درد کی دوا کون ؟
بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے زرعی مصنوعات کی برآمد سے متعلق معاہدہ 17 جولائی کو ختم ہو گیا ۔خبر رساں ادارے اس بات کا دعوی کر رہے تھے کہ معاہدے میں توسیع کا فیصلہ آخری لمحات میں کیا جائے گا۔ روسی صدر پیوٹن نے 15 جولائی کو جنوبی افریقہ کے صدر رامافوسا کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا تھاکہ روسی اناج اور کھاد کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ روس کی نیوز ایجنسی نے بتایا کہ گزشتہ سال 22 جولائی کو معاہدے پر دستخط کے بعد سے روسی کھادوں سے بھرا کوئی بھی جہاز بحیرہ اسود کی بندرگاہ سے نہیں نکلا ۔ روس نے بارہا اس بات پر زور دیا تھا کہ اگر روسی زرعی مصنوعات اور کھادوں کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو روس اس بات پر غور کرے گا کہ آیا بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے زرعی مصنوعات کی برآمد سے متعلق معاہدے میں توسیع جاری رکھنا ضروری ہے یا نہیں۔
12 جولائی کو اقوام متحدہ کے پانچ اداروں بشمول اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ، اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے مشترکہ طور پر 2023 کے لیے دنیا میں فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن کی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 میں دنیا بھر میں 783 ملین افراد بھوک کا شکار رہے جو 2019 کے مقابلے میں 122 ملین زیادہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے پانچ اداروں نے خبردار کیا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو دنیا 2030 تک بھوک کے خاتمے کے پائیدار ترقیاتی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گی۔ اس سے قبل 7 جولائی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے دفتر سے بحیرہ اسود کے خوراک کے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان دو معاہدوں پر عمل درآمد کی وجہ سے، خوراک کی عالمی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور اس وقت یہ گزشتہ سال مارچ کی تاریخی بلند ترین سطح سے 23 فیصد کم ہیں۔اور بالآخر 17 جولائی کو یہ اہم معاہدہ ختم ہو گیا ۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 18 جولائی کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں بحیرہ اسود کے اناج منصوبے سے دستبرداری کے روس کے فیصلے پر افسوس ہے۔انہوں نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بحیرہ اسود اناج انیشی ایٹو کو ختم کرنے کے فیصلے کے ساتھ ، روس نے یوکرین کے زیر کنٹرول بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے خوراک ، سورج مکھی کے تیل اور کھادوں کی بلا روک ٹوک برآمد کو آسان بنانے کے اپنے عزم کو بھی ختم کردیاہے۔اس اقدام نے یوکرین کی بندرگاہوں سے 32 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ غذائی اجناس کے محفوظ راستے کو یقینی بنایا ۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے انسانی ہمدردی کی کارروائیوں میں مدد کے لئے 725،000 ٹن سے زیادہ ترسیلات کی ہیں، جس سے افغانستان، ہارن آف افریقہ اور یمن سمیت دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھوک سے نجات ملی ۔
اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں بحیرہ اسود کے اناج کا منصوبہ روس اور عالمی ادارے کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے ساتھ مل کر عالمی غذائی تحفظ کے لیے لائف لائن اور ایک پریشان حال دنیا میں امید کی کرن رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب تنازعات، آب و ہوا کی تبدیلی، توانائی کی قیمتوں اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے خوراک کی پیداوار اور دستیابی متاثر ہو رہی ہے، ان معاہدوں نے گزشتہ سال مارچ سے خوراک کی قیمتوں میں 23 فیصد سے زیادہ کمی لانے میں مدد کی تھی ۔