی گئی ہے، اگر منفی گروتھ کو حقیقت مان لیا جائے تو پھر یہ کمپنیاں بند ہو جانی چاہیے تھی۔
سٹاک ایکسچینج نے 15 کمپنیوں کو مارکیٹ میں بڑے حصص کی بنیاد پر Blue Chips کی کیٹیگری میں شامل کیا ہے، یہ وہ کمپنیاں ہیں جن کے مارکیٹ میں شیئرز کی تعداد کروڑوں ہے اس میں سے سب سے زیادہ مہنگا شیئر یونی لیور پاکستان فوڈز کا ہے جس کی مالیت 17900 روپے ہے جبکہ نیسلے پاکستان کے شیئر کی مالیت 5017 روپے ہے۔ یونی لیور اور نیسلے اپنے کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے سے الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کی خبروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کووڈ وبا میں مذکورہ دونوں کمپنیوں کے منافع میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ بلیو چپس کیٹگری میں ہی شامل کمپنیاں صرف پانچ سیکٹر پر مشتمل ہیں جن میں ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کا تناسب 13.7 فیصد، شوگر انڈسٹری کا تناسب 9.1 فیصد، بینکوں کا 5.7 فیصد، ٹرانسپورٹ 5.4 فیصد، رئیل اسٹیٹ کا تناسب 5.4 فیصد ہے۔
بلیو چپس کمپنیوں کی کیٹیگری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صنعتی ترقی کا سبب بننے والی کمپنیوں کے برعکس، ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا رجحان پایا جاتا ہے جس کا صنعتی و ٹیکنالوجی کے انقلاب سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ مذکورہ ڈیٹا کی بنیاد پر ، پاکستان میں سرمایہ کاری کے رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ رجحانات غیر پیداواری معاشی سرگرمیوں کی بنیاد پر ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کے ثمرات بحیثیت مجموعی معاشرے پر مرتب نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ ان کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، خاندانی اجارہ دار اور منافع کو نقصان میں دکھانے کی مہارت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب غیر پیداواری اقتصادی ڈھانچہ کو تقویت دینے میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان بھی برابر کا ذمہ دار ہے، گزشتہ ایک سال میں 21 ہزار 117 کارپوریٹ سیکٹر کی کیٹگری میں نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں ان میں بیشتر کمپنیاں رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن پر مشتمل ہیں۔ ان 21 ہزار سے زائد کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن صرف 28 ارب روپے ہے، یعنی کنسٹرکشن انڈسٹری سے جڑے ادارے اپنی حقیقی آمدن کو ڈیکلیئر کرنے سے گریزاں ہے، پاکستان میں لانچ کی گئی بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹوں کی قیمت بتاتی ہے کہ یہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن فریب پر مبنی ہے۔
پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انقلابی اصلاحات کی جائیں بالخصوص کمپنی قوانین میں تبدیلیاں، سٹاک ایکسچینج کے ضابطوں میں تبدیلیاں، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا ضابطہ پر نظر ثانی، کالونیل عہد کے قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ پاکستان کے ایلیٹ خاندان کو کمپنیوں کے توسط سے 3 ارب ڈالرز کے قرض سود کے بغیر مہیا کرنے کی ابتدائی تحقیقات میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بے بس نظر آتی ہے اور کالونیل عہد 1924 ء کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ قومی دولت سے مستفید ہونے والے ایلیٹ خاندان کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
دستور پاکستان کی شق 268 بنیادی طور پر اس وطن کی آزادی میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے جس کے تحت نوآبادیاتی عہد یا پھر غلامی دور کے تمام قوانین و ضابطوں کو پاکستان میں من و عن نافذ رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں قومی اقتصادیاتی نظام کو ملکی بقاء و سالمیت کے تابع بنانے کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی، وگرنہ وطن کی اشرافیہ ایڈم سمتھ کی پیروکار بن کر ، عام پاکستانیوں کا جسم نوچتی رہے گی۔


