بکربیتی, دہشت ناک صحرا کی کہانی
پہلے پہل آپ کو خبردار کر دوں کے ہندوستانی مصنف بنیامین کا لکھا ہوا ناول ”بکربیتی* پڑھنے کے بعد خلیج ممالک میں کام کی غرض سے جانے سے توبہ کریں گے جی ہاں بلکہ آپ اپنے عزیز اقارب کو بھی منع کریں گے۔
اس ناول کو پڑھنے سے آپ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کریں گے کہ جن کو آپ ان کی فراوانی کی وجہ سے نعمت ہی نہیں سمجھتے۔ خاص طور پر تین نعمتوں کو لیکن پہلے تھوڑا کتاب پہ بات کر لیں بعد میں ان چیزوں پہ بات کریں گے۔
یہ قصہ ہے ملیالم بولنے والے ایک ملیالی نجیب کا جو انڈیا میں دریا سے ریت نکالنے کے کام سے بیزار ہوتا ہے اور کچھ ویزوں کا سن کر اپنی بوریا بستر ادھار لے کے تیار کرتا ہے کہ سعودی عرب جاؤں گا، کام کر کے ٹی وی، وی سی آر اور فریج خریدوں گا۔ یہ خواب اس کے اور اس کی حاملہ بیوی کے ہیں جن کی کوک میں نبیل۔ پل رہی ہے۔
نجیب ممبی سے سعودی عرب روانہ ہوتا ہے۔ ائرپورٹ پہنچ کر جب نجیب اور اس کے گاؤں کا ایک لڑکا حکیم ( جن کی ماں نے نجیب کو اس کا خیال رکھنے کو کہا ہوتا ہے ) ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ان کو لینے والا کوئی نہیں آتا رات کو جب ایک پھٹے پرانے پک اپ گاڑی میں ایک بساند بانٹتا عرب آتا ہے تو یہ اسے اپنا شخص سمجھ کے خوش ہو کر ان کی جانب چلتے ہیں وہ انھیں دیکھ کے چھوڑ دیتا ہے پھر واپس آ کر انھیں لیتا ہے۔ یہ دونوں سامان پیچھے رکھتے ہیں اور گاڑی میں سوار ہوتے ہیں۔ جو شہر سے نکل کر ایک صحرا کا راستہ لیتی ہے۔ یہ دونوں پریشان کہ ہم ملٹی نیشنل کمپنی میں کرنے آئے تھے یہ کہاں؟
خیر گاڑی ایک خیمے کے آگے رکتی ہے۔ حکیم کو اتارا جاتا ہے پھر صحرا پھر گاڑی کی دوڑ پھر ایک جگہ آ کے رک جاتی ہے۔ نجیب بھی اترتا ہے۔ یک و لق صحرا ایک تمبو اور کچھ نہیں ایک بدبو دار غلیظ شخص چارپائی پر جس نے صدیوں نہایا نہیں ہوتا۔ رات، بھوک اور حیرانی سے جب گزر جاتی ہے تو دن کو نجیب کی آنکھیں کھلتی ہے تو صحرا ہی صحرا بکریاں ہی بکریاں، بھیڑ اور اونٹوں کا ایک جہان۔
نجیب ملیالی کے علاوہ نہ کچھ سمجھتا ہے اور نہ بول پاتا ہے۔ عرب سے عرض کرتا ہے مجھے دودھ کی فیکٹری کا کہا گیا تھا یہاں تو بکریاں ہیں خیر بکریوں کے ساتھ نجیب کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ دوسرے ہی دن جب بکریوں کو پانی دینے کے بعد نجیب نہانے کا سوچتا ہے تو پہلا بالٹی انڈیلنے کے بعد پیٹ سن ہوجاتا ہے کیونکہ عرب بیلٹ کے ساتھ اس کا سواگت کرتا ہے، اب نجیب، ارباب بیلٹ اور اس کے آنسو اس کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ روز ایک مصیبت روز ایک نیا چیلنج کبھی بکریوں کو دھونے کا چیلنج، کبھی ان کو ریوڑ میں رکھنے کا جس میں نجیب کی ہاتھ بھی ٹوٹتی ہے جو ایک ہاتھ سے کام کرتا ہے کیونکہ دوسرا شخص بھاگ جاتا ہے (بعد میں نجیب کو اس کی ہڈیاں ملتی ہیں جو اسے خوفزدہ کرتی ہیں کہ ارباب نے اسے مارا ہے ) ۔
بھاگنے کی ایک ناکام کوشش نجیب خود بھی کرچکا ہے لیکن بھاگ نہیں پاتا۔ تنہائی اداسی اس کو بکریوں کے قریب رکھتا ہے وہ بکریوں کے نام اپنے محلے کے لوگوں کے ناموں پہ رکھتا ہے اور ان سے ہمکلام ہوتا ہے ایک بکری کا نام اپنے ہونے والے بیٹے نبیل کے نام پہ بھی رکھتا ہے جس کو بعد میں جب ارباب قصی کرتا ہے تو نجیب رو رو کر پاگل ہوجاتا ہے۔
نجیب ریوڑ چرانے کے دوران حیکم کے قریب بھی جاتا ہے دو تین سیکنڈ کے لئے اور جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے تاکہ وہ خوفناک تنہائی سے بچیں۔
ایک دن جب بڑے ارباب کی بیٹی کی شادی ہوتی ہے حکیم اور نجیب دونوں کے ارباب رات کو شادی کے لئے نکلتے ہیں تو ابراہیم خضری نام کا ایک سوڈانی ان کو لے کر نکلتا ہے۔
یہ یک و دق صحرا میں ساری رات بھاگتے ہیں، کبھی دوسرے باڑے میں کبھی رستے پر لیکن بھگنا اور خوب بھاگنا۔ دن نکلنے سے پہلے توڑا سستاتے ہیں پھر بھاگنا جب دو رات دو دن سوجے پیروں اور گھٹنوں سے بھاگتے ہیں تو پیاس ان کو نڈھال رکھتا ہے۔ صحرائی طوفانیں، سانپوں کے ریوڑ مشکلات در مشکلات پیدا کرتے ہیں لیکن حکیم پیاس کی شدت سے تڑپنے لگتا ہے اس کے منہ اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے وہ گرم ریت کھانے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے۔
نجیب اور خضری بھاگتے ہیں 5 دن ان کو ایک چوٹی سی پانی کی جوہڑ دکھائی دیتی ہے۔ جس میں پانی پیتے ہیں لیکن خضری رات کو سونے کے بعد غائب ہو چکا ہوتا ہے اور اسی اثنا نجیب کو دور سے گاڑیوں کی آوازیں بھی سننا شروع ہوتی ہیں۔
نجیب شام تک سڑک پر آتا ہے۔ بہت مشکلوں سے دوسرے دن اسے ایک عرب گاڑی میں سوار کر کے شہر لاتا ہے جہاں بھوک سے نڈھال وہ ایک ریستوران کے آگے بے ہوش ہوتا ہے۔ کنجیکا نام کا شخص تین چار مہینے اس کی دیکھ بال کرتا ہے۔ وہ اسے مشورہ دیتا ہے کہ خود کو پولیس کے حوالے کریں وہ آپ کو ملک بھیج دے گا۔
پولیس اسٹیشن میں پہنچنے پر بھی اس کی زندگی سے مشکلات ختم نہیں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی خدا اس پر مہربان ہوتا ہے اور وہ واپس ہندوستان چلا جاتا ہے۔ ایک دردناک ناول، جس میں روح داد بھی ہے اور سفر نامہ کی چاشنی بھی۔ ایک حیرت ناک ناول جو ملیالم زبان میں لکھا گیا اور مقامی یونیورسٹیوں میں پڑھایا بھی جاتا ہے۔ اس ناول کو پڑھنے کے بعد پانی، زبان اور الفاظ جیسی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو جی چاہتا ہے۔