یقیناً ان معاہدوں میں شرکت ایک انتخاب ہےلیکن ترقی پذیر ممالک میں جدوجہد کرنے والے لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ لاکھوں افراد کو بھوک کا سامنا ہے اور صارفین کو عالمی سطح پر زندگی گزارنے کے بحران کا سامنا ہے۔ روسی فیصلے کے اعلان کے فوری بعد گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہ بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کی تجدید کی ان کی تجویز پر توجہ نہ دیے جانے پر بہت مایوس ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ روسی خوراک اور کھاد کی مصنوعات کی غیر ملکی تجارت میں باقی رہنے والی کچھ رکاوٹوں سے آگاہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایک خط بھیجا جس میں بحیرہ اسود کے منصوبے کو زندہ رکھنے کی ایک نئی تجویز پیش کی گئی ۔”
روس اور یوکرین نے جولائی 2022 میں استنبول میں ترکی اور اقوام متحدہ کے ساتھ الگ الگ بحیرہ اسود اناج انیشی ایٹو پر دستخط کیے ، جس نے یوکرین کو بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اپنا اناج اور دیگر زرعی مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت دی۔ ایک متوازی معاہدے کے طور پر ، روس اور اقوام متحدہ نے روسی خوراک اور کھاد کی برآمدات کو آسان بنانے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
بحیرہ اسود اناج انیشی ایٹو ، جو ابتدائی طور پر 120 دنوں کے لئے درست تھا ، نومبر 2022 کے وسط میں مزید 120 دنوں کے لئے 18 مارچ ، 2023 تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد روس نے 17 مئی کو معاہدے میں صرف 60 دن کی توسیع پر رضامندی ظاہر کی۔دنیا یہ بات جانتی ہے کہ اسے درپیش موجودہ چیلنجز کا ذمہ دار کو ن ہے؟صرف ایک روس یوکرین تنازع نے دنیا کی معیشتوں اور سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ تنازع تا حال جاری ہے۔لیکن کتنی طاقتیں ایسی ہیں جو اس بات کا ادراک رکھتی ہیں کہ ان حالات میں جنگ نہیں بلکہ امن کا راستہ ہی واحد امید ہے۔امن ہی کا راستہ لوگوں کو بھوک ،افلاس ،غربت اور جنگ سے بچا کر خوش حالی کی جانب لا سکتا ہے۔افسوس یہ ہے کہ کئی تجربات کے بعد بھی آج دنیا دھڑے بازی کی سیاست اور مفادات کی جنگ میں یہ بھولی ہوئی ہے کہ کل کوئی برا وقت ان کے سامنے بھی آ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال گو کہ ایک عالمی صورتحال ہے لیکن اس سے ایک بار پھر اندازہ ہو تا ہے کہ دنیا کو اس وقت سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے کسی ایک غیر متنا زع اور طاقتور ادارے کی کتنی ضرورت ہے۔ایک ایسا معاہدہ جو دو ممالک کے درمیان تنازع کےوقت میں ہوا اور اس میں اقوام عالم کا ایک برا نمائندہ ادارہ ضمانتی رہا ،وہ بھی عالمی سیاست اور دنیا کو تقسیم کرنے کے نظریے کی وجہ سے ناکام ہوا۔آج اس معاہدے کے ختم ہو جانے پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکٹری اور صدر بھی افسوس کا اظہارکر رہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اتنا طاقتور اور غیر متنازع نہیں ہے کہ وہ دنیا کو بھوک سے بچانے کی اپنی کوششوں کا تسلسل بر قرار رکھ سکے۔یہ سوال بہر حال لازمی اٹھتا ہے کہ اگر ایک ادارہ دنیا کو جنگ ،بد امنی ،طاقتور ممالک کی طاقت اور بھوک و افلاس سے نہیں بچا سکتا اور کمزور ممالک اور عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتا تو ایسے ادارے اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کو اب شاید ایک اور معاہدے اور نظریے کی ضرورت ہے جس کا مقصد اقوام عالم میں برابری اور ان کی حفاظت یقینی بنانا ہو۔شاید یہی وجہ ہے کہ چین کی جانب سے پیش کردہ گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو سمیت دیگر سیکیورٹی انیشی ایٹوز کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔


